03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پٹرول پمپ کے مالک کا پٹرول کی خریداری کے لیے مرابحہ مؤجلہ کا حکم
84712خرید و فروخت کے احکاممرابحہ اور تولیہ کا بیان

سوال

سوال طلب امر یہ ہے کہ بیع مرابحہ مؤجلہ کے سلسلے میں زیر نظر شرعی رہنمائی درست ہے؟اور کیا  فریقین کے مابین کی گئی اقرار نامے کی صورت زیر نظر شرعی رہنمائی کے مطابق ہے؟

شرعی رہنمائی:   

فریق اول فریق دوم کو مبلغ لاکھ روپے ( ر اس المال) اپنی نیابت میں پٹرول اور ڈیزل کی خریداری کیلئے دے گا۔ فریق دوم فریق اول کے شرعی وکیل کے طور پر پٹرول اور ڈیزل (مال) کی خریداری کرے گا اور اپنے پیٹرول پمپ پر بطور وکیل کے ان کا قبضہ حاصل کرے گا۔ اس مرحلے پر خریدا ہوامال فریق اول کی ملکیت میں ہو گا اور اس کے تمام تر حقوق اور ضمانات بھی اسی کے ہوں گے۔ البتہ فریق دوم بطور امین کے اس بات کا پابند ہو گا کہ مال کی حفاظت کا حتی الا مکان انتظام کرے۔ اس مرحلے پر مال کو پہنچنے والا کوئی بھی نقصان فریق اول کا ہو گا، بشر طیکہ اس نقصان میں فریق دوم کا کوئی قصد یا کوتاہی شامل نہ ہو، جس صورت میں نقصان فریق دوم ہی برداشت کرے گا۔

مال کو اپنی تحویل میں لینے کے بعد فریق دوم فریق اول کو اطلاع کرے گا اور ساتھ ہی مال کو بطوربیع مرابحہ مؤجلہ کے خریدنے کا ایجاب کرے گا۔ ثمن یا قیمت(ثمن) بوقت بیچ باین طور طے ہو گی کہ اگر خریدے ہوئے مال کی قیمت مع  ڈیلیوری اور دیگر ملحقہ اخراجات ( قیمت خرید ") کے 250اور 300 کے درمیان ہوئی تو مرابحہ کا ثمن قیمت خرید پر 5 روپے اضافے یا فائدے ( "ربح") کے ساتھ طے پائے گا۔

فریق دوم فریق اول کو ثمن ( راس المال مع ربح) کی ادائیگی ہر مہینے کی آخری تاریخ پر کرنے کا پابند ہو گا۔

فریق اول فریق دوم کے ایجاب کو مع مذکورہ شرائط قبول کرے گا اور اس کے ساتھ ہی بیع کا انعقاد ہو جائے گا اور مال کی ملکیت اور اس کا ضمان فریق دوم کو منتقل ہو جائیں گی۔بیع اس وقت تمام سمجھی جائے گی جب فریق دوم فریق اول کو ثمن کی ادائیگی کر دے گا۔ ثمن کی ادائیگی کی مقررہ میعاد پر فریق اول راس المال فریق دوم کےحوالے دوبارہ کرے گا اور اسی طریقے پر فریق دوم مال کی خریداری اور پھر بیع مرابحہ کرے گا۔ ہر مہینے اس ترتیب پر خرید و فروخت کا معاملہ کیا جائے گی۔

اگر فریقین میں سے کوئی فریق اس معاملے کو ختم کرنا چاہے تو وہ اگلے فریق کو اس کی ایک ماہ کی پیشگی اطلاع دے گا۔

اقرار نامه مابین فریقین

فريق اول وسیم الله شاه ولد میرام ،شاہ سکنہ عسکری 14، DHA فیز 4 مکان نمبر : 245 ہسٹریٹ نمبر : 7 ہیکٹر A ، اسلام آباد ۔

