03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میت کے گھر والوں کی طرف سے ملنے والے کپڑوں کا حکم
84799سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان)متفرّق مسائل

سوال

میری نانی محترمہ کا انتقال ہواتو آخری جمعرات پر میرے ماموں نے گھر کی سب خواتین کو سوگ اتارنے کے لئے چادریں (نماز والی )دیں ۔میں الحمد للہ دیوبندی ہوں ،لیکن میرے میکے والے سارے بریلوی ہیں ۔آخری جمعرات پر جو کھانا ہوتاہے وہ بھی میں نے نہیں کھایا ہے،لیکن مجبوراً مجھے شرکت کرنی پڑی۔سوال یہ ہے  کہ آخری جمعرات کو جس  طرح کھانا پینا حرام ہے، اسی طرح جو کپڑے اور چادریں وغیرہ دی جاتی ہیں،ان کا کیاحکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی شخص کے انتقال کے بعد اگر اس کا کوئی بالغ وارث  اپنے مال یا ترکہ میں سے اپنے حصہ میں سے برضا و خوشی میت کو ایصال ثواب کےلیے چادریں وغیرہ  تقسیم کرتا ہے یا  کسی خاص دن کھانا پکا کر لوگو ں کو کھلاتا ہے او ر اس کو عرف میں لازم نہیں سمجھا جاتا ہے   تو اس کا  یہ عمل   جائز ہے ، لیکن اگر چادر تقسیم کرنا یا کھانا کھلانا  عرف میں لازم سمجھا جاتا ہے تو ایسا   کھانا کھانا یا چادر لینا جائز نہیں ۔

 اگر وہ  وارث مشترکہ   ترکہ میں سے سب ورثاء کے حصہ  میں سے چادریں وغیرہ   تقسیم کرتا ہے  یا کھانا کھلاتا ہے تو درج ذیل تین شرائط کے ساتھ   یہ عمل جائز ہوگا :

1۔چادر یں تقسیم  کرنا اور کھانا کھلانا اہل علاقہ کے عرف میں   لازم نہ سمجھا جاتا ہو   ۔

2۔ سب ورثاء بالغ ہوں ۔

3۔ سب  ورثا ء اجازت دیں   ۔

اگر ا  ن تین شرائط میں سے کوئی ایک شرط  بھی نہیں پائی گئی تو   مشترکہ ترکہ میں سے کھانا کھلانا  یا چادریں تقسیم  ناجائز ہوگا اور ایسا کھانا کھانا یا چادر لینا بھی ناجائز ہو گا ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 240):

مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت

وقال أيضا: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة: وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ". اهـ. وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره. وفيها من كتاب الاستحسان: وإن اتخذ طعاما للفقراء كان حسنا اهـ وأطال في ذلك في المعراج. وقال: وهذه الأفعال كلها للسمعة والرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى. اهـ. وبحث هنا في شرح المنية بمعارضة حديث جرير المار بحديث آخر فيه «أنه - عليه الصلاة والسلام - دعته امرأة رجل ميت لما رجع من دفنه فجاء وجيء بالطعام» . أقول: وفيه نظر، فإنه واقعة حال لا عموم لها مع احتمال سبب خاص، بخلاف ما في حديث جرير. على أنه بحث في المنقول في مذهبنا ومذهب غيرنا كالشافعية والحنابلة استدلالا بحديث جرير المذكور على الكراهة، ولا سيما إذا كان في الورثة صغار أو غائب، مع قطع النظر عما يحصل عند ذلك غالبا من المنكرات الكثيرة كإيقاد الشموع والقناديل التي توجد في الأفراح، وكدق الطبول، والغناء بالأصوات الحسان، واجتماع النساء والمردان، وأخذ الأجرة على الذكر وقراءة القرآن، وغير ذلك مما هو مشاهد في هذه الأزمان، وما كان كذلك فلا شك في حرمته وبطلان الوصية به، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم.

عبدالعلی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

29/ صفر /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالعلی بن عبدالمتین

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب