| 84731 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں ۔ میرا نام وجاہت اللہ ہے ۔کینیڈا کی ریاست "سری " میں اپنے والدین کے ساتھ رہائش پذیر ہوں ۔لیکن کچھ عرصہ پہلے میرے والد ہمیں چھوڑ کر "فن لینڈ "مشفٹ ہو گئے ہیں ۔ لیکن آتے رہتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ کچھ ماہ قبل مجھے اپنے والدکے پرانے دستاویزات (Documents) میں سے تین دستا ویزات ایسے ملے جو طلاق سے معلق تھے ،جو آج سے 16 سال پہلے کےتھے ،جس میں میرے والدنے میری والدہ کو صراحتا تین طلاق دیں ہیں ۔اور اس عمل میں شریک گواہان میرے دادا اور دادی خود تھے ،جن کے اس (affidavid) پر باقاعدہ دستخط ہیں اور صراحتا اجازت دی گئی تھی کہ یہ بیرون ملک شادی کیلئے آزاد ہے ۔اُن دنوں میرے والدکسی اہم کام سے پاکستان آئے تھے اور پھر ان کو "cyprus"جانا تھا اور وہاں اُنہوں نے شادی بھی کی ہے یہ دستاویزات باقاعدہ میرے علاقہ کی یونین کونسل سے جاری کردہ تھے ۔ اب اس میں ا یک احتمال یہ ہے کہ شاید انہوں نے باہر شادی کرنے کیلئے قانون کو دھوکہ دیا ۔ کیونکہ جب کچھ دن قبل میں نے NADRA سے اس کی تصدیق چاہی تو اُن کے ریکارڈ میں میرے والدین ابھی بھی میاں بیوی ہیں 16 سال سے دونوں میاں بیوی کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔
ایک اہم بات یہ کہ آج سے چو بیسں سال قبل جب میں ایک سال کا تھا اس میرے والد نے میری والدہ کو ایک طلاق دیا تھااور میرے والدین کا شروع سےکچھ اچھا تعلق بھی نہیں رہا۔ اس عمل کے متعلق (تین طلاقوں کے حلف نامہ کا )میری والدہ ،مجھے اور میری والدہ کے خاندان میں کسی کو علم نہیں۔ والد کی طرف دادا دادی کے علاوہ کس کو علم ہے میں نہیں جانتا۔
میں یہ دستاویزات ساتھ Attach کرتا ہوں تاکہ آپ کو میرا معاملہ دیکھنے میں آسانی ہو ۔
(اس معاملے کے علاوہ بھی میں اور والدہ ان سے علیحدگی ہی چاہتے ہیں )
سوال:
شرعی اعتبار سے میرے والدین کیلئے ساتھ رہنے کی کوئی گنجائش باقی ہے؟
ان دستاویزات کا شرعی اور قانونی حکم کیا ہے ؟
اس عمل میں کون گناہ گار ہوگا ؟
کیا ان سے علیحدگی کے لیے دوبارہ طلاق کا مطالبہ کرنا ہو گایا یہ دستا ویزات کافی ہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جس طرح زبانی طور پرطلاق واقع ہوتی ہے اسی طرح تحریری طور پر بھیطلاق واقعہوتی ہے ۔ سوال کے ساتھ منسلکہ اسٹامپ پیپر میں تین طلاق کی تصریح مذکور ہے ۔ بشرط صحت سوال اگر آپ کے والد نے آپ کی والدہ کو تحریری طور پر تین طلاقیں دی ہیں اور اس پر آپ کے والد کے دستخط بھی ہیں اور اس طلاق پر آپ کے دادا اور دادی کو گواہ بھی بنایا ہے ۔لہذا آپ کے والد کا تحریری طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے تین طلاقیں واقع ہو کر آپ کے والدین کے درمیان سولہ سال قبل حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اورآپ کے والدین کے درمیان نکاح ختم ہو چکا ہے، اب رجوع یا دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا۔
تین طلاقوں کے بعد آپ کے والدین کیلئے ساتھ رہنے کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ۔ ان دستاویزات کے ہوتے ہوئے دوبارہ طلاق کے مطالبے کی بھی ضرورت نہیں۔ طلاق چونکہ سولہ سال پہلے واقع ہو چکی ہے اور اس کے با وجود آپ کے والدین میاں بیوی کی طرح ساتھ رہ رہے تھے تو اگر آپ کی والدہ کو ان طلاقوں کا علم نہیں تھا تو اس صورت میں صرف آپ کے والد گناہ گار ہوں گے ۔ لیکن اگر آپ کی والدہ کو ان تین طلاقوں کا علم تھا لیکن اس کے باوجود میاں بیوی کی طرح ساتھ رہ رہے تھے تو اس صورت میں دونوں گناہ گار ہوں گے ۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261)
حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عنعائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»
صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5264)
وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.
الفتاوى الهندية (1/ 378)
(الفصل السادس في الطلاق بالكتابة) الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير موسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا وهو على وجهين مستبينة وغير مستبينة فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراءته ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.
عطاء الر حمٰن
دارالافتاءجامعۃالرشید ،کراچی
20/صفر المظفر/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عطاء الرحمن بن یوسف خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