فریق دوم بابر خان ولد محمد نعیم خان سکنہ مکان نمبر:594 ،سٹریٹ نمبر: 106 ہیکٹر 11/1-G، اسلام آباد۔

یہ کہ فریقین کے درمیان مندرجہ ذیل شرائط پر اتفاق ہوا ہے:۔

یہ کہ فریق اول نے رقم مبلغ اڑتالیس لاکھ روپے ( 4,800,000 .Rs) فریق دوئم کے پیٹرول پمپ (Al Ehsan Filling Station (Byco میں بطورانویسمنٹ کئے ہیں جس میں سے مبلغ دس لاکھ روپے (-/1,000,000 .RS) پہلے سے فریق دوئم کے پاس بطور انویسمنٹ ہیں جبکہ مزید مبلغ اڑ میں لاکھ روپے (-/3,800,000 RS) بذریعہ چیک نمبر :فریق دوئم کے حوالےکر دیا ہے۔بینک ۔یه کهہ فریق دوئم مذکورہ رقم سے فریق اول کے لئے پٹرول ڈپو سے خریدے گا جوفریق دوئم اپنے مذکورہ پٹرول پمپ پر لا کر فریق اول کو تمام اخراجاتو نفع نقصان کے ساتھ بتلائے گا۔یہ کہ فریق اول کی رقم سے لایا گیا پٹرول فریق دوئم خریدے گا۔ پٹرول ریٹ اگر 250 روپے تا300 کے درمیان رہتا ہے تو اس صورت میں 6 روپے فی لیٹر نفع کے ساتھ فریق دوئم خریدے گا اور اگر پیٹرول ریٹ 200 سے 250 کے درمیان رہتا ہے تو اس صورت میں 5 روپے فی لیٹر نفع کے ساتھ فریق دوئم خریدے گا ۔ اور اگر پٹرول ریٹ300 سے 350 کے درمیان رہتا ہے تو اس صورت میں 7 روپے فی لیٹر نفع کے ساتھ فریق دوئم خریدے گا۔ اگر ریٹ تحریر شدہ رقم سے بھی زائد کم ہوتا ہے تو با ہمی مشاورت ورضامندی سے فی لیٹر نفع طے کیا جائے گا۔

یہ کہ فریق دوئم پٹرول خریدنے کے بعد اندر میعاد ایک ماہ میں فریق اول کے اکاؤنٹ از نمبر : 3946 1020 0802 0000 PK73 ASC میں نفع بمعہ انویسٹ شدہ رقم ٹرانسفر کرنے کا پابند ہو گا۔

یہ کہ مذکورہ پیٹرول پمپ سے انویسمنٹ کو ختم کرنے کے لئے مذکورہ فریقین ایک ماہ قبل اطلاع ونوٹس دینے کے پابند ہوں گے

۔ ۔ مالتی مبلغ اڑتالیس لاکھ روپے (-/4,800,000 .RS) کا فریق اول کو دیا ہے جو کہ بوقت یه کہ فریق دویم نے سیکیورٹی چیک از نمبری :۔۔۔

انویسمنٹ والی رقم ادا نہ ہونے کی صورت میں چیک ہذا کیش کروانے کا مجاز ہوگا۔

یہ کہ انویسمنٹ کی رقم فریق دوئم کی طرف سے ادائیگی اوروا پسی نہ ہونے کی صورت میں فریق اول قانونی چارہ جوئی کرنے کا مجاز ہوگا۔

یہ کہ شرائط اقرارنامہ کی پابندی ہر دوفریقین ، وارثان، گواہان پر ہوگی لہذا اقرار نامہ ہذا لکھ کر دے دیا ہے تا کہ سندرہے۔ المرقوم 2024-08-20

Next of Kin فریق اول کی طرف سے: احتشام اللہ شاہ ولد وسیم اللہ شاہ ، شناختی کارڈ نمبر: 1-9388619-21506

Next of Kin فریق دوئم کی طرف سے: عمر نعیم خان ولد محمد نعیم خان ، شناختی کارڈ نمبر: 5-1971759-61101           

