| 84660 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
نکاح کے بعد لڑکے اور لڑکی نے کسی دوسرے شہر میں لڑکی کے بقول ایک دن اور ایک رات گزاری،اس کے بعد لڑکی کے گھر والے اسے اور اس لڑکے کو پکڑ کر گھر واپس لے آئیں اور لڑکا لکھ کر دیدے کہ میں نے اسے ہوش و حواس میں طلاق دی(لڑکی کے بقول) تو کیا اس طرح طلاق ہوگئی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
لڑکے نے اکراہ کے بغیر لکھ کرطلاق دی ہو توطلاق واقع ہوجاتی ہے،اگر آپ کا یقین یا غالب گمان ہے کہ لڑکی درست بات کہہ رہی ہے تو اس سے نکاح کرنادرست ہے۔
حوالہ جات
فتح القدير للكمال ابن الهمام (10/ 57)
قال (ولو أن امرأة أخبرها ثقة أن زوجها الغائب مات عنها، أو طلقها ثلاثا أو كان غير ثقة وأتاها بكتاب من زوجها بالطلاق، ولا تدري أنه كتابه أم لا. إلا أن أكبر رأيها أنه حق) يعني بعد التحري (فلا بأس بأن تعتد ثم تتزوج) ؛ لأن القاطع طارئ ولا منازع، وكذا لو قالت لرجل طلقني زوجي وانقضت عدتي فلا بأس أن يتزوجها.
الفتاوى الهندية (5/ 313):
ولو أن امرأة قالت لرجل: إن زوجي طلقني ثلاثا وانقضت عدتي، فإن كانت عدلة وسعه أن يتزوجها، وإن كانت فاسقة تحرى وعمل بما وقع تحريه عليه، كذا في الذخيرة.
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
15/ صفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


