| 84755 | خرید و فروخت کے احکام | خرید وفروخت میں اختیار رکھنا |
سوال
ایک زیرِ تعمیر بلڈنگ میں ہم نے ایک اپارٹمنٹ استصناع پر لیا تھا،جس کی پیمنٹ قسط وار تقریبا پانچ سال میں پوری کرنی ہے ۔ہر مہینے کی ایک مقررہ قسط ہے، جو ہر ماہ کی ۱۵ تاریخ تک جمع کروانی ہوتی ہے، ڈیولپر ہر ماہ کچھ نہ کچھ تعمیری کام کرتا جاتا ہے۔ ہم نے جس وقت اپارٹمنٹ لینے کا ایگریمنٹ کیا تھا، اس وقت ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ بکنگ کی شرائط و ضوابط میں ایک شرط یہ تھی :
“The developer, in it's sole discretion reserve the right to change or amend the terms and conditions hereof without notifying the members, and the developer will notify new updated terms and conditions on its website.”
اس حوالے سے شرعی راہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ شرط کا خلاصہ یہ ہے کہ بلڈنگ بنانے والے (Developer)کو اس بلڈنگ میں جگہیں (Apartments) لینے والے ممبران کو مطلع کیے بغیر شرائط و ضوابط تبدیل کرنے یا ان میں ترمیم کرنے کا مکمل صواب دیدی اختیار حاصل ہوگا، البتہ اگر وہ کوئی تبدیلی کرتا ہے تو نئی شرائط اور ضوابط اپنی ویب سائٹ پر لگائے گا۔
جہاں تک اس شرط کی شرعی حیثیت کا تعلق ہے تو فریقین میں سے کسی کے لیے عقد میں تبدیلی اور ترمیم کی ایسی عمومی شرط لگانا غرر اور جہالتِ فاحشہ میں داخل ہے، جس کی شریعت میں اجازت نہیں، لہٰذا اس سے بچنا ضروری ہے، بالخصوص جبکہ اس میں یہ بھی واضح نہیں کہ ڈیولپر جو تبدیلیاں کرے گا، وہ فی نفسہ جائز بھی ہوں گی یا نہیں؟ مثلا اگر وہ بعد میں قسط لیٹ ہونے کی وجہ سے جرمانہ لگاتا ہے تو یہ ایسی تبدیلی ہے جو سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے بذاتِ خود جائز نہیں، اگرچہ دوسرا فریق راضی ہوجائے۔
لہٰذا ڈیولپر پر لازم ہے کہ وہ جن جائز امور کا اختیار اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے، ان کو واضح طور پر معاہدے میں لکھے اور معاہدہ کرتے وقت خریداروں کے سامنے معاہدے کا وہ حصہ بطورِ خاص واضح کرلیا کرے؛ تاکہ بعد میں کسی قسم کا کوئی اختلاف پیدا نہ ہو، خریداروں پر بھی لازم ہے کہ وہ پورا معاہدہ اطمینان کے ساتھ پڑھ کر اس پر دستخط کیا کریں۔
ڈیولپر اب تک اس شرط کے ساتھ جتنے معاملات کرچکا ہے، وہ شرعا ناجائز اور فاسد ہوئے ہیں، اس پر لازم ہے کہ ان تمام لوگوں کو مطلع کرے اور سابقہ معاملات ختم کر کے ان کے ساتھ از سرِ نو خرید و فروخت کا معاملہ کرے، اس مقصد کے لیے زبانی یہ کہنا بھی کافی ہے کہ ہم سابقہ معاملہ ختم کرتے ہیں اور اسی ریٹ پر آج نیا معاملہ کرتے ہیں، اس طرح دوبارہ معاملہ کرنے کے بعد اس وقت تک وصول شدہ قسطوں کو قیمت میں شمار کیا جائے اور بقیہ قسطیں نئی ترتیب کے مطابق وصول کی جائیں۔
حوالہ جات
سنن الترمذي (3/ 28):
حدثنا الحسن بن علي الخلال، قال: حدثنا أبو عامر العقدي، قال: حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني، عن أبيه، عن جده، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: الصلح جائز بين المسلمين، إلا صلحا حرم حلالا، أو أحل حراما، والمسلمون على شروطهم، إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما. هذا حديث حسن صحيح.
صحيح مسلم (3/ 1153):
عن أبي هريرة قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الحصاة وعن بيع الغرر.
شرح النووي على مسلم (10/ 156):
وأما النهى عن بيع الغرر فهو أصل عظيم من أصول كتاب البيوع، ولهذا قدمه مسلم، ويدخل فيه مسائل كثيرة غير منحصرة.
عمدة القاري (17/ 470):
الغرر بفتح الغين المعجمة وبراءين أولاهما مفتوحة، وهو في الأصل الخطر من غر يغر بالكسر، والخطر هو الذي لا يدري أيكون أم لا، وقال ابن عرفة: الغرر هو ما كان ظاهره يغر وباطنه مجهول……. وقال الأزهري: بيع الغرر ما يكون على غير عهدة ولاثقة، قال: ويدخل فيها البيوع التي لا يحيط بكنهها المتبايعان. وقال صاحب ( المشارق ): بيع الغرر بيع المخاطرة وهو الجهل بالثمن أو المثمن أو سلامته أو أجله. وقال أبو عمر: بيع يجمع وجوها كثيرة منها المجهول كله في الثمن أو المثمن إذا لم يوقف على حقيقة جملته.
المغرب في ترتيب المعرب (2/ 100):
وفي الحديث " نَهى عن بَيْع الغَرَر " وهو الخَطرالذي لا يُدْرى أيكون أم لاِ كبيْع السمك في الماء والطير في الهواءِ. وعن عليّ رضي الله عنه " هو عمل مالا يُؤمن عليه الغُرور " . وعن الأصمعي " بيع الغَرَر أن يكون على غير عُهْدة ولا ثقة " . قال الأزهري : " وتدخُل البُيوعُ المجهولة التي لا يُحيط بها المتبايعان.
المعاییر الشرعیة (789-777):
2. تعریف الغرر وأقسامه:
2/1 الغرر: صفة في المعاملة تجعل بعض أرکانها مستورة العاقبة (النتیجة)، أو هو: ما تردد أثره بین الوجود والعدم.
2/2 ینقسم الغرر من حیث مقداره إلی کثیر و متوسط و یسیر، وینقسم من حیث إثره إلی مفسد للمعاملة أو غیر مفسد لها.
3. حکم الغرر:
لایجوز شرعا إبرام عقد أو اشتراط شرط فیه غرر یفسد المعاملة بضابطه المذکورة في الفقرة 4.
7. أثر الغرر في الشروط:
الشرط الذي یحدث في صیغة العقد أو محله:
یفسد العقد المشتمل علی شرط یحدث غررا في صیغة العقد، مثل: شرط خیار بوقت مجهول، أو في محله، مثل: بیع الثنیا بأن یبیع شیئا ویستثني بعضه دون تعیین أو أن یبیع عمارة ویستثني طابقًا منها دون تعیینه، إلا إذا کان المستثنی معلوما فیجوز.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
27/صفر المظفر/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