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ معاہدہ دو عقود پر مشتمل ہے،پہلا عقد وکالت کا ہے،جس میں رقم دینے والا مؤکل اور پٹرول یا ڈیزل خریدنے کے لیے رقم لینے والا وکیل ہے،جبکہ دوسرا عقد مرابحہ مؤجلہ کا ہے،جس میں رقم دینے والا اپنا پٹرول رقم لینے والے کو ادھار پر فروخت کرتا ہے۔مذکورہ معاہدے میں درج ذیل امور کا لحاظ رکھا جائے تو شرعاً اس معاہدے میں کوئی حرج نہیں ہے:

  1. عقد وکالت کو عقد بیع سے الگ رکھنے کا اہتمام کیا جائے۔
  2. وکالت کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد جب تک عقد بیع مکمل نہ ہو پٹرول یا ڈیزل فریق اول کے ضمان میں رہے۔
  3. وکالت کے تحت خریدنے کے بعد فریق اول کو اطلاع کی جائے۔
  4. وکالت کے تحت خریدنے کے بعد کچھ وقت مثلاً ممکن ہو تو ایک دن تک عقد بیع کا معاملہ مؤخر کیا جائے،جس مین یہ پٹرول فریق ثانی کے پاس امانت اور فریق اول کے ضمان (Risk)میں رہے۔
  5. فریق ثانی جب فریق اول سے پٹرول یا ڈیزل خریدے تو یہ معاملہ الگ سے ایجاب و قبول (offer and acceptance) کے ساتھ کیا جائے،بہتر ہے کہ اس عقد کی مکمل تفصیل الگ سے لکھ کر باقاعدہ طے کی جائیں تاکہ کسی قسم کا نزاع بعد میں نہ ہو اور عقد بیع کا معاملہ مکمل طور پر عقد وکالت سے علیحدہ طور پر ہوجائے۔

مذکورہ معاہدے میں بیع مرابحہ مؤجلہ کی شرعی تفصیلات کو مد نظر رکھا گیا ہے،اس لیے فی نفسہ یہ معاملہ جائز ہے،البتہ معاہدے کی ایک شق کہ "بیع اس وقت تام سمجھی جائے گی جب فریق دوم فریق اول کو ثمن کی ادائیگی کردے گا"،کی وضاحت یہ ہے کہ فقط ایجاب وقبول(offer and acceptance) سے بیع منعقد ہوجائے گی،جس کے نتیجے میں فریق دوم پر ثمن (Price) لازم ہوجائے گا،البتہ ثمن(راس المال مع نفع) کی ادائیگی مقررہ مدت میں کرنا یہ ضروری ہوگا ،اس کے بعد اگلا معاملہ کیا جائےگا،یعنی کہ جب تک پہلے معاملے کا مکمل ثمن راس المال مع منافع ادا نہیں کیا جاتا اس وقت تک نیا معاملہ نہیں کیا جائے گا۔

مذکورہ معاہدہ فی نفسہ جائز ہونے کے باوجود، عملاً اس کے مطابق معاملہ سر انجام دینا، بظاہر بہت مشکل معلوم ہوتا ہے،اس لیے کہ فریق دوم جب فریق اول کے وکیل کی حیثیت سے پٹرول یا ڈیزل کی خریداری کرے گا توپٹرول یا ڈیزل کی ڈیلیوری،ٹینکر کے ذریعے فریق دوم( جوکہ وکیل ہے) کے ٹینک میں ملے گی،جبکہ اس ٹینک میں پہلے سے فریق دوم( جو کہ وکیل ہے) کا اپنا پٹرول یا ڈیزل موجود ہوگا تو یہ خلط ہوجائے گا،اور عام طور پر ایسی صورت میں ہر ایک کے مشاع حصے کی تعیین مشکل ہونے کی وجہ سے مرابحہ بہت مشکل ہوگا۔اسی طرح دوسرا مسئلہ یہ پیش آئے گا کہ اگر بالفرض  فریق دوم بطور وکیل جو پٹرول یا ڈیزل خریدے گا، اس کی ڈیلیوری کے لیے وہ علیحدہ سے ایک ٹینک مقرر کرتا ہے، جس میں پہلے سے خود فریق دوم (جوکہ وکیل ہے) کا اپنا پٹرول یا ڈیزل نہ ہو،تب بھی پٹرول پمپ سے جو پٹرول یا ڈیزل مسلسل بیچا جا رہا ہے ،عملاً اس کو روکنا بہت مشکل ہے،جس کی وجہ سے خرابی یہ لازم آئے گی کہ فریق دوم جس کا قبضہ اس پٹرول یا ڈیزل پر بطور وکیل کے ہے، وہ فریق اول سےاس پٹرول یا ڈیزل  کی خریداری سے پہلے اسے آگے بیچ چکا ہوگا،اورفروخت ہوجانے والے پٹرول یا ڈیزل پر بھی مرابحہ ممکن نہیں ہوگا۔

خلاصہ یہ ہوا کہ مذکورہ معاہدہ فی نفسہ درست ہے،لیکن معاہدے کے مطابق دونوں مراحل یعنی پہلے بطور وکالت کے پٹرول یا ڈیزل خریدنا پھر اس پراس طور پر قبضہ کرنا کہ یہ مکمل پٹرول یا ڈیزل دوسرے پیٹرول یا ڈیزل کے ساتھ خلط(mix) بھی نہ ہو اور استعمال بھی نہ ہو حتی کہ فریق دوم فریق اول سے اسے خرید لے،یہ اہتمام چونکہ بہت مشکل ہے،اس لیے مذکورہ معاملے سے اجتناب ضروری ہے۔

البتہ اگر ایسا کوئی طریقہ کار اختیار کیا جائے جس میں یقینی طورپرمذکورہ معاہدے کے مطابق دونوں مراحل اس طور پرانجام دیے جائیں کہ فریق دوم بطور وکیل کے خریدے گئے پٹرول یا ڈیزل کو علیحدہ ایسے ٹینک میں رکھے جو پہلے سے خالی ہو،پھر اس پٹرول یا ڈیزل کودوسرے پٹرول یا ڈیزل کے ساتھ خلط نہ کرےاور آگے اس وقت تک نہ بیچے جب تک فریق اول سے نہ خرید لےیعنی ایسا کو ئی کنٹرولنگ سسٹم لگائے کہ اس ٹینک سے اس دوران پٹرول یا ڈیزل باہر نہ نکلے،پھر جب فریق اول سے مرابحہ کے طور پر خرید لےتو اس کے بعد کسی دوسرے پٹرول یا ڈیزل کے ساتھ اسے خلط کردے یا آگے بیچنا شروع کردے ،اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

حوالہ جات

 المبسوط للسرخسي (22/ 26)

فأما الوكالة بالشراء فجائزة وما اشتري بها يكون لرب المال.

قرارات وتوصيات مجمع الفقه الإسلامي التابع لمنظمة المؤتمر الإسلامي 1 - 174 (ص: 64)

أولاً : أن بيع المرابحة للآمر بالشراء إذا وقع على سلعة بعد دخولها في ملك المأمور ، وحصول القبض المطلوب شرعاً ، هو بيع جائز ، طالما كانت تقع على المأمور مسؤولية التلف قبل التسليم ، وتبعة الرد بالعيب الخفي ونحوه من موجبات الرد بعد التسليم ، وتوافرت شروط البيع وانتفت موانعه .

ثانياً : الوعد - وهو الذي يصدر من الآمر أو المأمور على وجه الانفراد - يكون ملزماً للواعد ديانة إلا لعذر ، وهو ملزم قضاء إذا كان معلقاً على سبب ودخل الموعود في كلفة نتيجة الوعد . ويتحدد أثر الإلزام في هذه الحالة إما بتنفيذ الوعد ، وإما بالتعويض عن الضرر الواقع فعلاً بسبب عدم الوفاء بالوعد بلا عذر .

