| 84829 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک سرکاری زمین پر قبضہ کیا گیا تھا ،قبضہ کرنے والے کے انتقال کے 22 سال بعد سرکار نے وہ پلاٹDC لیز کر کے اس کے بیٹوں کے نام پر دے دیے، لیکن بیٹوں نے ابھی تک لیز کے پیسے جمع نہیں کروائے۔ کیا ان میں اس مرحوم والد کی طرف سے وراثت جاری ہوگی ؟
وضاحت:استفسار پر سائل نے وضاحت کی کہ یہ سرکارکی خالی زمین تھی، جس پر 1975 میں لوگوں نے رہائش اختیار کرکے گھر بنائے تھے، پھر DC lease یعنی گوٹھ آباد سکیم کے تحت 2012 ء میں سندھ گورنمنٹ نے لیز کرکےوہ پلاٹ لوگوں کے نام کردیے ،جبکہ میت کے بیٹوں کو اب بھی پیسے دینے کا اختیار ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
وراثت میت کے ترکہ میں جاری ہوتی ہے،جبکہ یہ پلاٹ میت کی ملکیت نہ تھے بلکہ سرکار کے تھے ،اور میت کے انتقال کے بعدبھی حکومت نےوہ لیز کرکے میت کے بیٹوں کے نام کیے ہیں،لہٰذا ان میں میت کی ملکیت ثابت نہ ہونے کی وجہ سے وراثت جاری نہ ہوگی،بلکہ حکومت نے جن بیٹوں کے نام یہ پلاٹ لیز کیےہیں ،اگر وہ لینا چاہیں تو حکومت کو لیزکی رقم دے کر ملکیتی طور پر یہ پلاٹ حاصل کر لیں، یا پھر اپنا قبضہ چھوڑ کر حکومت کو واپس کردیں۔
حوالہ جات
النساء(7) :
للرجال نصيب مما ترك الوالدان والأقربون وللنساء نصيب مما ترك الوالدان والأقربون .
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:6/ 759):
يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني، والمأذون المديون و المبيع المحبوس بالثمن والدار المستأجرة وإنما قدمت على التكفين لتعلقها بالمال قبل صيرورته تركة... قوله الخالية إلخ صفة كاشفة لأن تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
29 /صفر/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


