| 84767 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
میرے کزن کی سعودی عرب میں ٹریول ایجنسی ہے، گاہک جب اس کے پاس نقد پیسوں پر ٹکٹ کروانے آتے ہیں تو وہ اس میں اپنا نفع رکھ کر ان کو ٹکٹ بیچ دیتا ہے، اور جب وہ ادھار پر ٹکٹ خریدتے ہیں تو وہ ان کو ٹکٹ بیچ دیتا ہے، لیکن نہ پیسوں کی ادائیگی کا وقت متعین ہوتا ہے، نہ ہی ٹکٹ کی قیمت متعین ہوتی ہے، پھر جب وہ وصولی کرتا ہے تو بہت زیادہ نفع لیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاملہ جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو اب تک لیے ہوئے منافع کا کیا حکم ہے؟
تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ میرا کزن ائیر لائنز سے ٹکٹس خرید کر اپنے پاس رکھتا ہے، جب اس کے پاس گاہک آتے ہیں تو وہ ان کو ٹکٹ بیچتا ہے، ایسا نہیں کرتا کہ ٹکٹ بیچنے کے بعد ائیر لائن سے خریدتا ہو، نہ ہی کسی ائیر لائن کے لیے بطورِ کمیشن ایجنٹ کام کرتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ٹریول ایجنسی کا کام شرعی اعتبار سے "اجارہ" یعنی خدمات (Services) فراہم کرنے اور اس کا عوض وصول کرنے کا معاملہ ہے، اجارہ میں اجرت کا معلوم ہونا ضروری ہے، اور اگر معاملہ ادھار ہو تو پھر اجرت کی ادائیگی کا وقت اور تاریخ معلوم ہونا بھی ضروری ہے، اگر ان میں سے کوئی بھی بات مجہول ہوگی تو معاملہ فاسد ہوگا۔ اجارۂ فاسدہ میں اگر:
- گاہک کو ابھی تک خدمات فراہم نہ کی گئی ہوں تو معاملہ ختم کرنا ضروری ہوتا ہے، اس کو ختم کرنے کے بعد دوبارہ جائز طریقے پر معاملہ کیا جاسکتا ہے۔
- لیکن اگر گاہک خدمات حاصل کرچکا ہو اور اجارہ اجرت مجہول ہونے کی وجہ سے فاسد ہوا ہو تو حاصل شدہ اجرت میں سے صرف اجرتِ مثل کی مقدار حلال ہوگی، باقی گاہک کو لوٹانا ضروری ہوگا۔ اجرتِ مثل سے مراد وہ اجرت ہے جو مارکیٹ میں عام طور سے اس طرح کے ٹکٹ کی لی جاتی ہو۔
- اور اگر گاہک خدمات حاصل کرچکا ہو اور اجرت عقد میں مقرر ہوئی ہو، اجارہ اجرت مجہول ہونے کے علاوہ کسی اور وجہ (مثلا اجرت کی ادائیگی کی مدت مجہول ہونے) سے فاسد ہوا ہو تو پھر حاصل شدہ اجرت میں سے اجرتِ مثل جائز ہوگی، باقی گاہک کو واپس کرنا ضروری ہوگا، یہ حکم اس وقت ہوگا جب اجرتِ مثل اجرتِ مقررہ سے زیادہ نہ ہو، لیکن اگر اجرتِ مثل اجرتِ مقررہ سے زیادہ ہو تو پھر صرف اجرتِ مقررہ کی مقدار اجرت جائز ہوگی اور باقی گاہک کو واپس کرنا ضروری ہوگا۔
مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق جن صورتوں میں گاہک کو کچھ اجرت لوٹانا ضروری ہے، اگر ان میں گاہک کے ساتھ رابطے کی کوئی صورت نہ ہو، نہ ہی اس کے معلوم ہونے کی امید ہو تو ایسی صورت میں وہ رقم بغیرنیتِ ثواب اپنا ذمہ فارغ کرنے کے لیے اس کی طرف سے صدقہ کرنا لازم ہوگا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے کزن کا ادھار ٹکٹ بیچنے کی صورت ٹکٹ کی قیمت اور اس کی ادائیگی کی تاریخ متعین نہ کرنا جائز نہیں، ایسا معاملہ اجارۂ فاسدہ میں داخل ہے، جس سے بچنا لازم اور ضروری ہے۔ اب تک وہ اس طریقے پر جتنے معاملات کرچکا ہے، ان پر اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑا کر توبہ و استغفار کرے،آئندہ ایسا نہ کرنے کا پکا عزم کرے اور اجرت کے سلسلے میں اوپر ذکر کردہ شق نمبر 2 اور 3 میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق عمل کرے۔
حوالہ جات
المجلة (ص: 87):
مادة 460: تفسد الإجارة لو وجدت شروط انعقاد الإجارة ولم یوجد أحد شروط الصحة.
مادة 461: الإجارة الفاسدة نافذة لكن الآجر يملك فيها أجر المثل ولا يملك الأجر المسمى.
مادة 462: فساد الإجارة ينشأ بعضه عن كون البدل مجهولا وبعضه عن فقدان شرائط الصحة الأخر، ففي الصورة الأولى يلزم أجر المثل بالغا ما بلغ، وفي الصورة الثانية يلزم أجر المثل بشرط أن لا يتجاوز الأجر المسمى.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
27/صفر المظفر/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


