| 84627 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
دوبھائی بنام اسماعیل اورعمر کا انتقال ہواہےاوروہ دونوں غیر شادی شدہ تھے،ان کےورثہ میں سے صرف یہ رشتہ دار زندہ ہیں:ایک چچازاد بھائی،دو ماموں زاد بہنیں زرین اورپروین اورایک خالہ زادبھائی صدیق،اب پوچھنایہ ہے کہ
مرحومین کی میراث مذکورہ رشتہ داروں میں سے کس کو ملے گی؟ اورکیا ماموں زادبہنوں زرین اورپروین اورخالہ زاد بھائی صدیق کو بھی میراث میں حصہ ملے گا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومین کے کفن دفن کے متوسط اخراجات ،قرض اوروصیت(اگرکی ہو) کی علی الترتیب ادائیگی کے بعد اگر مرحومین کےانتقال کے وقت صرف یہی ورثاء ہوں جوسوال میں مذکورہیں تومذکورہ پورا ترکہ مرحومین کے چچازاد بھائی کو ملے گا اوراس میں ماموں زاد بہنوں زرین اور پروین اورخالہ زادبھائی صدیق کا کوئی حصہ نہیں ہوگا،کیونکہ جب عصبہ زندہ ہوتو ذوی الارحام میراث سےمحروم ہوتے ہیں۔
حوالہ جات
قال في كنز الدقائق :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." (ص:696, المكتبة الشاملة)
المبسوط للسرخسي (29/ 174) :
هذا الباب لبيان من هو عصبة بنفسه وهو الذكر الذي لا يفارقه الذكور في نسبة إلى الميت فأقرب العصبات الابن، ثم ابن الابن، وإن سفل، ثم الأب، ثم الجد أب الأب، وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب، ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب، ثم العم لأب وأم، ثم العم لأب، ثم ابن العم لأب وأم، ثم ابن العم لأب ثم عم الأب لأم، ثم عم الأب لأب، ثم ابن عم الأب لأب وأم، ثم ابن عم الأب لأب، ثم عم الجد هكذا والأصل فيه قوله - عليه الصلاة والسلام - «ما أبقت الفرائض فلأولى رجل ذكر» معناه فلأقرب رجل ذكر والابن أقرب إلى الميت من الأب لأن الابن تفرع من الميت فالميت أصله والأب تفرع منه الميت فهو أصل له واتصال الفرع بالأصل أظهر من اتصال الأصل بالفرع.
المبسوط للسرخسي (30/ 6) :
ثم ذوو الأرحام في الحاصل سبعة أصناف صنف منهم أولاد البنات والصنف الثاني بنات الإخوة وأولاد الأخوات والصنف الثالث الأجداد الفواسد والجدات الفاسدات والصنف الرابع العم لأم والعمة لأب وأم أو لأب أو لأم والخال والخالات والصنف الخامس أولاد هؤلاء والصنف السادس أعمام الأب لأم وعمات الأب وأخوال الأب وخالات الأب والصنف السابع أولاد هؤلاء.
المبسوط للسرخسي (29/ 177):
تقديم العصوبة على ذوي الأرحام ثابت بالنص والإجماع.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
16/2/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


