03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بہن کا رشتہ دینے کے ساتھ طلاق مشروط کرنے کی صورت میں والد کا رشتہ کرانا
84582طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

ایک شادی شدہ شخص نے کسی سے پشتو میں کہا " کہ تالا میں خپلہ خور درکڑہ نو پہ ما دی خزه طلاقہ ی"، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں نے آپ کو اپنی بہن کا رشتہ دیا تو میری بیوی مجھ پر طلاق ہو۔ اب اگر اس لڑکی کا نکاح  اس کا باپ اس شخص سے کرائے اور وہ بھائی کنارہ کشی اختیار کرے تو کیا اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ طلاق جائز کاموں میں سب سے ناپسندیدہ کام ہے؛ بات بات پر بیوی کو فوری یا مشروط طلاق دینا انتہائی غلط طرزِ عمل ہے، جس سے بچنا لازم ہے۔  

اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر مذکورہ شخص اپنی بہن کے اس رشتے میں ایسا کوئی کردار ادا نہ کرے جو اس رشتے پر اس کی رضامندی پر دلالت کرتا ہو، بلکہ والد خود اپنی بیٹی کا رشتہ کرائے تو اس کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

الدر المختار (3/ 341):

باب التعليق  ( هو ) لغة من علقه تعليقا، قاموس، جعله معلقا، واصطلاحا ( ربط حصول مضمون جملة بحصول مضمون جملة أخرى ) ويسمى يمينا مجازا.

الفتاوى الهندية (1/ 420):

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا، مثل أن يقول: لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       11/صفر المظفر/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب