| 84420 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسائل کے بارےمیں کہ
میرا اور میری بیوی کے درمیان 5 اور 6 اپریل کے دنوں میں معمولی تلخ کلامی ہوئی اور میری بیوی نے میرے گھر میں شور شرابہ شروع کر دیا اور میری کوئی بھی بات ماننے سے انکار کر دیا تو میں نے اپنے سسرال والوں کو اس صورتِ حال سے آگاہ کیا اور کہا کہ بیوی کے بھائی کو بھیج دیں جو اس کو ساتھ لے کرجائے کہ رمضان کا مہینہ ہے اور یہ یہاں شور شرابہ کر رہی ہے، عید کے بعد بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔7 اپریل کو میرے سسرال والے پانچ افراد ( تین مرد اور دو خواتین ) 5 بجے صبح میرے گھر پر آئے اور بحث و تکرار شروع کر دی۔ ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہوا، تو میں نے سارا معاملہ بیان کر دیا کہ میری بیوی نے میرے ساتھ بد تمیزی کی ہے ، معمولی سی بات پر بھی شور شرابہ کر تی ہے اور میری کوئی بات نہیں مانتی ہے اور میرے کام والی جگہ پر بھی میرے ملازمین کی موجودگی میں بھی بد تمیزی کرتی ہے۔ ان صاحب نے مجھ سے پوچھاکہ تم اسے رکھ سکتے ہو میں نے جواب دیا کہ "میں نافرمان بیوی کو نہیں رکھ سکتا" اس پر میرے والد نے کہا کہ آپ کچھ وقت دے دیں اور عید کے بعدجرگہ کے فیصلے کے مطابق بات کر لیتے ہیں، پھر دوبارہ ان صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم اسے رکھ سکتے ہو؟ تو میں نے پھر وہی جواب دیا کہ "میں اس صورت حال میں تو نہیں رکھ سکتا" پھر کہاگیا کہ اس صورتحال میں جہاں بد تمیزی ہو، نافرمانی ہو ، شور شرابا ہو ، اس صورتحال میں رکھ سکتے ہیں؟آخر میں شوہر نےبولا : میں تو نہیں رکھ سکتا، یہ سارا مکالمہ بیوی کی نافرمانی کے تناظر میں ہو رہا تھا اور میرے جوابات میں بیوی کو طلاق دینے کی کوئی نسبت شامل نہیں تھی اور میرے علم کے مطابق نہیں رکھ سکتا کا مطلب میں طلاق کا نہیں لے رہا تھا۔ میرا نہ رکھنے سے مراد اس لڑائی جھگڑے والی صورت حال میں نہ رکھنا تھاکہ مزید کوئی لڑائی جھگڑا نہ ہو جائے ،چونکہ میری بیوی میرا حکم بھی نہیں مان رہی تھی اور مسلسل گھر میں شور شرابا کر رہی تھی، میرے کام کی جگہ پر بھی آکر میرے ملازمین کی موجودگی میں بد تمیزی کرتی تھی۔ میرے والدین کے ساتھ بھی بد تمیزی کرتی تھی اور مسلسل اپنے والدین سے رابطے میں تھی تو اس صورتِ حال میں اس کے والدین کو کہا تھا کہ اسے لے جائیں اور سمجھائیں۔ بیوی کو نہ رکھنے سے مراد طلاق دینا نہیں تھا۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ یہ باغی ہے اور میری بات نہیں سنتی۔ لڑائی جھگڑے کے دوران جو الفاظ بولے مثلاً: میں نافرمان بیوی کو نہیں رکھ سکتا، اس کو لے جائیں یہ باغی ہے و غیر ہ ان سے میری مراد طلاق دینا نہیں تھا اور نہ ہی میں نے طلاق کی نیت سے یہ الفاظ بولے یہ محض اس مجلس میں ہونے والی بحث و تکرار کے دوران میں نے بھی بولےوسوال کرنے والے نے یہ نہیں پوچھا کہ کیا تم اسے طلاق دینا چاہتے ہو؟ طلاق کے لیے صریحا بولے جانے والے الفاظ میں سے کوئی بھی لفظ ہماری گفتگو میں نہیں آیا چونکہ یہ مذاکرہ طلاق نہیں تھا اور نہ ہی اس سے پہلے شوہر سے کسی نے طلاق کا مطالبہ کیا، بلکہ لڑائی جھگڑے کو حل کرنے کے لیے بات چیت ہو رہی تھی،اسی دوران سوال کرنے والے صاحب کو میں نے اکیلے کمرہ میں بولا کہ کچھ وقت لے لیں، بیوی اپنے گھر عید کے لیے جانا چاہتی ہے ، بیوی کے والدین نے میرے گھر اگر ہنگامہ آرائی کی ہے، تو اس صورتحال میں رہنا ممکن نہیں ہے صور تحال بہت گرم ہے، عید کے بعد چار لوگوں میں بیٹھ کر بات کر لیں گے، جو بھی فیصلہ ہو گا قبول ہو گا،اب سوال یہ ہےکہ
مفتی صاحب! جو الفاظ میں نے بولے ( طلاق کی نیت کے بغیر ) کیا ان سے طلاق تو نہیں ہو گئی؟ میں اس کشمکش سے دوچار ہوں، شریعت کے مطابق میری راہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں جب نہ آپ کی نیت طلاق کی تھی اورنہ ہی مذاکر ہ طلاق تھا تو آپ کے ذکرکردہ جملوں سے کوئی طلاق نہیں ہوئی ۔
حوالہ جات
وفی الشامیة:
(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال)، وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب.
(قوله: وهي حالة مذاكرة الطلاق) أشار به إلى ما في النهر من أن دلالة الحال تعم دلالة المقال قال: وعلى هذا فتفسر المذاكرة بسؤال الطلاق أو تقديم الإيقاع، كما في اعتدي ثلاثاً وقال قبله المذاكرة أن تسأله هي أو أجنبي الطلاق (3/296،297، باب الکنایات، ط: سعید)
وفی المبسوط للسرخسی :
(قال): ولو قال: أنت مني بائن أو بتة أو خلية أو برية، فإن لم ينو الطلاق لايقع الطلاق؛ لأنه تكلم بكلام
محتمل. (6 / 72،باب ما تقع به الفرقة مما يشبه الطلاق،ط؛دار المعرفة – بيروت)
وفی فتاوی دارالعلوم دیوبند علی الشبکة:
میں اپنی بیوی کو نہیں لاوٴں گا، اس کو نہیں رکھنا ہے، اسے امی کے گھر رہنے دو، میری طرف سے یہ رشتہ ختم سمجھو، بلا نیت طلاق ان چاروں جملوں کے کہنے سے نکاح پرکوئی اثر نہیں ہوا، یعنی ان جملوں سے کوئی طلاق واقع نہ ہوئی.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
24/01/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


