03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“اگر میرے بارے میں گھروالوں کو کوئی بات بتائی تو تمہیں طلاق” کا حکم
84785طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

میری شادی کو 27 سال ہوگئے ہیں۔ میرے شوہر نے مجھے شروع ہی سے معاشی طور پر تنگی میں رکھا، جبکہ خود سرکاری ملازم تھے اور پرائیویٹ کام بھی کرتے رہے ہیں۔ تقریباً 4 سال پہلے میرے شوہر نے مجھے زبانی ایک طلاق کی شرط لگائی اور کہا کہ اگر تم نے میرے گھر کی کوئی بات اور خاص طور پر گھر کے اندرونی معاملات اور جھگڑوں کی کوئی بات میرے (شوہرکے) گھر والوں (بہنوں، بھائی اور بھانجیوں )  کو بتائی تو تمہیں میری طرف سے ایک طلاق ہو جائے گی۔

   اس کے بعد 2 سال کا عرصہ لڑائی جھگڑے میں گزر گیا اور میرے سسرال والے صرف اپنے بھائی کی بات سنتے رہے، میں خاموش رہی۔ لیکن تقریبا ڈیڑھ سال پہلے میرے شوہر افطار پارٹی میں اپنی چھوٹی بہن کے گھر اکیلے گئے اور میرے نہ آنے کی وجہ یہ بتائی کہ میرے بیوی نے خود پارٹی میں آنے سے انکار کردیا ہے ۔  میرے شوہر نے اپنے اس جھوٹ کے بارے میں ( اُس ہی دن تراویح کے وقت) گھر میں بتایا تو ہم دونوں میں تلخ کلامی ہوئی ۔ میرے افطار پارٹی میں شرکت نہ کرنے پر میرے سسرال والے مجھ سے ناراض ہوگئے اور ان کے روئیے میرے ساتھ بالکل بدل گئے، جس کا اندازہ مجھے عید والے دن دعوت میں میری نندوں کے روئیوں سے ہوا اور مجھے اپنی بہت بے عزتی محسوس ہوئی، لیکن میں اس وقت بھی خاموش رہی۔ عید کے فوراً بعد ہم لوگ ایک کزن کی شادی میں گئے تو میں نے اپنی بڑی نند کے سامنے اپنی صفائی بیان کی اور شوہر کی غلط بیانی کے بارے میں بتایا۔ یعنی میں نے اپنے گھر کی بات (وہ بھی جھگڑے والی ) اپنی نند کو بتائی تو میرے شوہر کی ایک طلاق والی شرط پوری ہوگئی۔ شادی سے واپس آنے کے بعد سے میرے شوہر مجھ سے اور زیادہ دور ہوگئےاور میرے شوہرنے مجھ سے کہا کہ بالکل خاموش ہوجا اور آئندہ مجھے تمہاری آواز نہ سنائی دے۔ بہرحال الگ تو ہم ساڑھے تین سال سے تھے ہی اب جو تھوڑی سی بات چیت رہ گئی تھی وہ بھی ختم ہوگئی۔ کھانے کے اوقات میں وہ سختی سے صرف اتنا کہتے کہ ’’کھانا دے  یا روٹی دے، یا میرے لیے ناشتہ بنا‘‘ان کے لہجے میں عزت ، محبت یا انسیت کچھ بھی نہیں ہوتی، بلکہ حاکمانہ رویہ ہوتا۔

   شروع سے ہی میرے شوہر نے گھر کے خرچے میں تنگی سے کام لیا مجبوراً مجھے سلائی، کوکنگ اور ڈرائیونگ کے کام بھی کرنے پڑے۔ میرے علاج معالجے سے بھی انکار کردیاہے اور اب میں اپنا ذاتی خرچہ اور علاج معالجے کے لیے بچوں کو قرآن اور ٹیوشن پڑھاتی ہوں۔ جس وقت میری عدت پوری ہوئی ان ہی دنوں میرے شوہر شدید بیمار ہوگئے اور مرتے مرتے بچے۔ ان کی حالت کے پیشِ نظر اُس وقت بھی میں نے کوئی سخت قدم (علیحدگی) کا نہیں اٹھایا اور معاملات اللہ پرچھوڑ دئیے۔

   اب مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر اپنی اس شرط سے مکر رہے ہیں اور مجھ سے چار گواہ لانے کو کہہ رہے ہیں، اب میں چار گواہ کہاں سے لاؤں۔ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں میری راہ نمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں۔ کیا میرا نکاح باقی ہے اور کیا میں اور میرے شوہر ہم دونوں ایک گھر میں رہ سکتے ہیں۔ جزاک اللہ خیرا

 وضاحت: سائلہ نے فون پر بتایا کہ عدت کے دوران شوہر نے رجوع نہیں کیا، بلکہ بغیر رجوع ہوئے میری عدت مکمل ہوئی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطور تمہید جاننا چاہیے کہ میاں اور بیوی کے درمیان  طلاق کے معاملے میں اختلاف کی صورت میں دیانت اور قضاء کا حکم علیحدہ علیحدہ ہے، قضاءً مرد کا قول اور دیانتاً عورت کا قول معتبر ہوتا ہے، قضاءً کا مطلب یہ ہے کہ اگر معاملہ عدالت میں پہنچ جائے اور عورت کے پاس اپنے دعوی پر گواہ نہ ہوں تو قاضی مرد سے قسم لے کر اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا اور اس صورت میں خاوند اگر جھوٹا ہوا تو اس کا گناہ  اور وبال اسی پر ہو گا اوردیانتاً یعنی "فیما بینہ وبین اللہ" عورت اس کے لیے حلال نہیں ہو گی۔ دیانتاً کا مطلب یہ ہے کہ اگر عورت  خودخاوند سے تین  طلاق کے الفاظ سن لے  یا اس کو کسی دیندار آدمی کے خبر دینے سے شوہر کی طرف سے تین طلاق دینے کا یقین ہو جائے تو وہ شرعاً اپنی ذات کے حق میں اسی پر عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے اور اس کے لیے خاوند کو اپنے اوپرہمبستری وغیرہ کے لیےقدرت دینا اور اس کے ساتھ رہنا  ہرگز جائز نہیں ہوتا۔( بعض فقہائے کرام نے طلاقِ بائن کا بھی یہی حکم لکھا ہے، کیونکہ اس طلاق سے بھی  نکاح فورا ختم ہو جاتا ہے اور عورت مرد پر حرام ہو جاتی ہے کذا فی البحرالرائق)۔کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے یہ اصول بیان فرمایا ہے:"المرٲة کالقاضی" یعنی عورت کا حکم قاضی کی طرح ہے، مطلب یہ کہ جس طرح قاضی گواہوں سے ثابت شدہ اپنے علم  کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند ہوتا ہے، اسی طرح عورت  پربھی خاوند کی طرف سے کہے گئے ظاہری  الفاظ کے مطابق عمل کرنا لازم ہے، اگرچہ عدالت گواہی نہ ہونے کی وجہ سے خاوند کے حق میں فیصلہ کردے،کیونکہ ایسی صورت میں عورت درحقیقت دیانت پر ہی عمل کرنے کی پابند ہے اور عدالت کا فیصلہ عورت کے حق میں قابلِ عمل نہیں ہو گا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ پر خاوند کے سامنے گواہ پیش کرنا ضروری نہیں، بلکہ دیانتا آپ کے بیان کے مطابق شوہر کے یہ الفاظ"اگر تم نے میرے گھر کی کوئی بات اور خاص طور پر گھر کے اندرونی معاملات اور جھگڑوں کی کوئی بات میرے (شوہرکے) گھر والوں (بہنوں، بھائی اور بھانجیوں )  کو بتائی تو تمہیں میری طرف سے ایک طلاق ہو جائے گی۔" کہنے سے طلاق شرط کے ساتھ معلق ہو گئی تھی، اس کے بعد جب آپ نے اپنی نند کو افطار پارٹی میں نہ جانے کی وجہ بتائی تو شرط کے پائے جانے کی وجہ سے اسی وقت آپ پر ایک طلاقِ رجعی واقعی ہو گئی تھی، اس کے بعد شوہر کو عدت کے اندر رجوع کا حق تھا، لیکن جب عدت کے اندر رجوع نہیں کیا گیا اور عدت مکمل ہو گئی جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو شخصِ مذکور سے آپ کا  نکاح ختم ہو گیا، اب فریقین کا بغیر نکاحِ جدید کے اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں اور آپ دوسری جگہ نکاح کرنے میں شرعا آزاد ہیں، ۔البتہ فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں اور دوبارہ نکاح کرنے کے بعد شخصِ مذکور کو صرف دو طلاقوں کا حق باقی ہو گا۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 376) دار احياء التراث العربي – بيروت:

قال: "ولو أن امرأة أخبرها ثقة أن زوجها الغائب مات عنها، أو طلقها ثلاثا أو كان غير ثقة وأتاها بكتاب من زوجها بالطلاق، ولا تدري أنه كتابه أم لا. إلا أن أكبر رأيها أنه حق" يعني بعد التحري "فلا بأس بأن تعتد ثم تتزوج"؛ لأن القاطع طارئ ولا منازع، وكذا لو قالت لرجل طلقني زوجي وانقضت عدتي فلا بأس أن يتزوجها.

البناية شرح الهداية (12/ 207) دار الكتب العلمية – بيروت:

قوله: ولو أن امرأة أخبرها ثقة إلى قوله وإذا باع المسلم خمرا، من مسائل كتاب " الاستحسان "، ذكرها تفريعا على مسائل " الجامع الصغير ". وكذا لو قالت لرجل: طلقني زوجي وانقضت عدتي فلا بأس بأن يتزوجها. وكذا إذا قالت المطلقة الثلاث: انقضت عدتي وتزوجت بزوج آخر ودخل بي ثم طلقني وانقضت عدتي، فلا بأس بأن يتزوجها الزوج الأول. وكذا لو قالت جارية: كنت أمة لفلان فأعتقني لأن القاطع طارئ، ولو أخبرها مخبر أن أصل النكاح كان فاسدا، أو كان الزوج حين تزوجها مرتدا أو أخاها من الرضاعة لم يقبل قوله حتى يشهد بذلك رجلان أو رجل وامرأتان، وكذا إذا أخبره مخبر: أنك تزوجتها وهي مرتدة أو أختك من الرضاعة لم يتزوج بأختها أو أربع سواها، حتى يشهد بذلك عدلان؛ لأنه أخبر بفساد مقارن، والإقدام على العقد يدل على صحته وإنكار فساده، فثبت المنازع بالظاهر، بخلاف ما إذا كانت المنكوحة صغيرة فأخبر الزوج أنها ارتضعت من أمه أو أخته حيث يقبل قول الواحد فيه؛ لأن القاطع طارئ والإقدام الأول لا يدل على انعدامه.

تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (6/ 26) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:

(قوله: ولو أن امرأة أخبرها رجل ثقة أن زوجها إلخ) في الهداية، ولو أن امرأة أخبرها ثقة أن زوجها إلخ. اهـ. (قوله: فلا بأس بأن تعتد ثم تتزوج)، وهذا في الإخبار، وأما في الشهادة فلا يصح، وإن كان الشاهد اثنين؛ لأنه قضاء على الغائب ألا ترى إلى ما ذكر الأسروشني في الفصل الرابع من فصوله إذا شهد اثنان على الطلاق والزوج غائب لا يقبل لعدم الشهادة على الخصم، ولو كان الزوج حاضرا يقبل، وإن لم توجد دعوى المرأة بطريق الحسبة، وهذا في الشهادة عند القاضي أما إذا قالوا لامرأة الغائب إن زوجك طلقك أو أخبرها بذلك واحد عدل فإذا انقضت عدتها حل لها أن تتزوج آخر كذا في الفصول.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 62) دار الكتاب الإسلامي،بيروت:

إن سمعته طلقها ثلاثا ثم جحد، وحلف أنه لم يفعل، وردها القاضي عليه لم يسعها المقام معه، ولم يسعها أن تتزوج بغيره أيضا. والحاصل أنه جواب شمس الإسلام الأوزجندي ونجم الدين النسفي والسيد أبي شجاع وأبي حامد والسرخسي يحل لها أن تتزوج بزوج آخر فيما بينها وبين الله تعالى، وعلى جواب الباقين لا يحل انتهى، وفي الفتاوى السراجية إذا أخبرها ثقة أن الزوج طلقها، وهو غائب وسعها أن تعتد وتتزوج، ولم يقيده بالديانة، والله أعلم.

قال المصنف - رحمه الله - وقد نقل في القنية قبل ذلك عن شرح السرخسي ما صورته طلق امرأته ثلاثا، وغاب عنها فلها أن تتزوج بزوج آخر بعد العدة ديانة ونقل آخر أنه لا يجوز في المذهب الصحيح اهـ. قلت إنما رقم لشمس الأئمة الأوزجندي، وهو الموافق لما تقدم عنه، والقائل بأنه المذهب الصحيح العلاء الترجماني ثم رقم بعده لعمر النسفي، وقال حلف بثلاثة فظن أنه لم يحنث، وعلمت الحنث، وظنت أنها لو أخبرته ينكر اليمين فإذا غاب عنها بسبب من الأسباب فلها التحلل ديانة لا قضاء قال عمر النسفي سألت عنها السيد أبا شجاع فكتب أنه يجوز ثم سألته بعد مدة فقال إنه لا يجوز، والظاهر أنه إنما أجاب في امرأة لا يوثق بها اهـ.

كذا في شرح المنظومة، وفي البزازية شهد أن زوجها طلقها ثلاثا إن كان غائبا ساغ لها أن تتزوج بآخر، وإن كان حاضرا لا لأن الزوج إن أنكر احتيج إلى القضاء بالفرقة، ولا يجوز القضاء بها إلا بحضرة الزوج.اهـ. وفيها سمعت بطلاق زوجها إياها ثلاثا، ولا تقدر على منعه إلا بقتله إن علمت أنه يقربها تقتله بالدواء، ولا تقتل نفسها، وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة تحلفه فإن حلف فالإثم عليه، وإن قتلته فلا شيء عليها، والبائن كالثلاث. اهـ. وفي التتارخانية. وسئل الشيخ أبو القاسم عن امرأة سمعت من زوجها أنه طلقها ثلاثا، ولا تقدر أن تمنعه نفسها هل يسعها أن تقتله في الوقت الذي يريد أن يقربها، ولا تقدر على منعه إلا بالقتل فقال لها أن تقتله، وهكذا كان فتوى الإمام شيخ الإسلام عطاء بن حمزة أبي شجاع، وكان القاضي الإمام الإسبيجابي يقول ليس لها أن تقتله، وفي الملتقط، وعليه الفتوى.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

28/صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب