| 84832 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک جوان لڑکی اپنے منگیتر کے ساتھ کافی عرصے سے زنا میں مبتلی ہے اور یہ بات لڑکی کی امی بھی معلوم ہے، اب یہ دونوں گھر والوں سے چھپ کر نکاح کرنا چاہتے ہیں ( کیونکہ گھر والے فی الحال نکاح نہیں کروائیں گے) توپوچھنایہ ہےکہ مزید زنا سے بچنے کے لئے کیا گھر والوں سے چھپ کر لڑکی یا لڑکا نکاح کر سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بغیر نکاح کے آپ لوگوں کا ملنا حرام ہے، اس لیے اس سے اجتناب کریں ورنہ گناہ میں مبتلا رہیں گے، والدین و خاندان سے چھپ کر شادی کرنا شرعاً، عرفاً اور اخلاقاً نہایت نامناسب عمل ہے جس سے گریز کرنا چاہیے،لہذا اولاًتو کوشش کریں کہ دونوں کے گھروالے مان جائیں اور ان کی موجودگی میں نکاح ہوجائے، یہ آپ دونوں کے لیے فائدہ مند رہےگا،تاہم اگر پوری کوشش کرنے کے باوجود گھر والے فوری نکاح کی اجازت نہیں دے رہےہوں اور زنا سے بچنا ممکن نہ ہو تو شرعی اعتبار سے لڑکی اور لڑکا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر بھی حنفی مسلک کے مطابق ہوسکتاہے، بشرطیکہ نکاح کی تمام شرائط جیسے دو عاقل و بالغ مردوں کی گواہی ،کفؤ(ہم پلہ ہونا)وغیرہ پوری ہوں، تاہم پھربھی بہتر یہی ہوگا کہ اس نکاح کو جلد از جلد گھر والوں کے سامنے ظاہر کیا جائے تاکہ معاشرتی اور قانونی مشکلات سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ زنا ایک بہت بڑاسنگین گناہ ہے، اس سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے توبہ اور مددبھی مانگنی چاہیےاوراجنبی عورتوں اگرچہ منگیترہی کیونہ ہودوررہناچاہیے، نکاح کو زنا سے بچنے کا ذریعہ بنانا درست ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ نکاح مکمل شرعی طریقے سے ہو۔
حوالہ جات
’’عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ ...‘‘ الحديث.(سنن الترمذي، باب ما جاء في إعلان النكاح)
وفی سنن ابن ماجة :
ايما امراة نکحت نفسها بغير اذن وليها فنکاحها باطل فنکاحها باطل فنکاحها باطل فان دخل بها
فلها المهر بما استحل من فرجها فان اشتجروا فالسلطان ولی من لا ولی له.(سنن ابن ماجہ، باب لانکاح الابولی، ج 1، رقم 1879)
وفی فتاویٰ عالمگیریة:
”ثم المرأة اذا زوجت نفسہا من غیر کفو صح النکاح فی ظاہر الروایة عن ابی حنیفة وہو قول ابی یوسف آخرا وقول محمد آخرا ایضا حتی انَّ قبل التفریق یثبت فیہ حکم الطلاق والظہار والایلاء والتوارث وغیر ذلک ولکن للاولیاء حق الاعتراض۔ وروی الحسن عن ابی حنیفة ان النکاح لاینعقد وبہ اخذ کثیر من مشائخنا رحمہم اللہ کذا فی المحیط‘ والمختار فی زماننا للفتوی روایة الحسن۔ وقال الشیخ الامام شمس الائمة السرخسی : روایة الحسن اقرب الی الاحتیاط کذا فی فتاویٰ قاضیخان فی فصل شرائط النکاح۔ وفی البزازیةذکر برہان الائمة: ان الفتوٰی فی جواز النکاح بکرا کانت او ثیبا علی قول الامام اعظم‘ وہذا اذا کان لہا ولی‘ فان لم یکن صح النکاح اتفاقا کذا فی النہر الفائق‘ ولایکون التفریق بذلک الاعند القاضی‘ اما بدون فسخ القاضی فلا ینفسخ النکاح بینہما وتکون ہذہ فرقة بغیر طل (فتاویٰ عالمگیری: ۱/۲۹۲‘ ط:ماجدیہ)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
28/2/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


