| 84594 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
مفتی صاحب! مجھے میرے شوہر نے بہت عرصہ پہلے یہ بات بولی تھی کہ اگر تم مجھے کال، میسج کرو گی تو طلاق ہو جاؤ گی ،یہ بات تو پھر ختم ہو گئی (یعنی اس سے متعلق پھر مزید بات نہیں ہوئی)ابھی کل ہماری اس بات پہ بحث ہوئی،وہ مجھے اپنے لئے سونا بیچنے سے منع کر رہے تھے،پہلے انھوں نے مجھے اپنی زندگی کی قسم دی کہ نہیں بیچنا ،پھر انھوں نے کہا: تمہیں وہ فون والی بات یاد ہے؟ چلو میں تمہیں وہ ہی قسم دے دیتا ہوں،میں تمہیں وہی قسم دے رہا ہوں،اب تم چاہ کے بھی نہیں بیچ سکتی، پر اب وہ اللہ کی قسم کھا کہ کہہ رہے ہیں کہ میرا وہ مطلب نہیں تھا، اب میں یہ پوچھنا چاہ رہی ہوں کہ میں ان کے لئے سونا بیچوں تو کیا کوئی طلاق واقع ہو جائے گی؟ اور ہو گی تو کون سی؟مفتی صاحب میں نے اپنے شوہر کو سونا دے دیا ہے، میں نے انکو کہا: یہ میری طرف سے آپکا ہوا ،بس اتنا کہا،پھر کچھ دیر بعد انھوں نے پوچھا ایسی نئی چوڑیاں کتنے کی بنے گی؟ میں نے کہا 14 لاکھ کی،اس طرح بات کرنے سے کوئی طلاق تو نہیں ہوئی ؟پلیز جواب دینا آپ،نہیں تو میں سوچتی رہوں گی،ساتھ انہوں نے پوچھا اسکی پالش کی قیمت تو نہیں دیتے؟ میں نے کہا نہیں
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ "اگر تم مجھے کال، میسج کرو گی تو طلاق ہو جاؤ گی "اس جملے میں طلاق کو کال یا میسج کے ساتھ معلق کیا گیا ہے ،لہذا اگر شوہر نے کال یا میسج پر بیوی سے بات کی تو بیوی کو ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی،جس کے بعد اگر نکاح کو برقرار رکھنا ہے تو شوہر کو عدت کے اندر زبانی یا عملی طور پر رجوع کرنا لاز م ہے۔
2۔بیوی نے سونا فروخت نہیں کیا ہے ،بلکہ شوہر کی ملکیت میں دیا ہے، اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی ہے،بیوی کی ملکیت سے سونا نکلنے کے بعد آیندہ کے تمام امور کی نسبت شوہر کی جانب ہوگی.بیوی کو طلاق واقع نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
وفی الفتاوى الهندية (1/ 420):
وإذا أضافه(الطلاق) إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا۔
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
13/صفر1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