وفي فقه البيوع (94/1):

واتفافية التوريد عبارة عن اتفاق بين الجهة المشترية والجهة البائعة على أن الجهة البائعة تورد إلى الجهة المشرية سلعا أو موادا محدودة الأوصاف في تواريخ مستقبلة معينة لقاء ثمن معلوم متفق عليه بين الفريقين .... اتفاقية البيع ليس ببيع مضافا أو معلقا ، بل هو وعد من الجابين لإنجاز بيع في المستقبل ... 2 - يجوزان يكون الاتفاقية مواعدة لإنجاز البيع في المستقبل، 3- إن كا مواعدة فلا بد من أن يعقد البيع في المستقبل بإيجاب وقبول من جديد أو ما يقوم مقامهما من التعاطى ولا ينعقد البيع تلقائيا في التاريخ المحدد في الاتفاقية 3- لا يجوز أن يحمل المتخلف عن الوعد تعويضا إلا بمقدار الخسائرة الفعلية.

 الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 132)

(المرابحة) مصدر رابح وشرعا (بيع ما ملكه)من العروض ولو بهبة أو إرث أو وصية أو غصب فإنه إذا ثمنه (بما قام عليه وبفضل) مؤنة وإن لم تكن من جنسه كأجر قصار ونحوه، ثم باعه مرابحة على تلك القيمة جاز مبسوط.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، فصل:فی الشرط الذی یرجع الی المعقود علیہ (5/ 146)

 (ومنها) أن يكون مملوكا.لأن البيع تمليك فلا ينعقد فيما ليس بمملوك.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 146)

(ومنها) وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عندالبيع فإن لم يكن لا ينعقد، وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة، وهذا بيع ما ليس عنده «، ونهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم» ، ولو باع المغصوب فضمنه المالك قيمته نفذ بيعه؛ لأن سبب الملك قد تقدم فتبين أنه باع ملك نفسه، وههنا تأخر سبب الملك فيكون بائعا ما ليس عنده فدخل تحت النهي.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 147)

(ومنها) أن يكون مقدور التسليم عند العقد.

(فقہ البیوع،ج۱ص۳۷۵)

المعیار الشرعی رقم (۸)،المرابحۃ:

۳/۱/۳-الأصل أن تشتري المؤسسة السلعة بنفسها مباشرة من البائع،ويجوز لها ذلك عن طريق وكيل غير الآمر بالشــراء، ولا تلجألتوكيــل العميل (الآمــربالشــراء)إلا عند الحاجــة الملحة.
ولا يتولى الوكيل البيع لنفســه، بل تبيعه المؤسسة بعد تملكهاالعين، وحينئذ يراعى ما جاء في البند.۳/١/۵

۳/۱/۷-يجوز أن يتفق الطرفان عند توكيل المؤسسة لغيرها في شراءالســلعة أن تكون الوكالة غير معلنة، فيتصرف الوكيل كالأصيل أمام الأطراف الأخری، ويتولى الشــراء مباشــرة باسمه ولكن لصالح المؤسســة (الموكل) غيــر أن إفصــاح الوكيل بصفته الحقيقية أولى.

۳/۲-قبض المؤسسة السلعة قبل بيعها مرابحة:

۳/۲/۱-يجب التحقق من قبض المؤسســة للســلعة ً قبضــا حقيقيا أو حكميا قبل بيعها لعميلها بالمرابحة.

۳/۲/۵-الأصل أن تتسلم المؤسسة السلعة بنفسها من مخازن البائع أومن المكان المحدد في شروط التسليم، وتنتقل مسؤولية ضمان المبيع إلى المؤسسة بتحقق حيازتها للسلعة، ويجوز للمؤسسةتوكيل غيرها للقيام بذلك نيابة عنها.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

         ۲۲.صفر۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب