03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترکہ موبائل پیکج لیکر استعمال کرنےکا حکم
84713شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ

مختلف موبائل سم میں یہ سہولت موجود ہوتی ہے کہ چار،پانچ یا اس سے زیادہ یاکم افراد مل کرگروپ کی شکل میں رقم جمع کرکے مجموعی رقم سے انٹرنیٹ کال یا میسج پیکج خریدیں اوراپنے اپنے موبائل میں استعمال کریں،اس میں شرکاء  آپس میں یہ طے نہیں کرتے کہ ہر حصہ دارکتنا استعمال کرےگا یعنی ہرشریک کےلیے کوئی متعین مقدارطے نہیں کی جاتی حسبِ ضرورت سب استعمال کرتےہیں،جبکہ رقم سب  کی برابرہوتی ہے ، تو پوچھنا یہ ہے کہ

١١۔ کیا اس قسم کے پیچکج میں شامل ہونا شرعاًصحیح ہے؟

۲۔کیا اس میں ہرشریک کےلیے استعمال کی مقدارمتعین کرنا ضروری ہوگا،جبکہ تمام شرکاء کی رقم برابرہو؟

۳۔کیا ان حصہ داروں کی جگہ کوئی اورشخص اس کو استعمال کرنے کا حق رکھتاہے؟اوراگروہ ان میں سے کسی ایک سے اجازت لے لے ،مگرباقی شرکاء سے اجازت نہ لے،یعنی مثلاً: وہ ان میں سے کسی ایک شریک کا دوست ہواوراپنے دوست شریک سے تووہ اجازت لے لے،مگردیگرشرکاء سے اجازت نہ لے،بلکہ باقی شرکاء کو علم بھی نہ ہوتو کیا  ایساکرنا جائزہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(١،۲)سوال میں مذکورطریقے پر پیکج خریدنا اوراس میں شریک ہونا شرعاً جائز ہے،اگرچہ استعمال کرنے میں سب شرکاء کے درمیان تفاوت ہو،جیسے کہ ایک گھرمشترکہ طورپر کرایہ پر لیکر ہرشریک استعمال کرتاہے اوراس میں یہ نہیں دیکھاجاتاہے کہ کس نے کتنا استعمال کیا،بلکہ بالعموم ایسا معلوم کرنا ممکن بھی نہیں ہوتا، اس کی دوسری نظیر یہ ہےکہ بعض اوقات ایک سے زیادہ ساتھی رقم جمع کرکےہوٹل میں کھانا کھاتے ہیں اوراس میں یہ متعین نہیں کیا جاتاہے کہ کون کتناکھائے گا اورنہ یہ دیکھا جاتاہے کہ کس نے کتناکھالیا،  اسی طرح  پیکچ  میں یہ نہیں دیکھاجائےگا کہ کس نے کتنااستعمال کیا، جب سب کی طرف سب کو اجازت  ہے کہ استعمال کرے توہرشریک جتنا چاہےاپنی حاجت کے مطابق اس کو  استعمال کرسکتاہے ۔

(۳) کسی حصہ دارکا دیگرحصہ داروں کی اجازت کے بغیرکسی اورکو مذکورہ پیکج استعمال کرنے کی اجازت دینا راجح قول کے مطابق صحیح نہیں ہے،کیونکہ یہ سب کی مشرکہ چیزہے،لہذامذکوراستعمال کنندہ کےلیے بغیراجازت کے یا کسی ایک شریک سے اجازت لیکرباقی  کے علم میں  لائے بغیرمذکورہ پیکج استعمال کرنا جائزنہیں ہے۔

حوالہ جات

في ’’ صحیح البخاري ‘‘ :

 لم یر المسلمون في النهد بأسًا ، أن یأکل هذا بعضًا وهذا بعضًا . (ص/۴۳۷ ، کتاب الشرکۃ ، باب الشرکۃ في الطعام والنّہد والعروض ، ط: احیاء التراث ، بیروت)

 في ’’ فیض الباري ‘‘ :

 والنهد أن ینُشر الرفقۃ زادهم علی سُفرۃ  واحدۃ لیأکلوا جمیعًا بدون تقسیم ، ففیہ شرکۃ أولا وتقسیم آخرا ، ولا ریب أنہ تقسیم علی المجازفۃ لا غیر مع التفاوت في الأکل . (۴/۴ ، کتاب الشرکۃ ، ط: بیروت)(۲)

في ’’ صحیح البخاري ‘‘ :

عن أبي موسی قال : قال النبي ﷺ : ’’ إن الأشعریین إذا أرملوا في الغزو ، أو قلّ طعام عیالهم بالمدینۃ جمعوا ما کان عندهم في ثوب واحد ثم اقتسموہ  بینہم في إناء واحد بالسویۃ فهم مني وأنا منہم. (ص/۴۳۷ ، حدیث : ۲۴۸۶)(۳)

في ’’ فیض الباري ‘‘ :

انہا لیست من باب المعاوضات التي تجري فیہا المماسکۃ أو تدخل تحت الحکم ، وإنما ہي من باب التسامح والتعامل ، وکیف تکون خلاف الإجماع مع أنہ قد جری بہ التعامل من لدن عهد النبوۃ إلی یومنا هذا ۔ (۴/۴ ، کتاب الشرکۃ ، ط: بیروت ، و:۳/۳۴۲ ، ط : رشیدیہ کوئٹہ)

 في ’’ عمدۃ القاري ‘‘ :

هذا باب في بیان حکم الشرکۃ في الطعام ۔۔۔۔۔ قال الأزهري في [التهذیب] : النہد إخراج القوم نفقاتہم علی قدر عدد الرفقۃ ، یقال : تناهدوا ، وقد ناهد بعضهم بعضًا ، وفي [المحکم] : النهد العون ، وطرح نهدہ مع القوم أعانهم وخارجهم ، وقد تناهدوا أي تخارجوا ، یکون ذلک في الطعام والشراب ، وقیل : النهد إخراج الرفقاء النفقۃ في السفر وخلطها ویسمی بالمخارجۃ ، وذلک جائز في جنس واحد وفي الأجناس ، وأن تفاوتوا في الأکل ، ولیس هذا من الربا في شيء ، وإنما هو من باب الإباحۃ . (۱۳/۵۶ ، کتاب الشرکۃ ، باب الشرکۃ في الطعام الخ ، ط: رشیدیہ)

وفیہ أیضًا :

قولہ : ’’ لما لم یر المسلمون ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔ هذا تعلیل لعدم جواز قسمۃ الذهب بالذهب والفضۃ بالفضۃ مجازفۃ ، أي : لأجل عدم رؤیۃ المسلمین بالنهد بأسا ۔۔۔۔۔۔۔۔ فکما أن مبنی النهد علی الإباحۃ وإن حصل التفاوت في الأکل ۔ اھـ ۔ ۔۔۔۔ قولہ : ’’ أن یأکل هذا بعضًا ‘‘ تقدیرہ : بأن یأکل ، وأشارہ بہ إلی أنہم کما جوزوا النهد الذي فیہ التفاوت ۔ اھـ .(۱۳/۵۷ ، کتاب الشرکۃ)

وفیہ أیضًا :

 وأجیب : بأن حقوقهم تساوت فیہ بعد جمعہ فتناولوہ مجازفۃ کما جرت العادۃ . (۱۳/۵۸)

و في ’’ فتح الباري ‘‘ :

 ولکنہ اغتفر في النهد لثبوت الدلیل علی جوازہ ۔ (۵/۱۶۰، ط: دار السلام الریاض)

وفی المسائل المهمة فیما ابتلت بہ العامة(9/ 315):

مسئلہ(۲۰۳): بعض دوست واحباب مل کر مشترکہ طور پر پیسے جمع کرکے ہوٹل میں کھانا تیار کرواکے کھاتے ہیں، اس میں سب کی رقم برابر ہوتی ہے، دستر خوان پر جب مختلف اجناس کا کھانا تیار ہوکر آتا ہے، تو ہر چیز میں ہر ایک برابر شریک ہوتا ہے، لیکن جب کھانا کھایا جاتا ہے، تواس میں کمی زیادتی ہونا لازمی امر ہے، اس لیے کہ ہر ایک شخص کے کھانے کی مقدار مختلف ہوتی ہے، تو بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ربوا اور سود کی شکل ہے، کہ بعض احباب زیادہ اور بعض کم کھاتے ہیں، اُن کی یہ بات درست نہیں، صحیح بات یہ ہے کہ یہ تفاضُل (کمی بیشی) باہمی رضامندی سے ہوتا ہے، جو جائز ہے، چنانچہ سب احباب نے مل بیٹھ کر کھانا کھایا، تو ہر شخص جتنا کھارہا ہے وہ اس کا حصہ سمجھا جائے گا، بشرطیکہ تمام شرکاء راضی ہوں، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اِس قسم کے اشتِراک کو ’’نَہْد‘‘[٭] قرار دیا ہے(۱)، اور عہدِ رسالت میں اس کی کئی مثالیں پیش کی ہیں(۲)، علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ تسامُح وتعامُل کے قبیل سے ہے، عہدِ نبوت سے لے کر آج تک اس پر تعامُل ہوتا چلا آرہا ہے، لہٰذا یہ صورت جائز ہے)

وفی العناية شرح الهداية  (ج 12 / ص 396):

قال : ( ولا يجوز إجارة المشاع عند أبي حنيفة إلا من الشريك ، وقالا : إجارة المشاع جائزة ) وصورته أن يؤاجر نصيبا من داره أو نصيبه من دار مشتركة من غير الشريك .لهما أن للمشاع منفعة ولهذا يجب أجر المثل ، والتسليم ممكن بالتخلية أو بالتهايؤ فصار كما إذا آجر من شريكه أو من رجلين وصار كالبيع ولأبي حنيفة أنه آجر ما لا يقدر على تسليمه فلا يجوز ، وهذا ؛ لأن تسليم المشاع وحده لا يتصور ، والتخلية اعتبرت تسليما لوقوعه تمكينا وهو الفعل الذي يحصل به التمكن ولا تمكن في المشاع ، بخلاف البيع لحصول التمكن فيه ، وأما التهايؤ فإنما يستحق حكما للعقد بواسطة الملك ، وحكم العقد يعقبه والقدرة على التسليم شرط العقد وشرط الشيء يسبقه ، ولا يعتبر المتراخي سابقا ، وبخلاف ما إذا آجر من شريكه فالكل يحدث على ملكه فلا شيوع ، والاختلاف في النسبة لا يضره ، على أنه لا يصح في رواية الحسن عنه ، وبخلاف الشيوع الطارئ ؛ لأن القدرة على التسليم ليست بشرط للبقاء ، وبخلاف ما إذا آجر من رجلين ؛ لأن التسليم يقع جملة ثم الشيوع بتفرق الملك فيما بينهما طارئ .

وفی رد المحتار - (ج 24 / ص 264)

( قوله فلا يعول عليه ) بل المعول عليه ما في الخانية أن الفتوى على قول الإمام ، وبه جزم أصحاب المتون والشروح فكان هو المذهب ، أفاده المصنف وعليه العمل اليوم .

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

‏  23/02/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب