03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی سے پہلے نکاح کے بارے میں تحقیق وتفتیش کاحکم
84661نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

لڑکی نے  دوسری شادی سے پہلے یہ معاملہ اپنے ہونے والے شوہر کو بتا دیا تھا، لیکن اس کے گھر والوں میں سے کسی نے اس معاملے کا تذکرہ تک نہیں کیا ،اس لڑکی کے دوسرے نکاح سے دو بچے بھی ہیں، اب شوہر کا اپنی بیوی سے فتوی کا مطالبہ ہے کہ ہمارا نکاح ہوا بھی یا نہیں؟  اس لڑکی کےپہلے نکاح اور دوسرے نکاح میں دس سال کا وقفہ ہے۔

لڑکی کا یہ کہنا  کس حد تک معتبر ہےکہ طلاق ہوئی تھی اور ہمارا نکاح ٹھیک ہے ، جبکہ وہ اپنے شوہر کے سامنے کسی کو گواہ کے طور پر پیش نا کرے۔

 شوہر کو یہ بھی نہیں پتا کہ اس لڑکی نے اس لڑکے کے ساتھ ہمبستری کی ہے یا نہیں ،کیا اس لڑکی کو اپنے دوسرے شوہر کو بتانا ہوگا کہ ہمبستری ہوئی یا نہیں ہوئی؟ کیا شوہر کا یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کے درمیان ہمبستری ہوئی یا  نہیں ؟ جبکہ  شادی کی پہلی رات کنوارے پن کا خون نا آیا ہو اور لڑکی کا کہنا ہو کہ آپ بے فکر  رہیں میں کنواری ہوں۔

 شوہر نے اس سے پوچھا کہ جو تحریر اس نے پڑھی تھی جس میں اس لڑکے نے طلاق لکھ کر دی تھی ،آیا اسی کے ہاتھ کی تحریر تھی؟ آیا اس کے بعد لڑکے نے اس سے رابطے کی کوشش کی یا نہیں یا لڑکی نے رابطے کی کوشش کی؟تو شوہر کو کوئی واضح جواب نہیں ملا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پہلے نکاح سے طلاق کے بعد دوسرے نکاح تک دس سال کا دورانیہ ہے،لڑکی طلاق اور عدت گزارنے یعنی دوسرے نکاح کے صحیح ہونے کا کہہ رہی ہے،شوہر لڑکی کی بات سے مطمئن ہوتو نکاح درست ہے۔ہمبستری کے بارے میں بھی لڑکی کی بات پر یقین کرنے کی گنجائش ہے،ویسے بھی طلاق واقع ہونے کے بعد اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ہمبستری ہوئی تھی یا نہیں ،عدت کے بعددوسرا نکاح درست ہوجاتا ہے،طلاق کی تحریر پڑھنا یا اس لڑکے سے دوبارہ رابطہ کی کوشش کرنا عورت کے لیے ضروری نہیں ہے،اس لیے اس بارے میں سختی نہیں کرنی چاہیے۔

حوالہ جات

وفی الھدایة (4/ 104):

قال (ولو أن امرأة أخبرها ثقة أن زوجها الغائب مات عنها، أو طلقها ثلاثا أو كان غير ثقة وأتاها بكتاب من زوجها بالطلاق، ولا تدري أنه كتابه أم لا. إلا أن أكبر رأيها أنه حق) يعني بعد التحري (فلا بأس بأن تعتد ثم تتزوج) ؛ لأن القاطع طارئ ولا منازع، وكذا لو قالت لرجل طلقني زوجي وانقضت عدتي فلا بأس أن يتزوجها

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

15/ صفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب