03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہرکے اپنی بیوی  کوبہن کہنےاور گھر سے نکلنے پرطلاق  کے کہنے    کا حکم
84759طلاق کے احکامظہار )بیوی کو ماں یا بہن کے ساتھ تشبیہ دینے( کے احکام

سوال

میری بہن  قسم اٹھاکر کہتی ہے کہ شوہر نے مجھے ایک دفعہ بہن کہا،اوردو دفعہ کہا کہ اگر گھر سے نکلی تو طلاق ہوگی، اب شوہر دونوں باتوں سے انکاری ہے ۔میاں بیوی دونوں اپنے اپنے دعویٰ پر  قسم اٹھاتے ہیں، بہن کہتی ہے کہ اس نے طلاق دی ہے، جبکہ شوہر کہتا ہےکہ یہ  مجھ پر الزام ہے۔ بہن کے بقول وہ نماز  نہیں پڑھتا اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں گستاخانہ باتیں بھی کرتا ہے، جبکہ میری بہن دین کی بنیادی سمجھ رکھتی ہے اور مدرسے سے فارغ التحصیل بھی ہے ۔

وضاحت:سائل نےاستفسار پر وضاحت کی کہ  میری بہن کی شادی کو ابھی  آٹھ ماہ ہوئے ہیں،ان  کے بقول شروع سے ہی شوہرکاچھوٹی چھوٹی باتوں پر تنگ کرنااور غصہ سے پیش آنا روز کا معمول ہے،ایک باروہ  ویڈیو کال پرگروپ میں بات کرنا چاہتےتھے ،لیکن میری بہن منع کررہی تھی،اس پر شدتِ بحث میں شوہر نے کہا  کہ تم مجھ پر ایسی ہو جیسے میری بہن مجھ پرحرام ہے، اس  کے دو ماہ بعد طلاق کے بارے میں بھی شوہر نےدو مختلف مواقع میں،فون پر   غصہ سے  کہا کہ اگر گھر سے باہر قدم رکھا تو طلاق ہوگی،جس پر اس (بہن) کی ساس نے،اس کے ابو اور ماموں کے سامنے طلاق کی گواہی بھی دی تھی، لیکن  بعد میں وہ مکر گئی ۔بقول بہن اُس وقت شوہراس بات پر  تنگ کررہا تھا کہ آپ کے والدین نے مجھے جلدی رشتہ نہیں دیاتھا ،اس لیے میں تمہیں اسی  طرح تنگ کروں گا۔بہر حال شوہر کے یہ الفاظ کہنے  پر دونوں بار میری بہن گھر سے نکلنے سے رک گئی تھی ،لیکن بعدمیں  وہ   شدید بیمار ہوئی تو  ساس اسے ہسپتال  لے گئی، جب  وہ بہتر ہوئی تو اس نے شوہر کی بات یاد آنے پر  ساس کو یاددلایا ، ساس نے کہا کہ  میں تو بھول گئی تھی۔

شوہر  ویسے تو پچھلے دس سال سے ملائیشیا میں رہتا ہے،لیکن  بہن کے گھر سے نکلنے کےتین مہینے بعدوہ واپس آیا تو دو مقامی علماءکرام نے  شوہر اور بیوی کے بیانات سنے ،انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ قانونی طور پر تو نکاح ختم نہیں ہوا،مگر بیوی حتی الامکان شوہر سے ازدواجی تعلق نہ  رکھےاور خلع لے کر علیحدہ ہوجائے،اگر شوہر ازدواجی تعلق میں زبردستی کرے تو وہی گناہگار ہوگا،بیوی پر کوئی گناہ نہیں۔ چنانچہ    میری بہن شوہر سے الگ ہے،اور واپس  شوہر کے پاس جانے کوبھی تیارنہیں ہے،اسے شوہرکے بہن کہنےاورطلاق دینے کا  یقین ہے،اور اب ہم نے خلع کےلیے درخواست بھی دے دی ہے۔ نیزچونکہ  سائل بذات خود اس فیصلے میں موجود نہ تھے اور فیصلے کی تفصیلات بھی لکھی نہیں گئیں،اس لیے سائل سے مقامی علماء کرام کے فیصلے کے حوالے سے صرف اتنی بات معلوم ہو سکی کہ فیصلے کی مجلس میں بیوی کے پاس شوہر کے اسےبہن کی طرح اپنے اوپرحرام کہنے اور گھر سے نکلنے پر طلاق کا کہنےکےدعویٰ پر گواہ نہیں تھے، اور فیصلے کے وقت شوہر سے بھی اس کے دعویٰ پر کوئی  حلف نہیں لیا گیا۔                                                                                                                                      

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال اور اس سے متعلقہ وضاحت میں بتائی گئی تفصیل اگر درست ہےتو اس کے مطابق چونکہ بیوی کو شوہر کے شدتِ بحث میں  اُسے"  تم مجھ پر ایسی ہو جیسے میری بہن مجھ پرحرام ہے "کہنے،اور دو   مختلف مواقع پرغصے کی حالت میں " اگر گھر سے باہر قدم رکھا تو طلاق ہوگی "کہنے کا یقین ہے،مگرقانونی طور پر اس کا دعویٰ ثابت نہیں ہوسکتا کہ اس کے پاس اپنے دعویٰ پر دو گواہ موجود نہیں ہیں،جیساکہ مقامی دو علماء کرام  کو حَکَم ماننے کی صورت میں ان کی مجلس میں وہ دوگواہ پیش نہیں کرسکی،لیکن اس کے باوجود بھی  بیوی کے حق میں اس کا یہ دعویٰ  دیانتا معتبر ہے۔

 اس لیےشوہر کی پہلی بات میں اس کی نیتِ طلاق معلوم نہ ہونے کی وجہ سے فقہی طور پرراجح قول کے مطابق  ظہار واقع ہوا (ورنہ ایسے الفاظ میں نیتِ طلاق سے طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے،جوکہ حرمت کے حکم میں ظہار سے بڑھ کر ہے)، جبکہ دوسری بات یعنی شوہر کا دو مختلف مواقع پر بیوی کو  گھر سے باہر نکلنے پر طلاق کا کہنا فقہی لحاظ سے  یمینِ مطلق ہے، اور چونکہ بیوی کو  شوہر کے  دو مختلف مواقع میں الگ الگ طور پر اس طرح  کہنے کا یقین ہےتو  ان میں سے ہر ایک مستقل یمین ہے،اس لیے جب بیوی گھر سے باہر نکلی توہرایک  یمین کی شرط پائے جانے کی وجہ سےاسے دیانتا دو طلاقیں واقع ہو گئیں،اور بحیثیتِ مجموعی ایک ظہار اور دو طلاقوں کےساتھ بیوی شوہر پر حرام ہوگئی۔

لہٰذا اگر شوہر  عدت کے اندر اندران دوطلاقوں سے رجوع کرلے، یا عدت پوری ہوچکی ہو تو مہرِجدید کے ساتھ دوبارہ نکاح کرلے،اور اس کے علاوہ   کفارۂ ظہار بھی ادا کرے تو  بیوی اس کے لیے حلال ہوسکتی ہے، اس صورت میں آئندہ کے لیے اس کے پاس صرف ایک طلاق کاحق باقی رہےگا،لیکن اگر شوہر ایسا نہیں  کرتاتو بیوی شوہر کے لیے بدستور حرام رہے گی،چنانچہ اس صورت میں بیوی کو خلع لینے کی بھی ضرورت نہ ہوگی،اور عدت مکمل ہونے پرکسی  دوسری جگہ نکاح کرنے کا بھی اختیار ہوگا۔

باقی کفارۂِ ظہار  کی تفصیل یہ ہے کہ شوہرکفارے کی نیت سےرمضان کے علاوہ مسلسل  دو ماہ (دو قمری مہینےیا   ساٹھ دن)  روزے  رکھے، اگربڑھاپے یا کسی مستقل بیماری کی وجہ سے اس کی  استطاعت نہ ہو تو ساٹھ مساکین (مستحقین زکوة افراد) کو صبح وشام کھانا کھلائے،یا ساٹھ مسکینوں میں سے ہرایک کو سوا دو کلو گندم یا اس کی  قیمت کے حساب سے نقدی کا مالک بنا دے ،یاد رہے کہ مساکین کو کھانا کھلانا یا نقدی دینا اسی وقت معتبر ہو گا جب دو ماہ روزے رکھنے پر قدرت نہ ہو،نیز روزے مکمل ہونے یا مساکین کو کھانا کھلانے سے پہلے  بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کرنا ہرگز جائز نہیں، کیونکہ قرآن کریم کی سورہٴ مجادلہ میں اس سے صراحتاً منع فرمایا گیا ہے، لہذا روزوں کے درمیان میں صحبت   کرنے کی صورت میں ازسرِ نو ساٹھ روزے رکھنا ضروری ہوں گے،اور اس گناہ پر توبہ و استغفار بھی لازم ہوگا۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 265،266):

الظهار كان طلاقا في الجاهلية فقرر الشرع أصله ونقل حكمه إلى تحريم موقت بالكفارة غير مزيل

للنكاح...ولو قال أنت علي مثل أمي أو كأمي يرجع إلى نيته...وإن لم تكن له نية فليس بشيء  عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله لاحتمال الحمل على الكرامة وقال محمد رحمه الله يكون ظهارا لأن التشبيه بعضو منها لما كان ظهارا فالتشبيه بجميعها أولى وإن عنى به التحريم لا غير فعند أبي يوسف رحمه الله هو إيلاء ليكون الثابت به أدنى الحرمتين وعند محمد رحمه الله ظهار لأن كاف التشبيه تختص به." ولو قال أنت علي حرام كأمي ونوى ظهارا أو طلاقا فهو على ما نوى " لأنه يحتمل الوجهين الظهار لمكان التشبيه والطلاق لمكان التحريم والتشبيه تأكيد له وإن لم تكن له نية فعلى قول أبي يوسف رحمه الله إيلاء وعلى قول محمد رحمه الله ظهار والوجهان بيناهما ".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:3/ 470):

(وبأنت علي حرام كأمي صح ما نواه من ظهار، أو طلاق)...وفي التتارخانية عن المحيط: وإن نوى التحريم لا غير صحت نيته...قال الخير الرملي: وإذا قلنا بصحة نية التحريم يكون إيلاء عند أبي يوسف، وظهارا عند محمد. وعلى ما صحح فيما تقدم يكون ظهارا على قول الكل، لأنه تحريم مؤكد بالتشبيه، وإنما ذكرنا ذلك لكثرة وقوعه في ديارنا. اهـ. قلت: وفي كافي الحاكم: وإن أراد التحريم ولم ينو الطلاق فهو ظهار. اهـ.

 الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 244):

وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط، مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق ،وهذا بالاتفاق؛ لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا .   

امداد الاحکام،مکتبہ دارالعلوم کراچی(2/638،664):

حَکَم پر قضاء کا اظہار واجب ہے۔فتوی دیانت،بوقتِ قضا ظاہر کرنا واجب نہیں ،بلکہ خلافِ حکمِ قضاء ہے۔دیانت وقضاء

کا تزاحم:مسائلِ دیانت فقہ کی اصطلاح میں ان مسائل کو کہتے ہیں،جن میں انفرادی حکم بتایا  جائے،اور قضاء میں نحن نحکم بالظاھر کے قاعدہ کے مطابق فریقین کو اجتماعی حیثیت سے حکمِ شرعی کا پابند کیا جاتا ہے،ان دونوں حکموں میں کبھی تزاحم نہیں ہوتا ہےاور کبھی ہوتا ہے،مثلا کسی نے رویت ہلال ...اور تزاحم کی صورتوں میں سے زیرِ بحث حادثہ بھی ہے،جس میں شوہر حلفا ایقاعِ طلاق سے انکار کرتا ہے،اور زوجہ حلفا بیانِ طلاق کرتی ہے...ان الحَکَم ادنیٰ منزلۃ  من القاضی؛لاقتضاء حکم علیٰ من رضی بحکم وعموم ولایۃ القاضی...جب ظاہر میں بھی فیصلۂِ حکم کی مخالفت جائز ہےتو دیانتا فیمابینہ وبین اللہ بدرجہ اولیٰ جائز ہے،پس عامۂِ مسلمین نہ انکارِ زوج کی وجہ سے مدعیہ طلاقِ ثلاث کے نکاح سے ممنوع ہوسکتے ہیں،نہ فیصلۂِ حکَم کی وجہ سے۔)البتہ خود قاضی فیصلہ کرےتو اس کی ولایت عام ہونے کی وجہ سے پھر ظاہر میں سب مسلمانوں کو اس کا فیصلہ ماننا پڑے گا۔)

الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 266):

وكفارة الظهار عتق رقبة فإن لم يجد فصيام شهرين متتابعين فإن لم يستطع فإطعام ستين مسكينا " للنص الوارد فيه فإنه يفيد الكفارة على هذا الترتيب.قال: " وكل ذلك قبل المسيس "وهذا في الإعتاق والصوم ظاهر للتنصيص عليه وكذا في الإطعام لأن الكفارة فيه منهية للحرمة فلا بد من تقديمها على الوطء ليكون الوطء حلالا.

  محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

   دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 20/صفر/1446ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب