03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
انسانی دودھ بینک کی شرعی حیثیت
84550جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

انسانی دودھ بنک کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو برائے مہربانی دلائل کے ساتھ واضح کریں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اسلام نے اس بات کی تو اجازت دی ہے کہ بچے کو بوقت ضرورت والدہ کے علاوہ کسی اور عورت کا دودھ پلایا جائے، تاہم چونکہ اس سے رضاعت کا رشتہ بھی قائم ہو جاتا ہے ،جس سے نکاح کے جائز اور نا جائز ہونے پر فرق پڑتا ہے، اس لیے اس مقصد کے لیے " دودھ بینک " قائم کرنا جائز نہیں، کیونکہ دودھ بینک قائم کرنے کی صورت میں ہر ہر عورت کا ڈیٹا محفوظ رکھنا ،اس کے دودھ کو الگ سے سنبھالنا اور پھر جس بچے کو وہ دودھ دیں اس کے اولیاء کو اس عورت کی معلومات فراہم کرنا ، یہ سب کام عملا بہت مشکل اور باعث حرج ہیں خاص کر ہمارے معاشرے کی نفسیات اور طرز عمل کے پیش نظر اس طرح کی تحقیق میں جانے کا کوئی خاص اہتمام  نہیں ہوگا ، نہ ادارے والے کریں گے اور نہ ہی عام معاشرے کے افراد ،جبکہ اس  طرح کے مکمل اہتمام کے بغیر دودھ بینک قائم کرنے سے یہ معلوم نہ ہوگا کہ  کس بچے نے کس خاتون کا دودھ پیا ہے اور اس طریقے سے رشتہ رضاعت کی پہچان انتہائی مشکل ہو جائے گی، اور حرام و حلال کا پتہ نہیں چلے گا۔ اس کے علاوہ بھی دودھ  بینک قائم کرنے میں  کئی مفاسد ہیں:

(1)اس طرح کے ملک بینک قائم کرنا جس میں انسانی دودھ کی خرید و فروخت ہوتی ہو ، تکریم انسانی کے بھی خلاف ہے، انسان کے کسی جزء کی خرید و فروخت عام اشیاء کی طرح جائز نہیں۔

(2)ایسی خواتین بہت کم ہوں گی جو اپنا دودھ تبرعاً بینک میں جمع کر وائیں ، اس لئے اس طرح کےدودھ بینک اگر قائم کر دیئے جائیں تو اس میں اس بات کا غالب احتمال ہے کہ یہ دودھ کی تجارت کا ذریعہ بن جائے ، اور جو خواتین تنگدست اور غربت کا شکار ہوں وہ رقم حاصل کرنے کی خاطر اپنی اولاد کو چھاتی سے دودھ پلانے کے بجائے اپنے دودھ کو مہنگے داموں بیچنے پر مجبور ہو جائیں اور اپنی اولاد کو حیوان کا یا مصنوعی سستا دودھ پلائیں۔

(3)اس طرح کے ملک بینک قائم کرنے میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ بعض وہ مائیں جو اپنے بچوں کو دودھ پلانے پر قادر ہوں لیکن سستی یا مصروفیت کی وجہ سے اپنے بچوں کو اس خیال سے دودھ نہ پلائیں کہ بچوں کو جس قدر خالص دودھ کی ضرورت ہے وہ تیار دستیاب ہے، بالخصوص وہ خواتین جو اونچے طبقہ سے تعلق رکھتی ہوں یا کسی جگہ ملازمت کرتی ہوں وہ اس بینک کی وجہ سے اپنی ذمہ داری کی ادئیگی میں کو تاہی کرنے لگیں گی۔

(4)اطباء کے کہنے کے مطابق بچہ کے ماں کی چھاتی سے برادر است دودھ پینے میں بھی فی نفسہ کچھ فوائدہیں، ظاہر ہے کہ مذکورہ بینک قائم کر دینے کی صورت میں اگر بچوں کو ماں کی چھاتیوں سے دور رکھا جائے تو ان فوائد سے محرومی ہو گی جو ماں اور بچہ دونوں کے حق میں مضر اور نقصان دہ ہے۔

(5)مزید تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ ان بینکوں میں جمع شدہ دودھ میں مائکروبز(جرثومے) بھی پیدا ہوجاتے ہیں،جو بسا اوقات مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔

لہذا بوقت ضرورت بچے کو دودھ پلانے کے لیے سادہ اسلامی طریقوں پر عمل کیا جائے جو درج ذیل ہیں:

(1) کسی دوسری عورت سے دودھ پلوایا جائے خواہ وہ اجرت پر پلائے یا بلا اجرت ۔ چنانچہ عرب معاشرے میں خاص کر اس کا رواج تھا، خود جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثوبیہ اور حضرت حلیمہ سعدیہ کا دودھ پیا اور اسلام کی تشریف آوری کے بعد بھی اس طریقے کو بر قرار رکھا گیا اور خود قرآن حکیم نے بھی اس طرف رہنمائی فرمائی چنانچہ ارشاد ربانی ہے:وإن أردتم أن تستر ضعوا أولادكم فلا جناح عليكم إذا سلمتم ما آتيتم بالمعروف (البقرہ: ۲۳۳) ترجمہ: اگر تم چاہو کہ دائیوں سے اپنے بچوں کہ دودھ پلواؤ تو بھی تم پر کوئی مضائقہ نہیں، جبکہ جو دینا مقرر ہو،بھلائی کے ساتھ انہیں ادا کرو۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہے: وان تعاسر تم فسترضع له أخرى (الطلاق: ٦) ترجمہ: اور اگر تم دونوں دشواری محسوس کرو تو کوئی دوسری عورت دودھ پلادے۔

(2) کسی حلال جانور جیسے : بکری وغیرہ کا دودھ پلایا جائے، آج کے دور میں بھی یہ طریقہ مفید و مؤثر اورمعمول بہ ہے۔

(3) کسی ماہر ڈاکٹر کی تجویز پر بچوں کو ڈبے کا دودھ پلایا جائے، آج کل دنیا میں ایسے بچوں کے لیےیہی طریقہ رائج ہے۔

یہ تینوں طریقے سادہ اور قابل عمل ہیں ،ان میں کوئی شرعی دشواری نہیں، جبکہ انسانی دودھ بینک میں بہت سی شرعی دشواریاں موجود ہیں، لہذا اس مقصد کے لیے ماؤں کے دودھ بینک " قائم کرنے جیسے خالص مغربی طریقوں سے مکمل گریز کیا جائے۔(ماخوذ از تبویب:65122/58

حوالہ جات

قرارمجمع الفقه الاسلامى الدولي بشأن بنوك الحليب28 ديسمبر، 1985:

أحكام الرضاع، بنوك الحليب

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيدنا محمد خاتم النبيين، وعلى آله وصحبه أجمعين.

قرار رقم: 6 (2/6)[1] بشأن بنوك الحليب

إن مجلس مجمع الفقه الإسلامي الدولي المنبثق عن منظمة المؤتمر الإسلامي في دورة انعقاد مؤتمره الثاني بجدة من 10-16 ربيع الآخر 1406هـ الموافق 22-28 كانون الأول (ديسمبر) 1985م، بعد أن عرض على المجمع دراسة فقهية، ودراسة طبية حول بنوك الحليب،

وبعد التأمل فيما جاء في الدراستين ومناقشة كل منهما مناقشة مستفيضة شملت مختلف جوانب الموضوع وتبين منها:

أولًا: أن بنوك الحليب تجربة قامت بها الأمم الغربية، ثم ظهرت مع التجربة بعض السلبيات الفنية والعلمية فيها فانكمشت وقل الاهتمام بها.

ثانيًا: أن الإسلام يعتبر الرضاع لحمة كلحمة النسب يحرم به ما يحرم من النسب بإجماع المسلمين. ومن مقاصد الشريعة الكلية المحافظة على النسب، وبنوك الحليب مؤدية إلى الاختلاط أو الريبة.

ثالثًا: أن العلاقات الاجتماعية في العالم الإسلامي توفر للمولود الخداج أو ناقص الوزن، أو المحتاج إلى اللبن البشري، في الحالات الخاصة ما يحتاج إليه من الاسترضاع الطبيعي، الأمر الذي يغني عن بنوك الحليب.

قرر ما يلي:

أولًا: منع إنشاء بنوك حليب الأمهات في العالم الإسلامي.

ثانيًا: حرمة الرضاع منها.

اسامہ مدنی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

12/ صفر/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسامہ بن محمد مدنی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب