03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٹوٹی کنگھی استعمال کرنے کاحکم
84615سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان)متفرّق مسائل

سوال

ٹوٹی ہوئی کنگھی کو استعمال کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ضرورت کے وقت ٹوٹی ہوئی کنگھی استعمال کرنا جائز ہے ،البتہ  اگر ٹوٹی کنگھی استعمال کرنے کی صورت میں زخم  ہونے کا اندیشہ ہوتوپھر  اس کےاستعمال سے اجتناب  کرنا چاہیے۔ٹوٹی کنگھی  استعمال کرنے سے متعلق عوام میں  جو یہ بات مشہور ہے کہ اس سےغربت  آتی ہے ،سراسر بے اصل ہے۔اس بارے میں ایک روایت بھی پیش کی جاتی ہے: "جس نے ٹوٹی ہوئی کنگھی استعمال کی ، اس پر اللہ تعالیٰ فقروفاقہ کے ستر دروازے کھول دیتے ہیں " ۔لیکن اس  روایت کو نقاد حدیث نے  من گھڑت قراردیا  ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث کسی صحیح سند سے  منقول نہیں ہے۔

حوالہ جات

ومنها: الأحاديث الموضوعة........ ومنها قولهم: " من كتب بقلم معقود، وتمشط بمشط مكسور، فتح الله تعالى عليه سبعين بابا من الفقر ".( الموضوعات للصغاني:40:42)

"‌من ‌كتب بقلم مقصور وتمشط ‌بمشط مكسور، فتح الله عليه سبعين بابا من الفقر.قال الصغاني موضوع". (كشف الخفاء ومزيل الإلباس2:/2576:272)

 محمد علی

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   14/صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد علی ولد محمد عبداللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب