| 84609 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ اپنے چھوٹے بچوں کو لقطہ دیا جاسکتا ہےلیکن بڑے بچوں کونہیں،اس کی تفصیل بتادیں اور ساتھ یہ بھی کہ کیا بعینہ یہی حکم سود کی رقم کا بھی ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
لقطہ ،فقیر ہونے کی صورت میں خود بھی استعمال کرسکتے ہیں اور اپنی نابالغ اولاد کو بھی دے سکتے ہیں،مالدار ہونے کی صورت میں خود استعمال نہیں کرسکتے، لیکن اگر اپنی بالغ اولاد کو دے تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ بالغ اولاد اگر فقیر ہےتو ان پر لقطہ خرچ کیا جاسکتا ہےاور اگر بالغ اولاد مالدار ہے تو ان پر لقطہ خرچ کرنا جائز نہیں،رہی بات سود کی رقم کی تو اسے خود استعمال کرنا تو جائز نہیں،خواہ یہ سود حاصل کرنے والا خود محتاج ہی کیوں نہ ہو،البتہ اپنی بالغ اولاد کو دے سکتے ہیں بشرطیکہ وہ محتاج ہوں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 279)
(فينتفع) الرافع (بها لو فقيرا وإلا تصدق بها على فقير ولو على أصله وفرعه وعرسه، إلا إذا عرف أنها لذمي فإنها توضع في بيت المال) تتارخانية. وفي القنية: لو رجى وجود المالك وجب الإيصاء.
حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 279)
(قوله: على فقير) أي ولو ذميا لا حربيا كما في شرح السير. قال في النهر: قالوا ولا يجوز على غني ولا على طفله الفقير وعبده، ولو فعل ينبغي أن لا يتردد في ضمانه (قوله: وفرعه) الضميرعائد إلى الغني المفهوم من قوله وإلا تصدق بها، فلا بد أن يراد بفرعه الكبير الفقير، لما علمت من أنه لا يجوز على طفل الغني ولو فقيرا.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۱۳.صفر۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


