| 84721 | ذبح اور ذبیحہ کے احکام | شکار سے متعلق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہم شکار کے سیزن میں حلال پرندوں (مرغابی ،فاختہ ،چکوروغیرہ) کا شکار کرتے ہیں ،بعض لوگ یہ اشکال کرتے ہیں کہ یہ پرندے زمین کی خوبصورتی ہیں، ان کا شکار کرنا زمین کی خوبصورتی مٹانے کے مترادف ہے، اوربعض یہ کہتے ہیں کہ یہ ظلم ہے کہ اتنے خوبصورت،معصوم پرندوں کا شکار کرکے کھایا جائے ،جبکہ ہمارا یہ شکارسیزن میں ہوتاہے،اوربریڈنگ کے سیزن میں ہم شکارسے خود حتراز کرتے ہیں اورحکوت کی طرف سے بھی ان دنوں میں ممانعت ہوتی ہے ۔بعض یہ کہتے ہیں کہ یہ پرندے مہمان ہیں،کیونکہ یہ خاص سیزن میں آتے ہیں،ہروقت نہیں آتے،تو ان کا شکار کرنا مہمان کے ساتھ بدسلوکی کے مترادف ہے۔پوچھنایہ ہےکہ
١۔ کیا ان پرندوں کا شکارمذکورہ بالا اقوال کے زمرے میں آتاہے یا نہیں ؟
۲۔ ان کے شکار کرنے میں کوئی گناہ ہے یانہیں؟تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(١،۲) شکارکرنا خواہ حلال جانورکا ہوخواہ حرام جانورکا شرعاً مباح اوردرست ہے ، جبکہ اس سے شکاری کی کوئی مشروع غرض حاصل ہوتی ہو مثلاً :حلال جانور کا گوشت حاصل کرنا مقصود ہویاکسی جانور کے پریابال ،یاکھال،یاسینگ یا ہڈی وغیرہ کوئی چیز مطلوب ہو یامثلاً: دفع اذیت ہی مقصود ہو ، جیسے بعض اوقات بعض لوگ بندریا بھیڑئیے کا شکار کرتے ہیں، اگرمحض لہو ولعب اوراضاعتِ وقت مقصود ہوتو ناجائز ہے۔لہذا سوال میں ان پرندوں کے شکارکی ممانعت کے حوالے سے مذکورتمام اقول بے بنیاد ہیں،شرعاً ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے،اوران پرندوں کا شکار(جبکہ محض لہو ولعب ،اضاعتِ وقت کےلیے نہ ہواورنمازوں کا ضیاع اس میں نہ ہو)حلال ہے، اس میں گناہ کی کوئی بات نہیں ہے۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي (11/ 220):
(كتاب الصيد) قال الشيخ الإمام الأجل الزاهد شمس الأئمة وفخر الإسلام أبو بكر محمد بن أبي سهل السرخسي - رحمه الله - إملاء: اعلم بأن الاصطياد مباح في الكتاب، والسنة أما الكتاب فقوله تعالى: {وإذا حللتم فاصطادوا} [المائدة: 2] وأدنى درجات صفة الأمر الإباحة، وقال الله تعالى: {أحل لكم صيد البحر} [المائدة: 96] الآية، والسنة قوله - صلى الله عليه وسلم -: «الصيد لمن أخذه» فعلى هذا بيان أن الاصطياد مباح مشروع؛ لأن الملك حكم مشروع فسببه يكون مشروعا، وهو نوع اكتساب وانتفاع بما هو مخلوق لذلك فكان مباحا، ويستوي إن كان الصيد مأكول اللحم أو غير مأكول اللحم لما في اصطياده من تحصيل المنفعة بجلده أو دفع أذاه عن الناس.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 50):
الاصطياد مباح في غير الحرم لغير المحرم وكذا المصيد إن كان مأكولا لقوله تعالى {وإذا حللتم فاصطادوا} [المائدة: 2] ولقوله تعالى {وحرم عليكم صيد البر ما دمتم حرما} [المائدة: 96] ولقوله - عليه الصلاة والسلام - «الصيد لمن أخذه» ولقوله - عليه الصلاة والسلام - لعدي بن حاتم «إذا أرسلت كلبك فاذكر اسم الله تعالى فإن أمسك عليك فأدركته حيا فاذبحه، وإن أدركته قد قتل ولم يأكل منه فكله فإن أخذ الكلب ذكاة» رواه البخاري ومسلم وأحمد؛ ولأنه نوع اكتساب وانتفاع بما هو مخلوق لذلك فكان مباحا كالاحتطاب ليتمكن المكلف من إقامة التكاليف.
فيض القدير (6/ 153):
مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ وَمَنْ أَتَى السُّلْطَانَ افْتَتَنَ (حم 3) عَن ابن عباس......وقال ابن المنير: الاشتغال بالصيد لمن عيشه به مشروع ولمن عرض له وعيشه بغيره مباح وأما التصيد لمجرد اللهو فهو محل النهي.
فتح الباري لابن حجر (9/ 662):
حديث بن عباس رفعه من اتبع الصيد غفل فهو محمول على من واظب على ذلك حتى يشغله عن غيره من المصالح الدينية وغيرها.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
22/02/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


