84576 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
والد کی موجودگی میں بیٹا والد کی جائیداد میں شریک ہے یانہیں؟ اور بیٹا والد سے جائیداد تقسیم کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے یانہیں؟
والد صاحب کا یہ کہنا شرعاً کیسا ہے کہ زندگی میں میں کسی بھی بیٹے کو کچھ دینے کےلئے تیار نہیں ہوں،لہذا جس بیٹے نے بھی الگ ہونا ہےوہ محنت و مزدوری کر کے اپنا خرچہ خود برداشت کرے،فی الحال جائیداد میں سے کسی کوکچھ نہیں دیا جائے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
انتقال سے پہلے ہر شخص اپنی تمام جائیداد اور دیگر املاک کا تنہا مالک ہے اور اس میں تصرف کا اسے مکمل اختیار حاصل ہے، اس میں بچوں اور دیگر وارثوں کا کوئی حق نہیں اور نہ ہی کوئی اولاد اپنے والد سے اْس کی زندگی میں اپنے حصہ کا مطالبہ کرسکتی ہے، کیونکہ میراث کا تعلق آدمی کے مرنے کے بعد سے ہے،لہذا بیٹے کے اس مطالبہ کی شرعا کوئی حیثیت نہیں اور والد کے ذمے اس کے مطالبے کو پورا کرنا شرعا لازم نہیں۔
البتہ والد از خود اولاد میں جائیداد تقسیم کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں،اس صورت میں عام حالات میں سب اولاد(بیٹے،بیٹیاں) میں برابر برابر تقسیم کریں،کسی وجہ ترجیح کے بغیر کسی کو دوسروں سے زیادہ نہ دے۔
حوالہ جات
"درر الحكام شرح مجلة الأحكام " (3 / 210):
"كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير . انظر المادة ( 1197 ) . كما أنه لا يجبر من أحد على التصرف أي لا يؤمر أحد من آخر بأن يقال له : أعمر ملكك وأصلحه ولا تخربه ما لم تكن ضرورة للإجبار على التصرف ".
"البحر الرائق شرح كنز الدقائق ": (ج 20 / ص 110) :
"يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم، كذا في المحيط. وفي فتاوى وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
13/صفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |