03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسئلہ تین طلاق سے متعلق شبہات کےجوابات پرمشتمل مفصل و مدلل فتوی
84812طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

      ایک ساتھ تین طلاق دینے سے ایک طلاق واقع ہوتی ہے ،تجدید نکاح کی بھی ضرورت نہیں،(بلکہ رجوع کافی ہے۔) اورحضرات جمہورکاموقف دلیل کی رو سے کمزور ہےاوراس مسئلہ پرقرآن وسنت اورعقلی استدلال پرمشتمل دلائل پیش کئےجاتےہیں ،مثلا کہتے ہیں ایک ساتھ تین طلاق دینے سے ایک طلاق ہوتی ہے، اس لیے کہ طلاق دینے کا عمل ایک دفعہ پایا گیا ہے۔(امام ابن تیمیہ  وعلامہ ابن قیم رحمہما اللہ تعالی)

 توضیح:ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ ۱، ۲ ،۳ ہم پر طلاق ہے بیوی، مثال کرتے ہیں  اس سے کچھ بھی نہیں ہوا ، اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوئی ہے،   تجدید نکاح کی بھی ضرورت نہیں ہے، یہ ایسا ہے کہ دوڑنے کے لیے دو تین آدمی کھڑے ہیں، تم نے کہا ۱، ۲ ،۳ وہ دوڑے تو ایک دوڑہو ایا تین؟( ایک)، دوڑہوا تین نہیں، یہاں بھی ایک طلاق واقع ہوئی ہے، تین نہیں،یہ مسئلہ مسلم باغ میں درپیش ہوا ہے ، کیا  اس کی کوئی حقیقت ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اس مسئلہ میں جمہور امت کی رائے ایک مجلس میں یا ایک کلمہ سے دی گئی تین طلاق سے تین طلاق ہی واقع ہونے کی ہے اوریہ موقف قرآن مجید کی متعدد آیات کے علاوہ احادیث صریحہ وصحیحہ مرفوعہ وصریح وصحیح آثار صحابہ وتابعین رضی اللہ عنہم سے ثابت ومدلل اوراجماع صحابہ سےمبرھن ومؤیدہےنیزاکثرصحابہ کرام،تابعین عظام اورائمہ اربعہ کے مذاہب سمیت تمام مشہورائمہ مجتہدین وفقہاء امت وجملہ مفسرین ومحدثین رحمہم اللہ تعالی کا فتوی بھی یہی ہے ۔(جیساکہ انکی تفصیل آگے دلائل کے ضمن میں اس کی تفصیل انشاء اللہ آرہی ہے۔)جبکہ کلمہ واحدہ سے دی گئی تین طلاق کے ایک ہونے پر قرآن وسنت وآثار صحابہ وتابعین سے کوئی بھی صریح وصحیح دلیل نہیں،لہذاجواستدلال قرآنی آیات سے پیش کیا جاتا ہےوہ جمہور علماءامت کے نزدیک فاسد اورسوء فہم کا نتیجہ ہے اور جو کچھ مواد روایات واحادیث میں سےاس بارے میں پیش کیا جاتا ہے یا تو ثابت نہیں یا سنداصحیح(قابل استدلال) نہیں یا وہ منسوخ،مرجوع عنہ یامحتمل ومؤول ہیں ،جبکہ محتمل روایات اصولی طور پر قابل استدلال نہیں،(جیساکہ اس کی تفصیل مخالفین کے دلائل کےضمن  میں آگےرہی ہے انشاء اللہ تعالی۔)لہذا تین کے ایک ہونے کا قول نہ صرف یہ کہ بلا دلیل شرعی ہے، بلکہ  خلاف دلائل شرعیہ ہے،بلکہ خلاف نقل وعقل ہونے کےساتھ ساتھ خلاف اجماع ہونے کےباعث قول شاذ(شرعا ناقابل  اعتباروعمل) بھی ہے۔

 تین طلاق کا ایک ہونا اہل تشیع کا مذہب ہے:

  دفعۃ دی گئی تین طلاق کوایک طلاق شمارکرنا( کمافی الروح)یا بالکل طلاق شمار نہ کرنا(کمافی تکملۃ فتح الملہم)یہ در حقیقت اہل تشیع (روافض و امامیہ)کا مخترع مذہب ہے،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خود جمہوراہل بیت بالخصوص حضرت  علی اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور امام جعفرصادق رحمہ اللہ سے دفعۃ دی گئی تین کے تین ہونے کا قول ہی منقول ہےاور امام جعفر رحمہ اللہ سے اپنی طرف تین کے ایک ہونے نسبت کی تردید بھی منقول ہے،بلکہ اہل تشیع کی مستند کتاب جامع کافی میں  امام حسن بن یحیی کے حوالہ سے آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر اجماع بھی منقول ہے۔(حکم الطلاق الثلاث) لہذا اہل بیت یاامام جعفرصادق رحمہ اللہ  کی طرف تین طلاقوں کےایک ہونےکی نسبت قطعاغلط اوربے بنیادہے۔

مسند زيد بن علي - (ج 2 / ص 70)

وفي الجامع الكافي ما لفظه: قال الحسن بن يحيى وسألت عمن طلق امرأته ثلاثا في كلمة نقول: روينا عن النبي صلى الله عليه وآله وعن علي وعلي بن الحسين وزيد بن علي ومحمد بن علي الباقر ومحمد بن عمر ابن علي وجعفر بن محمد و عبد الله بن الحسن ومحمد بن عبد الله وخيار آل رسول الله عليهم السلام فيمن طلق امرأته ثلاثا انه أخطأ السنة وعصى ربه وطلقت منه امرأته حتى تنكح زوجا غيره ولها السكنى والنفقة حتى تنقضي عدتها. قال الحسن بن يحيى: اجمع آل رسول الله صلى الله عليه وآله على ان التي تطلق ثلاثا في كلمة انها حرمت عليه وسواء كان قد دخل بها الزوج أو لم يدخل اه‍. وكذا في حاشية ابن الوزير. قال في امالي الامام احمد بن عيسى (ع م) ما لفظه: حدثنا محمد ابن راشد عن نصر بن مزاحم عن ابي خالد الواسطي رضي الله عنه قال: سألت ابا الحسين وابا جعفرالباقر وجعفر بن محمد الصادق (ع م) عن رجل طلق امرأته ثلاثا في كلمة قالوا بانت منه لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره اه‍.

نیز اہل تشیع کےعلاوہ بعض اہل ظاہر کابھی یہی مذہب ہےاوراہل سنت میں سے صرف امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم رحمہما اللہ تعالی نے  اور ان کے پیروکاروں (مثلاشوکانی اورعز الدین بن عبد السلام رحمہما اللہ)نے اسے بطور مذہب اختیار کیا ہے۔( روح المعانی)جبکہ  اہل ظواہرکےمسلم ومعروف امام ابن حزم ظاہری رحمہ اللہ بھی اس مسئلہ میں ائمہ اربعہ و جمہور کےساتھ ہیں۔(اغاثۃ اللہفان لابن القیم رحمہ اللہ تعالی)

 مسئلہ تین طلاق کی آفاقیت وعالمگیریت:

  مذاہب  کی مذکورہ بالا تفصیل سےمعلوم ہوا کہ اصولی طور پر ایک کلمہ سے دی گئی تین طلاق کا تین ہونا پوری امت مسلمہ کے تمام مذاہب ومکاتب فکر کا اجماعی ومتفق علیہ موقف ہے،نیزچاروں،بلکہ جملہ مذاہب کےجملہ علمی طبقات( محدثین، فقہاء،مفسرین)سب ہی نےجمہور کی تایید میں بھرپوراندازمیں لکھا ہے۔

محدثین عظام رحمہم اللہ تعالی:(۱)امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے صحیح بخاری میں باب من اجاز الطلاق الثلاث قائم فرمایااور اس کے تحت ایک آیت قرآنی اور تین مرفوع روایات سے استدلال فرمایا ہے،(۲)امام مسلم رحمہ اللہ تعالی نے صحیح مسلم میں باب الطلاق الثلاث کے تحت حضرت عمر رضی اللہ تعالی کےاجماعی فیصلےسے استدلال فرمایا ہے،(۳)امام ابوداود رحمہ اللہ تعالی نے اپنی سنن میں باب بقیۃ نسخ المراجعۃ بعد  التطلیقات الثلاث قائم فرماکر اس کے تحت حدیث رکانہ سے استدلال فرمایا ہے۔(۴)ابن ماجہ میں باب من طلق ثلاثا فی مجلس واحد کے تحت حدیث فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالی عنہا سے استدلال فرمایا ہے۔(۵)سنن کبری بیہقی میں باب امضاء الطلاق الثلاث وان کن مجموعات کے تحت متعدد احادیث وآثار سے استدلال فرمایا ہے۔(۶)مصنف ابن ابی شیبہ میں بھی متعدد ابواب قائم فرمائے گئے ہیں،(۷) مصنف ابن عبد الرزاق میں  متعدد ابواب کے تحت کثیر تعداد میں متنوع احادیث و آثار نقل کئے گئے ہیں،(۸) شرح معانی الآثار میں  امام طحاوی رحمہ اللہ تعالی نے باب الرجل یطلق امرتہ ثلاثا معا قائم فرماکر اس کے تحت کثیر تعداد میں آثارصحابہ نقل فرماکر اپنی نظر سے اس کی عقلی تایید بھی پیش فرمائی اور آخر میں  جمہور کے موقف کو تینوں ائمہ مذہب کا قول بھی فرمایا ہے۔(۹)کتاب الآثار میں امام محمد رحمہ اللہ تعالی نے باب من طلق ثلاثا اوطلق واحدۃ وھو یرید ثلاثا قائم فرماکر آثار صحابہ وتابعین سے استدلال فرمایا ہے،(۱۰)سنن نسائی کبری میں  باب الطلاق الثلاث المجموعۃ ومافیہ من التغلیظ اور اس کے بعد باب الرخصۃ فی ذالک قائم فرمایا ہے۔(۱۱) موطا امام مالک میں باب طلاق البتۃ، باب طلاق البکر، طلاق العبد کے تحت متعدد آثار منقول ہیں،(۱۲)موطا امام محمد رحمہ اللہ تعالی میں باب الرجل یطلق امرتہ ثلاثا قبل ان یدخل بھا کے تحت اور(۱۳)سنن صغری بیہقی میں باب من طلق امرتہ ثلاثا اور سنن کبری بیہقی میں باب من جعل الثلاث واحدۃ وما ورد فی خلاف ذالک کے تحت کثیر تعداد میں روایت وآثار منقول ہیں،(۱۴) سنن سعید بن منصور میں باب التعدی فی الطلاق کے تحت کثیر تعدادمیں روایات وآثار منقول ہیں،(۱۵) مسند ابی عوانۃ للاسفرائنی میں باب الخبر المبين أن طلاق الثلاث كانت ترد على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر إلى واحدة، وبيان الأخبار المعارضة له الدالة على إبطاله استعمال هذا الخبر، وأن المطلق ثلاثا لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره.کے تحت کثیر آثار منقول ہیں،(۱۶)معرفۃ السنن والآثار بیہقی میں باب الطلاق الثلاث مجموعۃ  کے تحت کثیر آثار منقول ہیں۔(۱۷)اتحاف الخیرۃ المھرۃ بزوائد المسانید العشرۃ میں ایک  باب امضاء الطلاق الثلاث  بلفظ واحد اذا نوی اوردوسرا باب  نکاح المطلقۃ ثلاثا  ماجاء فی تفسیر العسیلۃ قائم فرمایا ہے۔(۱۸) ان کے علاوہ مسند امام شافعی (۱۹)مسند احمد بن حنبل(۲۰)سنن دار قطنی(۲۱)محلی ابن حزم میں بھی اس بارے میں کثیرروایات وآثار ہیں۔

 شارحین حدیث رحمہم اللہ تعالی:محدثین کے علاوہ شارحین حدیث  نے بھی سیر حاصل ابحاث فرمائی ہیں اور جمہور کے موقف کی دو ٹوک الفاظ میں تایید اور شرذمہ قلیلہ کے موقف کی بھرپور تردید فرمائی ہے،چنانچہ(۱) علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ نے عمدۃ القاری شرح بخاری میں،(۲)علامہ ابن حجر شافعی اور(۳) علامہ قسطلانی  شافعی رحمہمااللہ نے فتح الباری اور ارشاد الساری میں، (۴) امام نووی رحمہ اللہ نے شرح مسلم میں (۵)علامہ ابن عبدالبر المالکی رحمہ اللہ نے  الاستذکار اور التمہید میں(۶) امام ابو الولید الباجی المالکی رحمہ اللہ تعالی نے المنتقی شرح الموطا میں (۷) علامہ زرقانی رحمہ اللہ نے شرح موطا مالک میں(۸)قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ نے اکمال المعلم شرح صحیح مسلم میں (۹) امام قرطبی رحمہ اللہ نےالمفہم  لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم میں(۱۰) ابن رجب حنبلی اور ابن بطال رحمہما اللہ تعالی نے اپنی شروح بخاری میں اس بارے میں خوب مدلل بحث فرمائی ہے۔

مفسرین کرام رحمہم اللہ تعالی:اکثرمفسرین  نے جمہور کے موقف کی تایید میں لکھا ہے، چنانچہ مشہور مفسرین  میں سے (۱)امام جصاص حنفی رحمہ اللہ نے احکام القرآن میں (۲)علامہ آلوسی حنفی رحمہ اللہ تعالی نے روح المعانی میں(۳) امام قرطبی مالکی رحمہ اللہ نے تفسیر احکام القرآن میں (۴) علامہ ابن العربی مالکی رحمہ اللہ نے اپنے احکام القرآن میں(۵)امام رازی شافعی رحمہ اللہ تعالی نے تفسیر کبیرمیں(۶) علامہ عماد الدین ابن کثیردمشقی شافعی رحمہ اللہ نے تفسیر ابن کثیر میں(۷)قاضی ثناءاللہ رحمہ اللہ نےتفسیر مظہری میں جمہور کے موقف کی بھر پور انداز میں دلائل سےتایید کےساتھ اس پر اجماع صحابہ  رضی اللہ عنہم کی تصریحات فرمائی ہیں۔

 مجتہدین وفقہاء  امت رحمہم اللہ تعالی: مذاہب اربعہ کے ائمہ مجتہدین عظام وفقہاء ومشایخ کرام رحمہم اللہ تعالی نے فقہ کے جملہ انواع  کتب فقہ مثلا کتب اصول،کتب متون ،کتب شروح  وحواشی اورکتب فتاوی میں اس مسئلہ میں جمہور کےموقف کونہایت واضح اور دوٹوک اور غیر لچکدار انداز میں بیان کیا ہے اور اس بارے میں کسی بھی مخالف قول یا رائے کی کوئی علمی یا فقہی حیثیت تسلیم نہیں کی گئی،البتہ اس بارے میں فقہی کتب کا ذخیرہ  چونکہ وسیع وعریض  ہے،لہذااس میں سے صرف منتخب کتابوں کے نام لکھانا بھی شایدفتوی کےغیرضروری طوالت سےخالی نہ ہوگا،جبکہ بعض کتب فقہ کے نام آگے تفصیل کےضمن میں آرہے ہیں۔

مسئلہ تین طلاق کی نزاکت اورحساسیت:                                     

حاصل یہ کہ تین  طلاق کے تین ہونے کے دلائل کی کثرت، صراحت اور قطعیت اور تین کے ایک ہونے پر کوئی معتبر دلیل نہ ہونے کے پیش نظر جمہور امت کے اہل سنت علماء کا اس بارے میں رویہ نہایت سخت اورغیر لچکدار ہے اور وہ اس مسئلہ کو قطعااختلافی تسلیم نہیں کرتے،بلکہ اس پرقطعی اجماع صحابہ ہونےکےقائل ہیں،لہذا فقہاء امت  رحمہم اللہ تعالی نے تصریح فرمائی ہے کہ  تین طلاق کے بعد میاں بیوی کاحلالہ شرعی اورنکاح کےبغیر اکھٹے رہنا  اورجنسی خواہش کی تکمیل ناجائز اور گناہ کبیرہ  ،بلکہ حرام زنا ہےاوران پر حدزنا بھی جاری ہوگی اورطلاق کے بعد کی وطی سے پیدا شدہ اولاد بھی ولد الزنا ہوگی،اوراگر کوئی تین طلاق کے بعد کسی حنبلی مفتی سے فتوی لے کر یا کسی قاضی(جج) کا اسلامی عدالت سے تین کے ایک ہونے یا کوئی طلاق واقع نہ ہونے کی ڈگری لے لےتو اس سے تین طلاق  اور اس کی حرمت مغلظہ ختم نہ ہو گی ،اگر ایسا فیصلہ ایک نہ، بلکہ ہزاروں قاضی(جج) بھی لرلیں تو بھی اس سے تین طلاق اور اس سے پیدا شدہ حرمت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ،(جبکہ اصول یہ ہے کہ مختلف فیہ مسئلہ میں قضاء قاضی نافذ ہوتی ہے۔)نیز حاکم وقت پر لازم ہوگا کہ وہ ایسے مرد اورعورت میں فوری تفریق کا حکمم جاری کرے،(،فتح القدیر،تبیین الحقائق،بحر الرائق،فتاوی خیریہ)لہذاتین طلاق کےبعدکسی مفتی کےفتوی یاکسی عدالت کے فیصلےکے بعد اگر نکاح کرکے دوبارہ صحبت،حرمت کا علم ہونےکے باوجود کی ہوتوبھی راجح قول کے مطابق حدزنا جاری ہوگا،البتہ اگر فتوی کی وجہ سے اپنے لیے جائز اور حلال سمجھ کرصحبت کی ہوتو ایسی صحبت زنا اورناجائزتو تب بھی ہوگی،لیکن اس صحبت سےحدجاری نہ ہوگی،البتہ تعزیرضرورجاری ہوگی،اسی طرح ایسےفاسدنکاح کی صورت میں پیداہونےوالی اولادثابت النسب ہوگی۔(عالمگیریہ،بحر،شامیہ، فتاوی حقانیۃ:ج۴،ص۵۷۰)

رد المحتار - (ج 12 / ص 388):

ومفاده أنه لو وطئها بعد الثلاث في العدة بلا نكاح عالما بحرمتها لا تجب عدة أخرى لأنه زنا ، وفي البزازية : طلقها ثلاثا ووطئها في العدة مع العلم بالحرمة لا تستأنف العدة بثلاث حيض ، ويرجمان إذا علما بالحرمة ووجد شرائط الإحصان ، ولو كان منكرا طلاقها لا تنقضي العدة ، ولو ادعى الشبهة تستقبل .

الفتاوى الهندية - (ج 15 / ص 127):

والشبهة في الفعل في وطء المطلقة ثلاثا في العدة ولو طلقها ثلاثا ثم راجعها ثم وطئها بعد مضي العدة يحد إجماعا۔

العناية شرح الهداية - (ج 7 / ص 180)

فإن قيل : بين الناس اختلاف في أن من طلق امرأته ثلاثا هل يقع أو لا فينبغي أن يكون ذلك شبهة في إسقاط الحد .أجيب بأنه خلاف غير معتد به حتى لو قضى به القاضي لم ينفذ قضاؤه ،

الفتاوى الهندية - (ج 11 / ص 301):

ولو طلقها ثلاثا ، ثم تزوجها قبل أن تنكح زوجا غيره فجاءت منه بولد ولا يعلمان بفساد النكاح فالنسب ثابت ، وإن كانا يعلمان بفساد النكاح يثبت النسب أيضا عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى كذا في التتارخانية ناقلا عن تجنيس الناصري .

رد المحتار - (ج 10 / ص 447):

وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث .

قال في الفتح بعد سوق الأحاديث الدالة عليه : وهذا يعارض ما تقدم ، وأما إمضاء عمر الثلاث عليهم مع عدم مخالفة الصحابة له وعلمه بأنها كانت واحدة فلا يمكن إلا وقد اطلعوا في الزمان المتأخر على وجود ناسخ أو لعلمهم بانتهاء الحكم لذلك لعلمهم بإناطته بمعان علموا انتفاءها في الزمن المتأخر وقول بعض الحنابلة : توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم عن مائة ألف عين رأته فهل صح لكم عنهم أو عن عشر عشر عشرهم القول بوقوع الثلاث باطل ؟ أما أولا فإجماعهم ظاهر لأنه لم ينقل عن أحد منهم أنه خالف عمر حين أمضى الثلاث ، ولا يلزم في نقل الحكم الإجماعي عن مائة ألف تسمية كل في مجلد كبير لحكم واحد على أنه إجماع سكوتي .

وأما ثانيا فالعبرة في نقل الإجماع نقل ما عن المجتهدين والمائة ألف لا يبلغ عدة المجتهدين الفقهاء منهم أكثر من عشرين كالخلفاء والعبادلة وزيد بن ثابت ومعاذ بن جبل وأنس وأبي هريرة ، والباقون يرجعون إليهم ويستفتون منهم وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف - { فماذا بعد الحق إلا الضلال } - وعن هذا قلنا لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف وغاية الأمر فيه أن يصير كبيع أمهات الأولاد أجمع على نفيه وكن في الزمن الأول يبعن ا هـ ملخصا ثم أطال في ذلك۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (ج 9 / ص 114):

ولا حاجة إلى الاشتغال بالأدلة على رد قول من أنكر وقوع الثلاث جملة لأنه مخالف للإجماع كما حكاه في المعراج ولذا قالوا : لو حكم حاكم بأن الثلاث بفم واحد واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ فيه الاجتهاد لأنه خلاف لا اختلاف ، وفي جامع الفصولين طلقها وهي حبلى أو حائض أو طلقها قبل الدخول أو أكثر من واحدة فحكم ببطلانه قاض كما هو مذهب البعض لم ينفذ وكذا لو حكم ببطلان طلاق من طلقها ثلاثا بكلمة واحدة أو في طهر جامعها فيه لا ينفذ ا هـ .

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق - (ج 12 / ص 108):

وإما أن يكون مخالفا للدليل الشرعي وهو النوع الرابع فإنه لا ينفذ قضاؤه ، ولا ينفذ بتنفيذ قاض آخر ، ولو رفع إلى حاكم ونفذه لأن قضاءه وقع باطلا لمخالفته الكتاب أو السنة أو الإجماع ، فلا يعود صحيحا بالتنفيذ وذلك مثل القضاء بشاهد ويمين أو بالقصاص بتعيين الولي واحدا من أهل المحلة ويمينه أو بصحة نكاح المتعة والمؤقت أو بصحة بيع عبد معتق البعض أو بلزوم ثمن متروك التسمية عمدا أو بجواز نكاح الجدة أو امرأة الجد أو بسقوط الدين بمضي سنين أو بجواز بيع جنين ذبحت أمه ومات في بطنها أو بحل المطلقة ثلاثا للأول قبل أن يدخل بها الثاني أو إبطال عفو المرأة عن القود أو بعدم وقوع الطلاق الثلاث جملة أو بعدم وقوع الطلاق على حبلى أو حائض قبل الدخول .كل ذلك لا ينفذ فيه حكم الحاكم لوقوعه باطلا ،

امام زہری اور قتادہ رحمہمااللہ تعالی کا فتوی:

واضح رہے کہ یہ فتاوی بھی محض  قیاس آرائی یا محض مذہبی تعصب کی بنیاد پر نہیں دیئےگئے، بلکہ ان کی اساس و بنیاد بھی معروف معتبر  کبارصحابہ  رضی اللہ عنہم وثقات تابعین رحمہم اللہ تعالی کے فتاوی پر ہے۔

چنانچہ مصنف عبد الرزاق میں ہے کہ اگر کسی شخص نے سفر میں اپنی بیوی کو دو گواہوں کے سامنے تین طلاقیں دے دیں اور وطن واپس آکر اس نے بیوی سے وطی کی ، اس پر گواہوں نے کہا کہ وہ ہمارے سامنے تین طلاقیں دے چکا ہے تو اس صورت میں زہری اور قتادہ رحمہمااللہ تعالی  نے کہا کہ اگر یہ شوہر حلف اٹھائے کہ ان دونوں نے مجھ پر جھوٹی گواہی دی ہے تب تو اس کو سوکوڑے لگائے جائیں گے اور مردوعورت میں علیحدگی کردی جائے گی اور اگر مرد نے اقرار کرلیا کہ ہاں میں نے طلاق دی تھی تو اس کو سنگسار کیا جائے گا۔

اور امام زہری رحمہ اللہ تعالی نے یہ فتوی دیا ہے کہ کسی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، پھر کسی نے فتوی دیا کہ رجوع کرلو، اس بناء پر اس نے مطلقہ سے وطی کرلی تو جس نے فتوی دیا ہے، اس کو عبرت ناک سزا دی جائے گی اور مردوعورت میں جدائی کردی جائے گی اورمردکو اس ناجائز وطی کا تاوان بھی برداشت کرنا پڑے گا۔

 اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی متعدد آثار میں تین طلاق کی صورت میں مردوعورت میں تفریق کے ساتھ جسمانی سزا دینےکافیصلہ کرنابھی ثابت ہے۔جیسا کہ آگے آثارصحابہ رضی اللہ عنہم میں آتا ہے۔

بلکہ بعض تابعین  کرام رحمہم اللہ تعالی سے منقول ہے کہ دفعۃ دی گئی تین طلاق کے ایک ہونے کا فتوی دینے والے مفتی کو بھی شرعا تعزیر لگائی جائے گی۔

المصنف-الصنعاني - (ج 16 / ص 129)

عبد الرازق عن معمر عن الزهري ، وقتادة ، في رجل طلق امرأته عند شاهدين  وهو غائب ثلاثا ، ثم قدم ، فدخل على امرأته ، فأصابها ،وقال الشاهدان : شهدنا لقد طلقها ، قالا : يحد مئة ، ويفرق بينهما، إذا هو جحد فقال : والله لقد شهد هاذان علي بباطل ، وإن اعترف أنه قد كان طلقها رجم .    

 عبد الرزاق عن الثوري في رجل طلق ثلاثا ثم دخل عليها ، قال : يدرأ عنها الحد ، ويكون عليها الصداق .

عبد الرزاق عن الثوري عن ابن جريج  عن عيسى عن  عاصم عن شريح أن رجلا طلق امرأته ثلاثا ، فشهد عليه قوم أنه يجامعها بعد ذلك ، قال : إن شئتم شهدتم أنه زان .

عبدالرزاق عن معمر عن الزهري في رجل طلق امرأته ثلاثا ، ثم أفتاه رجل بأن يراجعها فدخل عليها ، قال : ينكل الذي أفتاه ، ويفرق بينه وبين امرأته ، ويغرم الصداق .

 عبد الرزاق عن ابن جريج عن عطاء في رجل طلق امرأته ثلاثا ، ثم أصابها وأنكر أن يكون طلقها ، فشهدعليه بطلاقها ، قال : يفرق بينهما ، وليس عليه رجم ، ولا عقوبة ،

قال ابن جريج : وبلغني أن عمر بن الخطاب قضى بذلك .

 عبدالرزاق عن ابن جريج قال : أخبرني سليمان بن موسى وغيره أن عبدالملك قضى بمثل ذلك .

 مسئلہ تین طلاق کی سنگینی اور قطعیت:

 اس مسئلہ کی قطعیت اور سنگینی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ امام ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد علامہ ابن قیم رحمہمااللہ تعالی کی جلالت شان اور علمی تبحر اور ورع اور تقوی کے اعلی مقام اورانقلابی وشانداردینی خدمات کے اعتراف کےباوجودمعاصر(اقران وشاگرد) اہل علم حضرات نے اس مسئلہ میں نہ صرف یہ کہ ان کے علمی اختلاف کی وجہ سے اس مسئلہ کو مختلف فیہ بھی نہیں تسلیم کیا،بلکہ ان کےموقف کوبھر پورومدلل انداز میں ردبھی کیا،بلکہ اس اختلاف کی وجہ سے خودانکی علمی ثقاہت کافی مجروح ہوئی اوروہ متنازع شخصیت بن گئے۔

 لہذا امت مسلمہ میں ان دوحضرات اور ان کے بعض پیرو کاروں مثلا علامہ شوکانی اورعز الدین بن عبد السلام رحمہما اللہ کے علاوہ مذہب اربعہ کے معروف مشایخ وفقہاء سمیت کسی بھی مشہور امام  یا فقیہ یا مفسر ،محدث  نے اپنی کسی بھی  فقہ ،تفسیر، حدیث  کی کتاب میں اس قول کو نہیں لیا کہ" ایک ساتھ دی گئی تین طلاقیں تین نہیں، بلکہ ایک ہیں۔"بلکہ تقریبا تمام مشہور فقہاء ،مفسرین ومحدثین نے جمہور کےموقف کو ہی لیا ہے ،بلکہ اس کے خلاف موقف کی بھرپور تردید کی ہے اور اس موقف پر پیش کی جانے والی روایات وجملہ دلائل کےمضبوط اورمسکت جوابات دیئے ہیں،جیساکہ گزرچکا،نیز خود علامہ ابن تیمیہ اور علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کے تمام شاگردوں(مثلاعلامہ ابن کثیر،امام ذہبی،علامہ ابن رجب رحمہم اللہ تعالی) نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا ،بلکہ سب مخالف تھے، حتی کہ علامہ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ تعالی نے اس بارے میں"بیان مشکل الاحادیث الواردۃ فی ان الطلاق الثلاث  طلاق واحدۃ"نامی مستقل کتاب تصنیف فرمائی ہے جس میں علامہ  ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کی اس بارے میں تصنیف کردہ کتاب"اغاثۃ اللھفان" کے پیش کردہ دلائل کوپوری طرح رد کردیا ہےاور ہر چیز کا شافی وبھر پورجواب دیا۔(فتاوی محمودیہ:ج۱۸،ص۳۲۶)

مسئلہ تین طلاق میں اسلامی ممالک کےفیصلوں اورقانون سازی کی شرعی حیثیت:

 مذکورہ تفصیل سےمعلوم ہوا کہ ایک مجلس میں یا ایک کلمہ سےدی گئی تین طلاق کا تین ہی ہونا نہ صرف یہ کہ اس کی بنیادقرآن وسنت کی کثیرصریح اورصحیح نصوص وصحابہ وتابعین رضحی اللہ عنہم کےکثیرصریح وصحیح آثارکی بنیاد پرہے،بلکہ یہ امت مسلمہ کاایک متفق علیہ و اجماعی قطعی مسئلہ ہے،نیزاس بارےمیں غیرجانب دارانہ جدیدمعاصرعلمی تحقیق اورتنقیدی جائزہ(مثلامعتبرعلماءسعودی عرب کامشاورتی متفقہ فتوی جیساکہ اس کاذکرآگےآتاہے۔) آج بھی جمہورکےموقف کی ہی تاییدکرتی ہے،لہذااس مسئلہ میں  کسی بھی سطح پرتحقیق جدید کے نام پراختلاف رائے کی گنجائش قطعاروا نہیں رکھی گئی،لہذافی زمانہ بعض اسلامی ممالک میں اس کے خلاف کی جانے والی قانونی سازی کی بھی مذاہب اربعہ میں سے کسی بھی مذہب  کےمعتبراہل علم وفتوی کی طرف سےشرعا کوئی حیثیت تسلیم نہیں کی گئی، بلکہ اس کو رد کیا گیا ہے،چنانچہ فتاوی حقانیہ:ج۴، ص۴۷۳ پرایک سؤال کے جواب میں تین طلاق کے ایک ہونے سے متعلق عائلی قوانین کے بارے میں لکھا ہے:

"عائلی قوانین میں جو دفعات نکاح وطلاق کے بارے میں رکھی گئی ہیں ان میں سے اکثر دفعات کو ہر کتب فکر کے علماء نے قرآن وحدیث کے صریح خلاف قرار دیا ہے، لہذا جو شخص ایسی دفعات پر مشتمل عائلی قوانین  پر لوگوں کو چلنے کی تلقین کررہا ہے وہ لوگوں کو قرآن وحدیث کی خلاف ورزی کی تلقین کررہا ہے جو کسی طرح بھی ایک عالم دین،  بلکہ مؤمن کے شایان شان نہیں ہے، ایسے قوانین کےمصنفین اور واضعین کے بارے میں قرآن کریم کا فیصلہ یہ ہے:

فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ  [البقرة/79]

 آجکل کے(ایسے)قانون سازوں کی حالت ان لوگوں کی حالت سے کچھ زیادہ مختلف نہیں،جن کاذکر اس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔"

جمہور کےموقف کے دلائل:

 اب تین طلاق کے تین ہونے پر قرآن حدیث وآثار صحابہ وتابعین رضی اللہ عنہم سے دلائل بالترتیب پیش کئے جاتے ہیں۔(آگے دلائل کی بحث تقریباخالص علمی ہے،لہذااسےصرف اہل علم ہی کماحقہ سمجھ سکتے ہیں۔)

قرآن مجید کی آٹھ آیات سے استدلال:

 پہلی آیت:الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آَتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ  [البقرة/229]

اس آیت میں مرتان کی تفسیر اور معنی میں دو احتمال ہیں اور دونوں صحیح ہیں، اگرچہ ترجیح میں اختلاف ہے، امام رازی اورعلامہ آلوسی رحمہما اللہ تعالی نے دوسری تفسیر کو ترجیح دی ہے، جبکہ  امام ابوبکر جصاص  اورعلامہ  ابو الولیدالباجی  المالکی رحمہمااللہ تعالی وغیرہ نے پہلی کو ترجیح دی ہے:

(۱)پہلی تفسیر:طلاق دومرتبہ ہے یا دو دفعہ ہے ،اس تفسیر کے مطابق مرتان سے مرۃ بعد مرۃ یعنی یکے بعد دیگرے زمانہ طہرمیں طلاق دینا مراد ہےاوریہ تفسیر علماءاحناف رحمہم اللہ تعالی کی اختیار کردہ ہے، اس لیے کہ وہ نصوص شرعیہ کی روشنی میں ایک سے زائدطلاق کو جمع کرنے کےعدم جواز کے قائل ہیں،لہذا اس تفسیر کے مطابق آیت میں طلاق مشروع کا طریقہ بتانا مقصود ہے،جس کا حاصل تفریق مع التثنیہ ہےیعنی مشروع طریقہ دومتفرق طلاق دینا ہے اوراس تفسیرکےمطابق ایک طلاق کامشروع ہونا آیت کےدلالۃ النص سے ثابت ہوگا۔(تفسیر کبیر،روح المعانی)

اب آیت سےدفعۃ دی گئی تین طلاق کے تین ہی واقع ہونے پر استدلال اس طرح ہے کہ اس آیت کا  مقصدچونکہ طلاق مشروع کو بیان کرنا ہے جو کہ تعدد طلاق کی صورت میں مختلف مخصوص طہروں میں طلاق دینا ہےاورآیت الطلاق مرتان بصورت خبرانشاء وامرہے اورچونکہ اصول فقہ کےقاعدہ کے مطابق امر بالشیء مامور بہ کی ضد سے نہی  کا بھی تقاضا کرتا ہے، لہذاایک طہر میں یا ایک کلمہ سےدوطلاق کا عدم جوازاس آیت کے عبارۃ النص سے اور تین طلاق کا عدم جواز دلالۃ النص سے ثابت ہوگااورطلاق چونکہ فعل شرعی ہےاورافعال شرعیہ میں نہی قبح لغیرہ کا تقاضا کرتی ہے،لہذا طلاق غیرمسنون مشروع باصلہ اور غیرمشروع بوصفہ ہوگا،لہذا طلاق غیر مشروع کاعدم جواز عدم وقوع کومستلزم نہیں،اس لیےکہ نہی طاری مشروعیت اصلیہ کےمنافی نہیں،لس طرح اس آیت سے ایک طہرمیں یا ایک کلمہ سےدو طلاق  دینے کا عدم جواز( مع صحت وقوع) عبارۃ النص سے ثابت ہوگااور ایک طہرمیں یا ایک کلمہ سے تین طلاق دینے کا عدم جواز( مع صحت وقوع) آیت کے دلالۃ النص سے ثابت ہوگا۔  (ملخص وماخوذازاحکام القرآن للجصاص وفتح القدیر)

أحكام القرآن للجصاص - (ج 2 / ص 83)

ذكر الحجاج لإيقاع الطلاق الثلاث معا

 قال أبو بكر قوله تعالى الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان الآية يدل على وقوع الثلاث معا مع كونه منهيا عنها وذلك لأن قوله الطلاق مرتان قد أبان عن حكمه إذا أوقع اثنين بأن يقول أنت طالق أنت طالق في طهر واحد وقد بينا أن ذلك خلاف السنة فإذا كان في مضمون الآية الحكم بجواز وقوع الإثنتين على هذا الوجه دل ذلك على صحة وقوعهما لو أوقعهما معا لأن أحدا لم يفرق بينهما وفيها الدلالة عليه من وجه آخر وهو قوله تعالى فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الإثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهار فوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو غير مسنون ومباح أو محظور فإن قيل قدمت بديا في معنى الآية أن المراد بها بيان المندوب إليه والمأمور به من الطلاق وإيقاع الطلاق الثلاث معا خلاف المسنون عندك فكيف نحتج بها في إيقاعها على غير الوجه المباح والآية لم تتضمنها على هذا الوجه قيل له قد دلت الآية على هذه المعاني كلها من إيقاع الإثنتين والثلاث لغير السنة وأن المندوب إليه والمسنون تفريقها في الأطهار وليس يمتنع أن يكون مراد الآية جميع ذلك ألا ترى أنه لوقال طلقوا ثلاثا في الأطهار وإن طلقتم جميعا معا وقعن كان جائزا وإذا لم يتناف المعنيان واحتملتهما الآية وجب حملها عليهما(فتاوی عثمانی: ج۲،ص ۴۱۳ پر بھی جصاص کے حوالہ  یہ استدلال منقول ہے۔)

    لہذاغیر مشروع طلاق کی تمام صورتیں باوجود ممنوع ہونے کے  ایقاع کے باب میں مؤثر ہونگی اوراس کی نظیر ظہار ہے کہ قرآن مجید میں اسے قول منکر کہا گیا ہے ،لیکن اس کے باوجود وہ حرمت کے باب میں مؤثر ہے ،لہذا ایسا حکم طلاق غیر مشروع کا بھی ہوسکتا ہے،اسی طرح اس کی نظیر نماز سے نکلنے کا مشروع طریقہ سلام پھیرنا ہے ،لیکن اگر کوئی بات چیت کے کھانے پینے یا کسی اور  مکروہ عمل کے ذریعے نماز سے نکلنا چاہے تو بھی نماز سےنکل جائے گا۔(شرح معانی الآثار للطحاوی)

 نیزاس  آیت سے استدلال کی تایید آیت کے آخری حصہ سے بھی ہوتی ہے کہ ان حدود شرع سے تجاوز کرنے والے کواپنے اوپر ظم وزیادتی کرنے والا کہا گیا ہے اور وہ دنیا میں حق رجوع سے محرومی ہی ہے،جیساکہ بعض مالکیہ نے ایک کلمہ سے تین طلاق واقع ہونے پر اس سے استدلال فرمایا ہے۔(تفسیرابن کثیر)

لہذا اس آیت سے اس تفسیر کے مطابق متعددفقہاءو مفسرین  ومحدثین نے ایک ساتھ دی گئی تین طلاقوں کے تین واقع ہونے پر استدلال فرمایا ہے ،چندمشہورومستندتفاسیروکتب فقہ کےنام ملاحظہ ہوں۔تفسیراحکام القرآن للجصاص ،تفسیر احکام القرآن لابن العربی،تفسیر ابن کثیر،نیز تفسیر احکام القرآن للقرطبی اوربالخصوص تفسیرروح المعانی میں تواس مفہوم کے مطابق جمہور کےاستدلال مع دلائل اورمخالفین کےجملہ استدلالات کےمضبوط جوابات بھی  تفصیل  وجامعیت سےدیئے ہیں اور فقہاء میں سے امام سرخسی  رحمہ اللہ تعالی نے مبسوط میں اور علامہ عینی  رحمہ اللہ تعالی نے  عمدۃ القاری میں بھی استدلال فرمایا ہے۔

 ایک شبہ کا جواب اورایک غلط استدلال کی تردید:

لہذامذکورہ تفصیل سےمعلوم ہوا کہ امام طحاوی رحمہ اللہ تعالی کی طرف سےاس مقام پرظہاروغیرہ امورمحض نظائرکےطور پر پیش کئے گئے ہیں،لہذاعلامہ شوکانی رحمہ اللہ کااس کو قیاس مع الفارق کاعنوان دینا خلط مبحث کی بناء پرمحض بےمعنی کلام اوربےسودشغب ہےجولائق التفات نہیں۔(الاشفاق علی احکام الطلاق)

 نیزیہ بھی معلوم ہواکہ طلاق کےغیرمشروع ہونےسےاس کےعدم وقوع پراستدلال (جیساکہ علامہ ابن قیم اور علامہ شوکانی  اور ابن حزم ظاہری رحمہم اللہ وغیرہ نے کیا ہے۔) درست نہیں،جس کی درج ذیل چند وجوہ ہیں:

 پہلی بات یہ کہ  یہ بات اصول فقہ کے ایک معروف و معقول اصول کےخلاف ہے اوردوسری بات یہ کہ یہ منصوص شرعی نظائرکے بھی منافی ہے جیساکہ بیان ہوچکا۔تیسری بات یہ کہ  صحیح بخاری  کی  حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی صحیح حدیث سےحالت حیض میں دی گئی طلاق کامعتبر ہونا اوراس میں حق رجوع کاحاصل ہوناآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سےبھی ثابت ہے اورحالت حیض کی طلاق غیرمشروع طلاق کی جنس سےہے۔چوتھی یہ کہ متعدداحادیث مرفوعہ وآثارموقوفہ سے تین اور تین سے زائد طلاق دینے کی صورت میں تین طلاق کاوقوع بھی صراحت کے ساتھ ثابت ہے۔(جیساکہ آگے دلائل کےضمن میں آتا ہے انشاء اللہ تعالی)پانچویں یہ کہ کسی ایک بھی صریح صحیح یا ضعیف مرفوع یا موقوف روایت سےغیرمشروع طلاق کاشرعا غیرمعتبراورغیرمؤثرہوناثابت نہیں۔چھٹی بات یہ کہ غیر مشروع کو مؤثر نہ ماننا موضوع شرع کی مخالفت کومستلزم ہے،اس لیے کہ احکام شرع سے مقصود عمل کرنے والوں کے لیے آسانی اور سہولت پیدا کرنا ہوتا ہےجب کہ طلاق غیر مشروع کومؤثرنہ ماننے سےنافرمان( خلاف شرع طلاق دینے والے)کوسہولت وآسانی (یعنی وقوع طلاق سے استثناء) دیناجبکہ مطیع وفرمانبردار کو(طلاق واقع مان کر) اس  سہولت سےمحروم کرنا لازم آتاہے۔(ملخص وماخوذازاعلاءالسنن)

 حاصل یہ کہ غیر مشروع طلاق کا مؤثراورواقع ہونا دلائل عقلیہ ونقلیہ ہر لحاظ سے ثابت ومبرہن ہے، جبکہ اس کے خلاف موقف عقل ونقل کسی بھی لحاظ سےدرست و ثابت نہیں۔    

 (۲)دوسری تفسیر یہ ہے کہ آیت کا معنی" قابل رجوع طلاق دو  ہیں،اس تفسیر کےمطابق مرتان سے مراداثنان ہے،خواہ یکے بعددیگرے ہوں یا ایک ساتھ ایک کلمہ سے،لہذا اس تفسیر کے مطابق آیت  کامقصد طلاق رجعی کو بیان کرنا ہےاورالطلاق میں الف لام عہد کے لیے ہوگا اور طلاق معہود فی الذکر طلاق رجعی ہے اور یہ تفسیر شوافع کی اختیار کردہ ہے ،وہ متعدد طلاق  ایک ساتھ دینے کے قائل ہیں، اس تفسیر کے مطابق دفعۃ  تین طلاق کے وقوع پر استدلال اس طرح ہے کہ اس آیت کے اطلاق  کے مطابق جب دو طلاق رجعی بہرصورت(خواہ متفرق ہوں یا ایک کلمہ سے)واقع ہوجاتی ہیں تو تین کے واقع ہونے سےبھی کوئی مانع نہیں،اس لیے کہ تین اور دو میں فرق کانہ کوئی قائل  ہے اور نہ ہی کوئی معقول فارق ہے۔

نیز امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے بھی اس آیت سے تین ایک ساتھ دی گئی تین طلاق کے تین واقع ہونے پراستدلال فرمایا ہے اور بخاری کے مشہور ومعروف شارحین علامہ ابن حجر ،علامہ عینی اور علامہ قسطلانی وغیرہ رحمہم اللہ تعالی سب لکھتے ہیں کہ یہ جملہ اکھٹی تین طلاقیں واقع کرنے کے جواز اور وقوع پر دلالت یا اشارہ کرتا ہے اور اس آیت سے استدلال کی تایید وتوثیق فرمائی ہے نیزمفسرین میں سے امام قرطبی اور ابن العربی نے بھی امام بخاری رحمہ اللہ تعالی کے استدلال کی یہی توضیح وتشریح کر کے توثیق فرمائی ہے اور ابن حزم محلی کی بھی میں یہی رائے ہے۔

صحيح البخاري ـ م م - (ج 7 / ص ):

باب من أجاز طلاق الثلاث لقول الله تعالى { الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان }

دوسری آیت:فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ [البقرة/230]

استدلال اس آیت کے ابتدائی جملے "فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ  "سے ہے، اس لیےکہ اس آیت میں تین طلاق کےبعد پہلےشوہر سےنکاح حرام ہونےکا ذکر مطلق ہے خواہ متفرق ہوں یا ایک ساتھ دی گئی ہوں، آیت میں تخصیص کی کوئی دلیل نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ تعالی ،امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی کے علاوہ احناف میں سے علامہ کاسانی رحمہ اللہ تعالی نےبھی بدائع الصنائع میں اس آیت سے تین طلاق کےوقوع پراستدلال فرمایا ہے۔

السنن الكبرى للبيهقي وفي ذيله الجوهر النقي - (ج 7 / ص 333):

باب ما جاء فى إمضاء الطلاق الثلاث وإن كن مجموعات قال الله جل ثناؤه (الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان) وقال (فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره) {ش} قال الشافعى رحمه الله : فالقرآن والله أعلم يدل على أن من طلق زوجة له دخل بها أو لم يدخل بها ثلاثا لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره.

الأم للشافعي - (ج 5 / ص 196)

(قال الشافعي) قال الله تبارك وتعالى (الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان) وقال تبارك وتعالى (فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره) (قال الشافعي) والقرآن يدل والله أعلم على أن من طلق زوجة له دخل بها أو لم يدخل بها ثلاثا لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره فإذا قال الرجل لامرأته التي لم يدخل بها أنت طالق ثلاثا فقد حرمت عليه حتى تنكح زوجا غيره أخبرنا مالك عن ابن شهاب عن الزهري عن محمد بن عبد الرحمن ابن ثوبان عن محمد بن إياس بن الكبير قال طلق رجل امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها ثم بدا له أن ينكحها فجاء يستفتى فسأل أبو هريرة وعبد الله بن عباس فقالا لا نرى أن تنكحها حتى تتزوج زوجا غيرك فقال إنما كان طلاقي إياها واحدة فقال ابن عباس إنك أرسلت من يدك ما كان لك من فضل، أخبرنا مالك عن يحيى بن سعيد عن بكير ابن عبد الله بن الاشج عن النعمان بن أبى عياش الانصاري عن عطاء بن يسار قال جاء رجل يسأل عبد الله ابن عمرو ابن العاص عن رجل طلق امرأته ثلاثا قبل ان يمسها قال عطاء فقلت إنما طلاق البكر واحدة فقال عبد الله بن عمرو إنما أنت قاص الواحدة تبينها والثلاث تحرمها حتى تنكح زوجا غيره

مسائل أحمد بن حنبل رواية ابنه عبد الله - (ج 1 / ص 371):

حدثنا قال قلت لابي رجل طلق ثلاثا وهو ينوي واحدةقال هي ثلاث۔۔۔۔۔۔حدثنا قال سألت ابي عن المطلقة ثلاثافقال لا تحل لزوجها حتى تنكح زوجا غيره يدخل بها ويطؤها

اس آیت سے تین طلاق کے تین ہونے پرامام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام بخاری رحمہما اللہ تعالی کے استدلال کی تاییددرج ذیل آثار صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی ہوتی ہے،جن میں دفعۃ دی گئی تین طلاق کو تین قرار دیا گیا ہے اور دلیل میں اس آیت کا  بطور استشہادحوالہ دیا گیاہے،لہذا دفعۃتین طلاق کےتین واقع ہونے پر آیت سے استدلال بالکل صحیح اور بے غبار،بلکہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ   رضی اللہ عنہم کےفتاوی واستدلال سے مؤید بھی ہے۔

 دس صریح اورصحیح ماثورتفسیری حوالجات:

صحيح البخاري ـ م م - (ج 7 / ص ):

(۱)وقال الليث حدثني نافع قال كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال لو طلقت مرة أو مرتين فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك

السنن الكبرى للبيهقي وفي ذيله الجوهر النقي - (ج 7 / ص 334):

(۲)عن شقيق سمع أنس بن مالك يقول قال عمر بن الخطاب رضى الله عنه فى الرجل يطلق امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها قال : هى ثلاث لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره وكان إذا أتى به أوجعه.( وفی اعلاء السنن:ج۱۱،ص۱۵۶: رواہ ابن القیم فی اغاثۃ اللھفان ساکتا علیہ ورجالہ ثقات)

(۳)عن عبد الرحمن بن أبى ليلى عن على رضى الله عنه فيمن طلق امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها قال : لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره. (وفی اعلاء السنن:ج۱۱،ص۱۵۶: رواہ ابن القیم فی اغاثۃ اللھفان ساکتا علیہ)

(۴)أخبرنا الشافعى أخبرنا مالك عن ابن شهاب عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان عن محمد بن إياس بن البكير قال : طلق رجل امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها ثم بدا له أن ينكحها فجاء يستفتى فذهبت معه أسأل له فسأل أبا هريرة وعبد الله بن عباس عن ذلك فقالا : لا نرى أن تنكحها حتى تنكح زوجا غيرك قال : إنما كان طلاقى إياها واحدة فقال ابن عباس : إنك أرسلت من يدك ما كان لك من فضل. (وفی اعلاء السنن:ج۱۱،ص۱۵۷کذا روہ الامام مالک فی الموطا)

(۵)أخبرنا الشافعى أخبرنا مالك عن يحيى بن سعيد عن بكير يعنى ابن عبد الله بن الأشج أخبره عن معاوية بن أبى عياش الأنصارى أنه كان جالسا مع عبد الله بن الزبير وعاصم بن عمر رضى الله عنهم قال فجاءهما محمد بن إياس بن البكير فقال : إن رجلا من أهل البادية طلق امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها فماذا تريان؟ فقال ابن الزبير : إن هذا لأمر ما لنا فيه قول اذهب إلى ابن عباس وأبى هريرة فإنى تركتهما عند عائشة رضى الله عنها فسلهما ثم ائتنا فأخبرنا فذهب فسألهما قال ابن عباس لأبى هريرة : أفته يا أبا هريرة فقد جاءتك معضلة فقال أبو هريرة : الواحدة تبينها والثلاث تحرمها حتى تنكح زوجا غيره وقال ابن عباس مثل ذلك.( ورواہ مالک فی الموطا ایضا)

(۶)أخبرناالشافعى أخبرنا مالك عن يحيى بن سعيد عن بكير بن عبد الله بن الأشج عن النعمان بن أبى عياش الأنصارى عن عطاء بن يسار قال : جاء رجل يستفتى عبد الله بن عمرو بن العاص عن رجل طلق امرأته ثلاثا قبل أن يمسها فقال عطاء فقلت : إنما طلاق البكر واحدة فقال لى عبد الله بن عمرو : إنما أنت قاص الواحدة تبينها والثلاث تحرمها حتى تنكح زوجا غيره.(وکذا فی موطا مالک)

(۷)عن الأشجعى عن سفيان عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال : إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل أن يدخل بها لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره.( وفی اعلاء السنن:ج۱۱،ص۱۵۸: رواہ ابن القیم فی اغاثۃ اللھفان ساکتا علیہ)

(۸)عن سويد بن غفلة قال : كانت عائشة الخثعمية عند الحسن بن على رضى الله عنه فلما قتل على رضى الله عنه قالت : لتهنئك الخلافة قال : بقتل على تظهرين الشماتة اذهبى فأنت طالق يعنى ثلاثا قال : فتلفعت بثيابها وقعدت حتى قضت عدتها فبعث إليها ببقية بقيت لها من صداقها وعشرة آلاف صدقة فلما جاءها الرسول قالت : متاع قليل من حبيب مفارق فلما بلغه قولها بكى ثم قال : لولا أنى سمعت جدى أو حدثنى أبى أنه سمع جدى يقول :« أيما رجل طلق امرأته ثلاثا عند الأقراء أو ثلاثا مبهمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره ». لراجعتها.( وفی اعلاء السنن: ج۱۱،ص۱۴۶: وسندہ حسن لیس فیہ احد متکلم فیہ غیر عمرو بن ابی قیس الازرق ولکنہ صدوق ،لہ اوھام وقال ابو داوو لاباس بہ، فی حدیثہ خطاوغیر راویہ سلمۃ بن الفضل قاضی الری ولکن قال  ابن معین: ھو یتشیع وقد کتبت عنہ ولیس بہ باس ،کذا فی التعلق  المغنی (۲:۴۳۷)

السنن الكبرى للبيهقي وفي ذيله الجوهر النقي - (ج 7 / ص 257):

(۹)أخبرنا أبو الحسن : على بن الحسين بن على البيهقى صاحب المدرسة بنيسابور أخبرنا أبو حفص : عمر بن أحمد بن محمد القرميسينى بها حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن زياد الطيالسى حدثنا محمد بن حميد الرازى حدثنا سلمة بن الفضل حدثنا عمرو بن أبى قيس عن إبراهيم بن عبد الأعلى عن سويد بن غفلة قال : كانت الخثعمية تحت الحسن بن على رضى الله عنهما فلما أن قتل على رضى الله عنه بويع الحسن بن على دخل عليها الحسن بن على فقالت له : لتهنك الخلافة. فقال الحسن : أظهرت الشماتة بقتل على أنت طالق ثلاثا فتلففت فى ثوبها وقالت : والله ما أردت هذا فمكثت حتى انقضت عدتها وتحولت فبعث إليها الحسن بن على ببقية من صداقها وبمتعة عشرين ألف درهم فلما جاءها الرسول ورأت المال قالت : متاع قليل من حبيب مفارق. فأخبر الرسول الحسن بن على رضى الله عنه فبكى وقال : لولا أنى سمعت أبى يحدث عن جدى النبى -صلى الله عليه وسلم- أنه قال :« من طلق امرأته ثلاثا لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره ». لراجعتها.( وفی اعلاء السنن: ج۱۱،ص۱۴۶:فالحدیث حسن حجۃ علی الکل لا سیما علی الشیعۃ)

السنن الكبرى للبيهقي وفي ذيله الجوهر النقي - (ج 7 / ص 376):

(۱۰)أخبرنا أبو زكريا بن أبى إسحاق المزكى أخبرنا أبو الحسن الطرائفى حدثنا عثمان بن سعيد حدثنا عبد الله بن صالح عن معاوية بن صالح عن على بن أبى طلحة عن ابن عباس رضى الله عنهما فى قوله تعالى (فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره) يقول : إن طلقها ثلاثا فلا تحل له حتى تنكح زوجا غيره۔

تیسری آیت:وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ وَلَا تَتَّخِذُوا آَيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ  [البقرة/231]

اس آیت سےبھی بعض اہل علم مثلا علامہ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ تعالی وغیرہ نے مطلقا تین طلاق کےوقوع پر استدلال فرمایا ہے،اس لیےکہ  یہ بھی  اللہ تعالی کےآیات کومذاق  اورکھیل بنانے کی ممانعت میں داخل ہےجس کا آیت میں ذکر ہے،نیز اس استدلال کی تایید حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوتی ہے۔(حکم الطلاق الثلاث)

سنن الدارقطني - (ج 4 / ص 20):

 عن أبي هاشم عن زاذان عن علي قال : سمع النبي صلى الله عليه و سلم رجلا طلق البتة فغضب وقال تتخذون آيات الله هزوا أو دين الله هزوا ولعبا من طلق البتة ألزمناه ثلاثا لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره۔

چوتھی آیت :يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا [الطلاق/1]

 اس آیت سے بھی ایک ساتھ دی گئی تین طلاق کے تین واقع ہونے پر بعض مالکیہ نے استدلال فرمایا ہے( کما فی حکم الطلاق الثلاث)بلکہ امام نووی رحمہ اللہ تعالی کے بقول یہ آیت جمہور کا مستدل ہے(شرح مسلم نووی) اور اس استدلال کی تایید بھی حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی آثار و فتاوی سے ہوتی ہے۔

السنن الكبرى للبيهقي وفي ذيله الجوهر النقي - (ج 7 / ص 337):

أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثنا أبو العباس : محمد بن يعقوب حدثنا الحسن بن على بن عفان حدثنا ابن نمير عن الأعمش عن مالك بن الحارث عن ابن عباس قال : أتانى رجل فقال إن عمى طلق امرأته ثلاثا فقال إن عمك عصى الله فأندمه الله وأطاع الشيطان فلم يجعل له مخرجا قال : أفلا يحللها له رجل؟ فقال : من يخادع الله يخدعه.

مصنف ابن أبي شيبة - (ج 4 / ص 61):

حدثنا أبو بكر قال نا بن نمير عن الأعمش عن مالك بن الحارث عن بن عباس أتاه رجل فقال إن عمي طلق امرأته ثلاثا فقال إن عمك عصى الله فأندمه الله فلم يجعل له مخرجا( وھذا سند صحیح ، الجوھر النقی:۲/۱۱۲ اعلاء السنن: ۱۱،ص۱۴۴)

فتح الباري لابن حجر - (ج 26 / ص 174):

وأخرج أبو داود بسند صحيح من طريق مجاهدقال كنت عند بن عباس فجاءه رجل فقال أنه طلق امرأته ثلاثا فسكت حتى ظننت أنه سيردها إليه فقال ينطلق أحدكم فيركب الاحموقة ثم يقول يا  بن عباس يا بن عباس أن الله قال ومن يتق الله يجعل له مخرجا وأنك لم تتق الله فلا أجد لك مخرجا عصيت ربك وبانت منك امرأتك وأخرج أبوداود له متابعات عن بن عباس بنحوه

مذکورہ آیات کے علاوہ اور بھی چند آیات ہیں جن کے اطلاق وعموم سے بعض اہل علم نے بیک لفظ دی گئی تین طلاقوں کے تین ہونے پر استدلال فرمایا ہے ،(المحلی لابن حزم وعمدۃ الاثاث للصفدررحمہمااللہ) آیات ملاحظہ ہوں:

پانچویں آیت:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا  [الأحزاب/49]

چھٹی آیت:لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ  [البقرة/236]

ساتویں آیت:وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ [البقرة/237]

آٹھویں آیت:وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ  [البقرة/241]

طرزاستدلال: ان آیات  میں سے بعض اپنے اطلاق اوربعض عموم کی بناء پر ایک ، دو ،تین  طلاق( متفرق اور مجتمع )سب صورتوں کو شامل ہیں،لہذا ان سے جمہور کے موقف پر اصولی استدلال بالکل صحیح  اور درست ہے، لہذاقاضی شوکانی  رحمہ اللہ تعالی وغیرہ  کا یہ کہنا کہ یہ آیات اپنے اطلاق یا عموم پر باقی نہیں ،بلکہ ایک سے زائد طلاق کی ممانعت کے دلائل کی بناء پر مخصص اورمقید ہیں،  خلط مبحث اوردعوی بلا دلیل ہے، اس لیے کہ کوئی ایک بھی ایسی صریح  اور صریح دلیل نہیں  پیش کی جاسکتی کہ ایک سے زائد طلاق بایں طور ممنوع ہے کہ وہ مؤثر بھی نہیں ہوگی، بلکہ ہمارے سامنے متعدد مرفوع روایات صحیحہ موجود ہیں جو  ایک سے زائد طلاقوں کے وقوع اور تنفیذ پر صراحۃ دالالت کرتی ہیں ،(جیساکہ آگےاحادیث مرفوعہ کےعنوان کےتحت  آرہی ہیں۔)لہذا وہ تمام روایات ان مطلق اور عام  آیات کے اپنےاطلاق اور عموم پر باقی رہنے کے صریح ومضبوط دلائل ہیں۔ لہذا قاضی شوکانی رحمہ اللہ تعالی کا دعوی نہ صرف یہ کہ بلا دلیل ہے، بلکہ خلاف دلیل ہے، نیزاس بارے میں علامہ ابن حزم رحمہ اللہ تعالی نے بھی ظاہری ہونے کےباوجود جمہورکے موقف کی تایید میں ان آیات میں کسی بھی قسم کی تقییدوتخصیص کا انکار کیا ہے۔

المحلى - (ج 3 / ص 362):

ثم وجدنا من حجة من قال ان الطلاق الثلاث مجموعة سنة لا بدعة قول الله تعالى: (فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره) فهذا يقع على الثلاث مجموعة ومفرقة ولا يجو أن يخص بهذه الآية بعض ذلك دون بعض بغير نص وكذلك قوله تعالى: (إذا نكحتم المؤمنات ثم طلقتموهن من قبل أن تمسوهن فما لكم عليهن من عدة تعتدونها) عموم لاباحة الثلاث والاثنين والواحدة، وقوله تعالى:(وللمطلقات متاع بالمعروف) فلم يخص تعالى مطلقة واحدة من مطلقةاثنتين ومن مطلقة ثلاثا۔

ایک شبہ  کاجواب:

پہلی آیت  کے علاوہ اس بارے میں دیگر آیات سے استدلال اگر چہ بظاہر  صریح اور واضح نہیں ،بلکہ  دعوی خاص اوردلیل عام ہونے کی بنا پربظاہر استدلال تام معلوم نہیں ہوتا،لیکن چونکہ مخالف جانب میں  دعوی پر کوئی خاص معارض دلیل صریح و صحیح موجود نہیں ،لہذا ایسی صورت میں عمومات سے استدلال کافی ہے،اوراستدلال بالعمومات سلف صالحین( صحابہ کرام وتابعین عظام رضی اللہ عنہم) سے ثابت بھی ہے۔(توضیح)چنانچہ اس باب میں بھی ایسا ہی ہےکہ ان آیات سے تین طلاق کے مسئلہ پر استدلال بعض کتب فقہ و کتب تفسیر احکام القرآن میں مصرح اور بعض احادیث مرفوعہ و آثارموقوفہ صحابہ وتابعین رضی اللہ عنہم سے مؤید بھی ہے، جیساکہ گزرچکا۔

تین طلاق کے واقع ہونے پردس صریح وصحیح احادیث مرفوعہ:

صحيح البخاري ـ م م - (ج 7 / ص 42):

(۱)فلما فرغا قال عويمر كذبت عليها يا رسول الله إن أمسكتها فطلقها ثلاثا قبل أن يأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم۔

سنن أبي داود - (ج 2 / ص 242):

عن سهل بن سعد ، في هذا الخبر ، قال : فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فأنفذه رسول الله صلى الله عليه وسلم ،

پہلی حدیث بھی امام بخاری رحمہ اللہ تعالی ایک کلمہ سے تین طلاق واوع ہونے کے باب کے تحت لائے ہیں اور اس میں بھی طلقھا ثلاثا  سے ظاہر یہی ہے کہ تین طلاقیں ایک ساتھ دی تھیں۔ جیساکہ امام نووی رحمہ اللہ تعالی نےشوافع کے حوالے سے اس کی تصریح فرمائی ہے اور دوسری روایت ابوداود کی ہے جس میں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ساتھ دی گئی تین طلاقوں کے نافذ فرمانے کی تصریح ہے۔

السنن الكبرى للإمام النسائي - (ج 6 / ص 122):

(۲)أخبرنا سليمان بن داود أبو ربيع قال أنا بن وهب قال أخبر رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعا فقام غضبانا ثم قال أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم حتى قام رجل وقال يا رسول الله ألا أقتله .( وفی اعلاء السنن وقال فی الجوھر النقی: بسند صحیح :۲:۱۱۳) وفی النیل(۶:۱۵۰: قال ابن کثیر : اسنادہ جید)وقال ابن القیم اسنادہ علی شرط مسلم زاد المعاد) وقال الحافظ :رواتہ موثقون، بلوغ المرام )

اس روایت میں تین طلاق کے (جمیعا)اکھٹی  واقع ہونے کی تصریح کے ساتھ اس پر ناراضگی اس کی ممانعت کی دلیل بھی ہےجو طلاق غیر مشروع کےمؤثراورواقع ہونے کی دلیل ہے۔(اعلاء السنن:ج۱۱،ص۱۴۳)

صحيح البخاري ـ م م - (ج 7 / ص 43):

(۳)حدثني محمد بن بشار حدثنا يحيى عن عبيد الله قال حدثني القاسم بن محمد عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي صلى الله عليه وسلم أتحل للأول قال لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول۔(و رواه مسلم فى الصحيح عن أبى بكر بن أبى شيبة.و  مثلہ  فی السنن الكبرى للبيهقي وفي ذيله الجوهر النقي - (ج 7 / ص 374)

یہ حدیث امام بخاری رحمہ اللہ تعالی ایک کلمہ سے تین طلاق کے جائز ہونے پر استدلال کے لیے قائم کئے گئے باب کے تحت لائے ہیں، کیونکہ فی نفسہ تین متفرق طلاقوں کے وقوع میں کوئی اختلاف نہیں، لہذا شارحین بخاری  ابن حجر اور عینی  رحمہمااللہ نے لکھا ہے کہ  ظاہر یہی ہے کہ حدیث میں طلق امراتہ ثلاثا سےدفعۃ تین طلاقیں دینا مراد ہے۔

صحيح البخاري - (ج 5 / ص 2014):

(۴)عن ابن شهاب قال أخبرني عروة بن الزبير  : أن عائشة أخبرته أن امرأة رفاعة القرظي جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت يا رسول الله أن رفاعة طلقني فبت طلاقي وأني نكحت بعده عبد الرحمن بن الزبير القرظي وإنما معه مثل الهدبة قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة ؟ لا حتى يذوق عسيلتك وتذوقي عسيلته ) (واقول:وفی روایۃ ان رجلا طلق امرأته ثلاثا وفی روایۃ انها(امرأة رفاعۃ) قالت طلقني آخر ثلاث تطليقات۔ فالحدیث یحتمل  کلامن الثلاث  المتفرق او المجتمع فالانکار عن احتمالہ فی الحدیث کما ذھب الیہ  الامام ابن تیمیۃ رحمہ اللہ تعالی تحکم ظاھر ۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاري - (ج 30 / ص 70)

مطابقته للترجمة تؤخذ من قوله فبت طلاقي أي قطع قطعا كليا فاللفظ يحتمل أن يكون الثلاث دفعة واحدة وهو محل الترجمة أو متفرقة

فتح الباري - ابن حجر - (ج 9 / ص 367)

ويحتمل أن يكون المراد أنه طلقها طلاقا حصل به قطع عصمتها منه وهو أعم من أن يكون طلقها ثلاثا مجموعة أو مفرقة ويؤيد الثاني أنه سيأتي في كتاب الأدب من وجه آخر انها قالت طلقني آخر ثلاث تطليقات وهذا يرجح أن المراد بالترجمة بيان من أجاز الطلاق الثلاث ولم يكرهه ويحتمل أن يكون مراد الترجمة أعم من ذلك وكل حديث يدل على حكم فرد من ذلك الحديث الثالث حديث عائشة أيضا أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فسئل النبي صلى الله عليه و سلم اتحل للأول قال لا الحديث وهو وأن كان مختصرا من قصة رفاعة فقد ذكرت توجيه المراد به وأن كان في قصة أخرى فالتمسك بظاهر

صحيح مسلم للنيسابوري - (ج 4 / ص 196):

(۵)عن يحيى - وهو ابن أبى كثير - أخبرنى أبو سلمة أن فاطمة بنت قيس أخت الضحاك بن قيس أخبرته أن أبا حفص بن المغيرة المخزومى طلقها ثلاثا ثم انطلق إلى اليمن فقال لها أهله ليس لك علينا نفقة. فانطلق خالد بن الوليد فى نفر فأتوا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فى بيت ميمونة فقالوا إن أبا حفص طلق امرأته ثلاثا فهل لها من نفقة فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « ليست لها نفقة وعليها العدة ». وأرسل إليها « أن لا تسبقينى بنفسك ». وأمرها أن تنتقل إلى أم شريك ثم أرسل إليها « أن أم شريك يأتيها المهاجرون الأولون فانطلقى إلى ابن أم مكتوم الأعمى فإنك إذا وضعت خمارك لم يرك ». فانطلقت إليه فلما مضت عدتها أنكحها رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أسامة بن زيد بن حارثة.

مسند أحمد بن حنبل - (ج 6 / ص 373):

حدثنا عبد الله حدثني أبى ثنا يحيى بن سعيد قال ثنا مجالد قال ثنا عامر قال قدمت المدينة فأتيت فاطمة بنت قيس فحدثتني أن زوجها طلقها على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فبعثه رسول الله صلى الله عليه و سلم في سرية قالت فقال لي أخوة أخرجي من الدار فقلت ان لي نفقة وسكنى حتى يحل الأجل قال لا قالت فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت ان فلانا طلقني وان أخاه أخرجني ومنعني السكنى والنفقة فأرسل إليه فقال مالك ولابنه آل قيس قال يا رسول الله ان أخي طلقها ثلاثا جميعا الحدیث

مسند الشافعي ترتيب السندي - (ج 0 / ص 1208):

(۶)( أخبرنا ) : محمد بن علي بن شافع عن عبد الله بن علي بن السائب عن نافع بن عجير ( في المطبوع عجلان ) بن عبد يزيد : أن ركانة بن عبد يزيد طلق امرأته ثم أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم إني طلقت امرأتي البتة ( البتة القاطعة وهي تحتمل ثلاثا ويؤخذ بقوله في النية بالنسبة للعدد ) وو الله ما أردت إلا واحدة ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " والله ما أردت إلا واحدة ؟ فقال ركانة : والله ما أردت إلا واحدة فردها إليه "وقال صاحب مشكاة المصابيح  التبريزي:رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه والدارمي إلا أنهم لم يذكروا الثانية والثالثة)  (واقول:وان ضعف غیر واحد من المحدثین رواٰیۃ البتۃ من حدیث رکانۃ ولکن  رجح الامام ابوداد روایۃ البتۃ (کما فی تکملۃ فتح الملہم:ج۱،ص۱۵۹) وکذا قال القرطبی:فالذی صح من حدیث  رکانۃ انہ طلق طلاق البتۃ لا ثلاثا الخ وکذاصححہ  فی روح المعانی وکذا فی فتح الباری۔)

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد لنور الدين الهيثمي - (ج 4 / ص 618):

(۷)وعن ابن عمر أنه طلق امرأته تطليقة وهي حائض ثم أراد أن يتبعها بطلقتين أخراوين عند القرأين الباقيين فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فقال :  يا ابن عمر ما هكذا أمر الله أخطأت السنة والسنة أن تستقبل الطهر فتطلق لكل قرء  فأمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم فراجعتها ثم قال :  إذا هي حاضت ثم طهرت فطلق عند ذلك وأمسك  فقلت : يا رسول الله لو طلقتها ثلاثا كان لي أن أراجعها ؟ قال : " إذا بانت منك وكانت معصية "

  قلت : لابن عمر حديث في الصحيح بغير هذا السياق، رواه الطبراني وفيه علي بن سعيد الرازي قال الدارقطني : ليس بذاك وعظمه غيره وبقية رجاله ثقات۔

سنن الدارقطني لعلي الدارقطني - (ج 4 / ص 14):

(۸)عن إبراهيم بن عبيد الله بن عبادة بن الصامت عن أبيه عن جده قال طلق بعض آبائي امرأته ألفا فانطلق بنوه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله إن أبانا طلق أمنا ألفا فهل له من مخرج فقال إن أباكم لم يتق الله فيجعل له من أمره مخرجا بانت منه بثلاث على غير السنة وتسعمائة وسبعة وتسعون إثم في عنقه رواته مجهولون وضعفاء إلا شيخنا وابن عبد الباقي

 وقال فی  مجمع الزوائد ومنبع الفوائد لنور الدين الهيثمي - (ج 4 / ص 622):رواه كله الطبراني وفيه عبيد الله بن الوليد الوصافي العجلي وهو ضعيف ولکن ذکرفی المجمع بعدہ  آثارابن مسعود صحیحۃ تدل علی صحۃ معناہ۔)

سنن الدارقطني - (ج 4 / ص 20):

(۹)حماد بن زيد نا عبد العزيز بن صهيب عن أنس قال سمعت معاذ بن جبل قال قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا معاذ من طلق في بدعة واحدة أو اثنتين أو ثلاثا ألزمناه بدعته(إسماعيل بن أبي أمية القرشي ضعيف متروك الحديث) واقول ولکن معناہ صحیح ثابت بالاحادیث المرفوعۃ  وبالآثار الموقوفہ الصحیحۃ ۔

سنن الدارقطني - (ج 4 / ص 20):

 (۱۰)عن أبي هاشم عن زاذان عن علي قال : سمع النبي صلى الله عليه و سلم رجلا طلق البتة فغضب وقال تتخذون آيات الله هزوا أو دين الله هزوا ولعبا من طلق البتة ألزمناه ثلاثا لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره( إسماعيل بن أبي أمية هذا كوفي ضعيف الحديث۔) واقول ولکن معناہ ثابت )

چند مزیدمرفوع روایات:

 مذکورہ دس مرفوع روایات کےعلاوہ ذخیرہ احادیث میں چنداور بھی مرفوع روایات ملتی ہیں جن میں تین طلاق کے تین واقع ہونے کی تصریح ہے:

سنن الإمام سعيد بن منصور - (ج 1 / ص 157)

حديث رقم1130:

حدثنا سعيد قال : حدثنا إسماعيل بن عياش قال : حدثني الغاز بن جبلة الجبلاني عن صفوان بن عمران الطائي : ( أن رجلا كان نائما مع امرأته فقامت فأخذت سكينا فجلست على صدره ووضعت السكين على حلقه وقالت : لتطلقني ثلاثاً البتة وإلا ذبحتك ، فناشدها الله ، فأبت عليه فطلقها ثلاثاً ، فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : لا قيلولة في الطلاق .)

مسند زيد بن علي - (ج 2 / ص 65)

حدثني زيد بن علي عن ابيه عن جده عن علي (ع م)ان رجلا من قريش طلق امرأته مائة تطليقة فأخبر بذلك النبي صلى الله عليه وآله فقال بانت منه بثلاث وسبع وتسعون معصية في عنقه.

مسند زيد بن علي - (ج 2 / ص 66)

 قال الامام محمد بن المطهر (ع م) في المنهاج وعنه يعني عن الامام زيد بن علي (ع م) انه قال: جاء رجلان من قريش إلى رسول الله صلى الله عليه وآله فقالا ان أبانا طلق امنا مائة تطليقة، فقال (ع م): ان أباكما عصى ربه فلم يجعل له فرجا، بانت امكما من ابيكما بثلاث وسبع وتسعين معصية اه‍. منهاج.

مذکورہ احادیث میں  طلق امرئتہ ثلاثا کی دفعۃ تین طلاق دینے  پر دلالت کی تحقیق:

جمہور کے موقف پر دلالت کرنے والی اکثر احادیث وآثار میں طلق امراتہ ثلاثا کے الفاظ آئے ہیں جن کو جمہور امت(محدثین،مفسرین ،فقہاء)نےدرج ذیل دو قرائن کی وجہ سے مجتمعا تین طلاق دینے پر حمل کیاہے۔:

 (۱) تین متفرق طلاقوں کے وقوع میں کوئی اختلاف یا ترددنہیں، اس لیے محل تردد مجتمعا تین طلاق کا وقوع تھا ،لہذا سؤال اور جواب اسی تناظر میں  واردہے۔

(۲) ان روایات میں سے بعض میں ثلاثا کےساتھ جمیعا کی تصریح بھی آئی ہے، جو دفعۃ تین کے مراد ہونے پر نص ہے۔

 علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے حدیث عسیلہ میں ثلاثا سے  مجتماتین طلاق دینے کےمراد ہونے کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ لفظ اس معنی کو محتمل ہی نہیں،لیکن ان کا یہ دعوی چاروجوہ سے درست نہیں:

 ۱۔ الزامی جواب یہ ہے کہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کے شیخ اور استاذامام ابن تیمیہ رحمہ تعالی نے حدیث  فاطمہ اور امرئہ رفاعہ  میں دونوں(تین متفرق یامجتمع طلاق)احتمال لکھے ہیں،البتہ مجتمعا کے احتمال کو قلیل منکر کہا ہے۔

۲۔ مذکورہ روایات میں سے متعدد کےبعض طرق میں ثلاثا کے ساتھ جمیعا کی تاکید بھی آئی ہے ،لہذااگر اس لفظ میں مجتمعا کا احتمال نہیں، جیساکہ ابن قیم  رحمہ اللہ فرماتے ہیں تو پھر اس لفظ جمیعا سے تاکید کا کیا معنی؟ تاکید تو کہتے ہی اسی کو ہیں کہ لفظ کے راجح احتمال کو پختہ ومعین کیا جائے اور دوسرا مغلوب وکمزور احتمال ختم ہوجائے۔ اگر بالفرض ثلاثا کے ساتھ جمیعا کی تاکید نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا حصہ نہ بھی مانا جائے ،بلکہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ اور تابعی رحمہ اللہ تعالی کاتفسیر کے طور پر اضافہ ماناجائے تو بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عربیت اور شرعا دونوں لحاظ سے ثلاثا میں مجتمعا کے مراد ہونے کا احتمال نہ صرف یہ کہ درست ہے، بلکہ   کالمتعین ہے۔

۳۔مذکور مرفوع روایات کے علاوہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  وتابعین عظام رحمہم اللہ تعالی  سے متعددصریح وصحیح آثار منقول ہیں جن میں کلمہ واحدہ سےتین طلاق واقع ہونےکی تصریح ہے، نیز اس کے علاوہ بعض آثار میں  ہزار طلاق ، سو طلاق ، ننانوے طلاق  ،آٹھ طلاق ، آسمان کے ستاروں کے تعداد کےبرابر طلاق  کے الفاظ سے طلاق مغلظ( تین طلاق دینے) کا ذکر ملتا ہے،یہ روایات موطا مالک ، مصنف ابن ابی شیبہ، اور سنن بیہقی، مصنف عبد الرزاق وغیرہ میں مروی ہیں،(جیساکہ ان میں سے کچھ گذرچکی اور کچھ آگے آثار صحابہ رضی اللہ عنہم  وتابعین رحمہم اللہ تعالی  کے ضمن میں آرہی ہیں۔)یہ تمام روایات دلیل ہیں کہ تین طلاق ایک لفظ سے واقع ہوجاتی ہیں۔

۴۔نصوص شرع کے علاوہ کلام عرب میں بھی تین طلاق کلمہ واحدہ سے دینے کا ثبوت ملتا ہے، چناچہ ایک شاعر اپنے حریف سے شعر گوئی کے مقابلہ کرتے ہوئے اس کے مصرع "وقد حثثنا القدح احتثاثا "کے جواب میں کہتاہے وام عمرو طالق ثلاثا، اسے ثاء کا کوئی اور قافیہ نہ ملا تو اس نے یہ مصرع جڑدیا۔(محاضرات الادباء للاصفہانی)

 ایک اور عربی شاعر کہتا ہے:

فإن ترفقي يا هند فالرفق أيمن ... وإن تخرقي يا هند فالخرق أشأم

فأنت طلاق والطلاق عزيمة ..۔۔. ثلاث ومن يخرق أعق وأظلم

 المبسوط للسرخسي - (ج 6 / ص 138)

(امام کسائی رحمہ اللہ تعالی  نے امام محمد بن حسن شیبانی رحمہ اللہ تعالی سے اس شعر کا مطلب اور حکم دریافت فرمایا تو اس پر امام محمد رحمہ اللہ تعالی کے جواب کو امام کسائی رحمہ اللہ تعالی نے بہت پسند فرمایا۔ تفصیل کے لیے مبسوط سرخسی ملاحظہ ہو۔)

لہذا معلوم ہوا کہ  ایک کلمہ"مثلا تجھے تین طلاق کے لفظ" سے تین طلاق دینے سےنبی صلی اللہ علیہ وسلم،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین،ائمہ مجتہدین،محدثین اور عام اہل عرب سب ہی واقف تھے،لہذا اس قدر واضح اور بدیہی بات کا انکار یا اس کو نادروقلیل کہنا انصاف اور علم وتحقیق کا خون کرنے کے مترادف ہے،لہذا معلوم ہوا کہ جس طرح نصوص احادیث میں تین طلاق سے تین مراد ہونے کے احتمال کا انکار کرنا جیساکہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا ہےخلاف حقیقت ہے،اسی طرح مام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کا مجتمعا کا مفہوم مرادلینے  کو قلیل کہنا بلا دلیل،بلکہ خلاف دلیل ہے،نیز امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کی بات سے تو لازم آتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم  میں طلاق کا وقوع کثیر تھا،البتہ تین ایک ساتھ دینا قلیل تھا ،حالانکہ یہ بات محتاج دلیل ہے بلکہ  حقیقت یہ ہے کہ یہ خلاف ظاہراوردلیل ہے،اس لیےکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  طلاق جیسی مبغوض چیزکو کس طرح کثرت کے ساتھ کرتے تھے، حالانکہ وہ ہر برائی سے دور بھاگنے والے اور نیکی کی طرف سبقت کرنے والے تھے،بلکہ امام ابن تیمیہ اورابن قیم رحمہ اللہ تعالی کی مایہ ناز اوران کے نزدیک معتبر روایت (حضرت طاووس کی ابن عباس  رضی اللہ عنہ سےنقل کردہ مشہور روایت) سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے دور میں تین طلاق کا عمل( خواہ متفرقا ہوں یا مجتمعا) کم تھا۔لہذا بات یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں دونوں کا وقوع ایک جیسا تھا اورمذکورہ احادیث میں تین سے مجتمعا تین ہی مراد ہیں جیساکہ اکثر شراح حدیث نے تصریح فرمائی ہے،لہذا تین مجتمعاکے وقوع کو قلیل منکر قرار دے کرلفظ کے مصداق سے  خارج کرنا نہ صرف یہ کہ بلا دلیل ہے،بلکہ خلاف دلیل ہے۔

آثارصحابہ کرام رضی اللہ عنہم وتابعین عظام رحمہم اللہ تعالی:

اس بارے چندصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعض آثار قرآنی آیات سے استدلال کے ضمن میں گزرچکے، جبکہ بعض دیگرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ تعالی کے آثار صحیحہ اور صریحہ اس قدر  متعددوکثیر ہیں کہ ان سب کانقل کرنا فتوی کی طوالت کا باعث بنے گا ،لہذا اس مقام پر صرف ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ تعالی کے نام نقل کرنے پر اکتفاء کیا جاتا ہے جن سے اس بارے میں آثار منقول ہیں:

اسماء صحابہ کرام رضی اللہ عنہم:اس بارے میں پندرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعدد آثار وفتاوی منقول ہیں،جن مین سے اکثر فقاہت اور اجتہاد کے اعلی منصب پر فائز تھے، جن کے نام یہ ہیں:(۱)خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ،(۲) خلیفہ راشدحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ،(۳)خلیفہ راشدحضرت علی رضی اللہ عنہ،(۴)حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، (۵)حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، تقریبا سولہ آثار وفتاوی منقول ہیں،(۶)عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نو آثار منقول ہیں،(۷) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ۴ آثار( ۸) ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (۹)حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا(۱۰)حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ (۱۱)حضرت انس رضی اللہ عنہ(۱۲) حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ(۱۳)حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ (۱۴)حضرت عبد اللہ بن عمر بن العاص رضی اللہ عنہما(۱۵)حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ

 اگر ان کے ساتھ ان حضرات صحابہ کرام کو بھی شامل کیا جائے جن سے اس بارے میں صرف مرفوع روایات منقول ہیں تو تعداد بیس تک پہنچتی ہے،مثلاحضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ،حضرت عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ،حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ اور حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ۔

اسماء تابعین کرام رحمہم اللہ تعالی:اس بارےمیں کل بیس  معروف ومشہور اصحاب فتوی تابعین  عظام رحمہم اللہ تعالی سے بھی آثار وفتاوی منقول ہیں،جن کےنام یہ ہیں۔(۱)حضرت عبد اللہ بن مغفل رحمہ اللہ تعالی (۲)حضرت قاضی شریح رحمہ اللہ تعالی (۳)حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ تعالی(۴) حضرت مکحول رحمہ اللہ تعالی ( ۵) حضرت قتادہ رحمہ اللہ تعالی(۶)حضرت امام شعبی رحمہ اللہ تعالی(۷)حضرت امام زہری رحمہ اللہ تعالی (۸)حضرت حسن بصری رحمہ اللہ تعالی(۹)حضرت سعید بن المصیب رحمہ اللہ تعالی (۱۰)حضرت سعید بن جبیررحمہ اللہ تعالی (۱۱)حضرت حمید بن عبد الرحمان رحمہ اللہ تعالی (۱۲)حضرت مصعب بن سعیدرحمہ اللہ تعالی (۱۳)حضرت ابی ملک رحمہ اللہ تعالی (۱۴)حضرت عبد اللہ بن شداد رحمہ اللہ تعالی (۱۵)حضرت عطاء بن رباح رحمہ اللہ تعالی (۱۶)حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ تعالی(۱۷)حضرت عمر بن عبد العزیزرحمہ اللہ تعالی (۱۸)حضرت سلیمان اعمش کوفی رحمہ اللہ تعالی (۱۹)حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ تعالی (۲۰)حضرت مروان حکم رحمہ اللہ تعالی (۲۱)حضرت امام مسروق رحمہ اللہ تعالی (۲۲)حضرت عبد الملک رحمہ اللہ تعالی ۔

اہم بات:تین طلاق کے بارے میں صحابہ رضی اللہ عنہم وتابعین  رحمہم اللہ تعالی سے منقول آثار چار قسم پر ہیں:

۱۔ وہ آثار جن میں بطور ایک حکم کلی کے یہ بات بیان کی گئی ہے کہ جو بھی شخص اپنی منکوحہ کو ایک کلمہ سے یا ایک مجلس میں تین طلاق دے گا وہ تین ہی شمار ہونگی۔

۲۔ وہ آثار جن میں معمولی(جزوی)تبدیلی کے ساتھ بطور قاعدہ کلیہ یہ مضمون  منقول ہے کہ"جوشخص اپنی بیوی کو(بعض آثارکےمطابق وطی سےپہلےاوربعض آثارمیں وطی کے بعداوربعض میں مطلقا (بہردو صورت))ایک ساتھ تین طلاقیں دےگاتوجب تک وہ کسی دوسرےشوہرکےنکاح سےہوکرنہ آئےتوپہلےشوہرکےلیےاس سےنکاح اوروطی حلال نہیں۔"

۳۔ وہ آثار جن میں کسی خاص جزائی واقعہ یا سؤال کے تناظر میں ایک مجلس یا ایک کلمہ سے دی گئی تین طلاقوں کے تین ہونے کا ذکر بطور فتوی منقول ہے۔

۴۔ وہ آثار جن میں کسی خاص جزائی واقعہ یا سؤال کے تناظر میں ایک کلمہ سے دی گئی تین سے زائد طلاقوں میں سے تین کے واقع ہونے کا ذکر ہے۔

پہلی تین قسموں سے متعلق بعض آثار چونکہ قرآنی آیات سے استدلال کے ضمن میں گزرچکے ہیں،لہذایہاں صرف چوتھی قسم کے آثار کو نقل کیا جاتا ہے۔(آثار کی مزیدتفصیل کےلیےخیرالفتاوی جلدپنجم وفتاوی رحمیہ:ج۳،ص۳۱۱ تا ۳۲۹ ملاحظہ ہو۔)

 مصنف ابن ابی شیبہ:ج5/ص10:

في الرجل يطلق امرأته مئة ، أو ألفا في قول واحد.

حدثنا أبو معاوية ، عن الأعمش ، عن إبراهيم ، عن علقمة ، عن عبد الله ، قال : أتاه رجل فقال : إني طلقت امرأتي تسعة وتسعين مرة ؟ قال : فما قالوا لك ؟ قال : قالوا : قد حرمت عليك ، قال : فقال عبد الله : لقد أرادوا أن يبقوا عليك ، بانت منك بثلاث وسائرهن عدوان.

حدثنا حفص ، عن الأعمش ، عن إبراهيم ، عن علقمة ، عن عبد الله ؛ أنه سئل عن رجل طلق امرأته مئة تطليقة ؟ قال : حرمتها ثلاث ، وسبعة وتسعون عدوان.

حدثنا وكيع ، عن سفيان ، عن منصور ، والأعمش ، عن إبراهيم ، عن علقمة ، قال : جاء رجل إلى عبد الله ، فقال : إني طلقت امرأتي مئة ؟ فقال : بانت منك بثلاث ، وسائرهن معصية.

حدثنا وكيع ، عن سفيان ، عن سلمة بن كهيل ، عن زيد بن وهب ؛ أن رجلا بطالا كان بالمدينة طلق امرأته ألفا ، فرفع إلى عمر فقال : إنما كنت ألعب ، فعلا عمر رأسه بالدرة ، وفرق بينهما.

حدثنا وكيع ، عن الأعمش ، عن حبيب ، قال : جاء رجل إلى علي ، فقال : إني طلقت امرأتي ألفا ؟ قال : بانت منك بثلاث ، واقسم سائرهن بين نسائك.

حدثنا عباد بن العوام ، عن هارون بن عنترة ، عن أبيه ، قال : كنت جالسا عند ابن عباس فأتاه رجل فقال : يا ابن عباس ، إنه طلق امرأته مئة مرة ، وإنما قلتها مرة واحدة فتبين مني بثلاث ، هي واحدة ؟ فقال : بانت منك بثلاث ، وعليك وزر سبعة وتسعين.

حدثنا وكيع ، عن سفيان ، قال : حدثني عمرو بن مرة ، عن سعيد بن جبير قال : جاء رجل إلى ابن عباس ، فقال : إني طلقت امرأتي ألفا ، أو مئة ، قال : بانت منك بثلاث ، وسائرهن وزر ، اتخذت آيات الله هزوا.

حدثنا وكيع ، والفضل بن دكين ، عن جعفر بن برقان ، عن معاوية بن أبي تحيى قال : جاء رجل إلى عثمان فقال : إني طلقت امرأتي مئة ، قال : ثلاث يحرمنها عليك ، وسبعة وتسعون عدوان.

حدثنا غندر ، عن شعبة ، عن طارق ، عن قيس بن أبي حازم ؛ أنه سمعه يحدث عن المغيرة بن شعبة ؛ أنه سئل عن رجل طلق امرأته مئة ؟ فقال : ثلاث يحرمنها عليه ، وسبعة وتسعون فضل.

حدثنا محمد بن بشر ، عن أبي معشر ، قال : حدثنا سعيد المقبري ، قال : جاء رجل إلى عبد الله بن عمر وأنا عنده ، فقال : يا أبا عبد الرحمن ، إنه طلق امرأته مئة مرة ؟ قال : بانت منك بثلاث ، وسبعة وتسعون يحاسبك الله بها يوم القيامة.

حدثنا وكيع ، عن إسماعيل ، عن الشعبي ، عن شريح : قال : إني طلقتها مئة ؟ قال : بانت منك بثلاث ، وسائرهن إسراف ومعصية.

حدثنا وكيع ، عن الفضل بن دلهم ، عن الحسن ، قال : جاء رجل إلى الحسن ، فقال : إني طلقت امرأتي ألفا قال : بانت منك العجوز.

حدثنا ابن فضيل ، عن الأعمش ، عن حبيب ، عن رجل من أهل مكة ، قال : جاء رجل إلى علي فقال : إني طلقت امرأتي ألفا ؟ قال : الثلاث تحرمها عليك ، واقسم سائرهن بين أهلك.

من قال لامرأته : أنت طالق عدد النجوم.

حدثنا محمد بن فضيل ، عن عاصم ، عن ابن سيرين ، عن علقمة ، عن عبد الله قال : أتاه رجل فقال : إنه كان بيني وبين امرأتي كلام ، فطلقتها عدد النجوم ، قال : تكلمت بالطلاق ؟ قال : نعم ، قال : قال عبد الله : قد بين الله الطلاق ، فمن أخذ به فقد بين له ، ومن لبس على نفسه جعلنا به لبسه ، والله لا تلبسوا على أنفسكم ونتحمله عنكم ، هو كما تقولون ، هو كما تقولون.

حدثنا ابن فضيل ، عن عاصم ، عن ابن سيرين ، عن شريح ، قال : لو قالها لنساء العالمين بعد أن يملكهن ، كن عليه حراما.

حدثنا إسماعيل بن إبراهيم ، عن أيوب ، عن عمرو ؛ سئل ابن عباس عن رجل طلق امرأته عدد النجوم ؟ فقال : يكفيه من ذلك رأس الجوزاء.

اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم:

واضح رہے کہ  ایک مجلس میں یاایک کلمہ دی گئی تین طلاق کے تین ہونے پرقرآن وسنت وآثار صحابہ کے علاوہ

خود صحابہ کرام کا اجماع بھی منقول ہے اور اجماع کی تصریح کبارمحدثین ،فقہاء ومفسرین نےفرمائی ہے،چنانچہ امام ابوبکر ابن المنذر نیسابوری ( متوفی ۳۱۸ ھ)نے اپنی کتاب"الاجماع" کے کتاب الطلاق میں اس پر اجماع کی تصریح فرمائی ہے اور ان کے بعد امام طحاوی رحمہ اللہ تعالی(متوفی ۳۲۱ھ)نے شرح معانی الآثار میں اس پرعہدفاروقی میں اجماع صحابہ کا قول فرمایا ہے، اورخوداغاثۃ اللہفان میں علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے ابوبکر ابن العربی اورابوبکرجصاص سے اجماع کی نقل کا اعتراف کیا ہے، بلکہ یہ بھی فرمایاہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ تعالی کے کلام سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان سب سے پہلے امام محمد شیبانی رحمہ اللہ تعالی(متوفی۱۸۹ھ) نے بھی کتاب الآثار میں اس مسئلہ پر اجماع کی طرف واضح اشارہ فرمایا ہے،چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ"یہ امام ابوحنیفہ اورعام ائمہ رحمہم اللہ تعالی کا قول ہے اور اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں۔"نیزفتح القدیر میں علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ تعالی نے کثیر صحابہ کرام کے آثار نقل فرمانے کے بعد لکھا ہے کہ جب صحابہ کرام میں ان کثیر صحابہ کے مقابلہ میں کسی ایک بھی صحابی کا صریح اور صحیح مخالف قول منقول ومعلوم نہیں ،تو لہذایہ دلیل اجماع(قولی) ہے،نیز یہی استدلال علامہ باجی مالکی(صاحب منتقی)،علامہ ابن العربی مالکی،(صاحب الناسخ والمنسوخ) علامہ ابن رجب حنبلی(صاحب بیان مشکل الاحادیث الواردۃ فی ان الطلاق الثلاث واحدۃ)رحمہم االلہ تعالی سےبھی منقول ہے۔(حکم الطلاق الثلاث)

 کچھ حضرات نے مختلف طریقوں سے اس اجماع کو مخدوش قرار دینے کی کوشش کی ہے ،لیکن اہل علم نے اس کےبھر پور مسکت جوابات دیئے ہیں۔جونمبرواروضاحتوں کےعنوان سے پیش کئےجاتےہیں:

پہلی وضاحت:اجماع کےتحقق کے لیے تمام اہل زمانہ کی قولی تصریح  ضروری نہیں،بلکہ اجماع کے تحقق کےلیے اس قید کو ضروری قرار دینا  محض باطل اور غیر معتبر ہے،ورنہ اس مفہوم کے اعتبار سے کبھی بھی کوئی اجماع منعقد نہ ہو، اور نہ ہی کسی اجماع کے تحقق کو قبول کرنے کے لیے ایسا مطالبہ قابل التفات ہے،ورنہ تو اس کے پیش نظر ہر اجماع کو ثابت کرنے کے لیے اس زمانہ کے تمام  علماء اور لوگوں کے ناموں کو پیش کرنے کے لیے ایک دو جلدیں بھی نا کافی ہونگی،(فتح القدیر)بلکہ ہر زمانہ کےصرف اکثرمجتہدین(تمام قابل اعتبار فقہی شخصیات) کا اجماع معتبر ہوگا۔ جیساکہ  اصول میں طے شدہ ہے۔واضح رہے کہ صحابہ کرام میں فقاہت اور فتوی کے منصب کے حامل شخصیات بیس سے زائد نہیں،جبکہ ان میں سے بھی اکثر سے جوتقریبا بیس کے قریب ہیں یہی فتوی ثابت ومنقول ہے کہ ایک  مجلس میں یاایک کلمہ سےدی گئی تین طلاقیں تین ہی ہیں۔(فتح القدیر)

دوسری وضاحت:یہ اجماع انعقادا سکوتی اور بقاء قولی ہے۔کچھ حضرات اس اجماع پر سکوتی کا عنوان دیکھ کر اس سے بے جا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ،لہذا وہ اس اجماع کو محض ظنی حجت کادرجہ دے کر اس مسئلہ کو مجتہد فیہ قرار دینے کی سعی کرتے ہیں ،لیکن  یہ بات حقیقت کے منافی ہونے کے باعث قطعادرست نہیں،اس لیے کہ یہ اجماع اگرچہ انعقادا سکوتی تھا،لیکن بقاء قولی  ہوچکا ،چنانچہ علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ تعالی نے فتح القدیر میں اس کے انعقاد کےسکوتی ہونے کے اعتراف کے بعد اس کی قطعیت کا قول بھی فرمایا ہے،حالانکہ اجماعی سکوتی مجتہد فیہ اور ظنی ہوتا ہے،نیز اس کے ساتھ انہوں نے اس کےبقاء قولی قطعی ہونے کے دو دلائل پیش فرمائے ہیں: پہلی دلیل تو یہ لکھی ہے کہ اس بارے میں کثیر صحابہ کرام جن میں اکثریت فقہاء صحابہ کرام کی ہے ان سے کلمہ واحدہ سےتین طلاق کے تین ہونے کی صریح آثار منقول ہیں، جبکہ مخالفت میں کوئی ایک بھی صحیح وصریح روایت دستیاب نہیں،باقی وجودمخالفت  کااحتمال بلا دلیل معتبر نہیں،لہذایہ تحقق اجماع کے لیےمضراور مانع نہیں۔( اعلاء السنن)لہذا اس طرح یہ اجماع سکوتی محض نہیں، بلکہ بمنزلہ اجماع قولی کے ہوگیا ہےجو کہ قطعی ہوتا ہے۔نیزدوسری دلیل بقاءقولی ہونے کی یہ ہے کہ علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ تعالی نےحضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اثر سے بھی اس اجماع کے قولی ہونے پر استدلال فرمایا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں:

فتح القدير - (ج 7 / ص 458):

وفي الموطأ أيضا : بلغه أن رجلا جاء إلى ابن مسعود فقال : إني طلقت امرأتي ثماني تطليقات ، فقال : ما قيل لك .فقال : قيل لي بانت منك ، قال : صدقوا ، هو مثل ما يقولون وظاهره الإجماع على هذا الجواب۔

چنانچہ اس کے بعد علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ تعالی  اسکے قطعیت پر تفریع  فرماتے ہیں کہ اب  اس اجماع کی مخالفت ضلالت ہی ہوگی،جبکہ ظنی اجماع کی اجتہادی مخالفت ضلالت نہیں ہوتی، نیز یہ بھی فرمایا کہ اس میں قضاء قاضی یا حکم حاکم بھی نافذیارافع  ومؤثر نہیں،جبکہ مجتہد فیہ میں قضاء قاضی اور حکم حاکم نافذ ہوتا ہے، نیز اجماع سکوتی کی حجیت مختلف فیہ ہے،چنانچہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالی اس کےقائل نہیں،جب کہ اس مسئلہ میں امام شافعی رحمہ اللہ تعالی بھی اس اجماع کےقائل ہیں،(حکم الطلاق الثلاث)چنانچہ امام نووی نےبھی شرح مسلم میں اجماع کاقول فرمایا ہے،لہذایہ سب اس بات کی تصریحات ہیں کہ یہ اجماع محض سکوتی نہیں ہے۔

تیسری وضاحت:اختلاف سابق اجماع لاحق کےانعقاد سےمانع نہیں:

اس مسئلہ کے بارے میں اس قدر کثیر(تقریبا بیس) صحابہ کرام  سے جن میں اکثریت فقہاء صحابہ کی ہے بلا کسی مخالفت واختلاف کے اس قدر کثیر روایات منقول ہونے کواہل علم نے اس مسئلہ کے اجماعی ہونے کی دلیل قرار دیا ہے(فتح القدیرو اعلاء السنن وغیرہ)لیکن اس کےباوجودبعض حضرات مثلاا بن الوضاع اورابن المغیث  کے حوالے سے علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے جواختلافی آثار وروایات حضرت علی اور ابن مسعود اور زبیر بن عوام اور عبد الرحمن بن عوف اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے نقل ہونے کا دعوی کیا ہے تو اس پر خود علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے اغاثۃ اللھفان میں لکھا ہے کہ شاید یہ ان حضرات سے کوئی ایک روایت ہو، ورنہ  ان حضرات سےصحیح روایات جمہور کے موافق ہی منقول ہیں،جبکہ علامہ ابن رجب حنبلی اورابن العربی مالکی رحمہماا اللہ تعالی نے اس بارے میں سلف(صحابہ) میں کسی سے بھی جمہور کےموقف کےخلاف نقل صحیح ہونےکی پرزورتردید فرمائی ہے،نیزعلامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کےمطابق صرف ابن عباس رضی اللہ عنہ سے صحیح روایات دونوں قسم کی منقول ہے،جبکہ محققین کے مطابق ابن عباس رضی اللہ عنہماکی وہ روایت بفرض صحت نقل مرجوع عنہ ہے۔چنانچہ امام ابوداوو نے اس رجوع کو نقل فرمایا ہے۔ (عون المعبود شرح ابی داوود، المنتقى شرح الموطأ علامہ ابو الولید  الباجی  المالکی)

المنتقى - شرح الموطأ - (ج 3 / ص 238)

إن حمل حديث ابن طاوس على ما يتأول فيه من لا يعبأ بقوله ، فقد رجع ابن عباس إلى قول الجماعة وانعقد به الإجماع۔

حاصل یہ کہ صحابہ کرام سے جمہور کے مذہب کے خلاف کوئی صحیح روایت منقول نہیں اور اگر منقول ہو تو صریح نہ ہوگی اور بالفرض صحیح وصریح روایت منقول ہو بھی تو وہ مرجوع عنہ  ہوگی۔

چوتھی وضاحت:اختلاف لاحق اجماع سابق کے لیے رافع نہیں۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کی طرف سے صحابہ کرام کی طرح بعض تابعین اور تبع تابعین سے بھی تین طلاق کے ایک ہونے پر کچھ آثارمنقول ہونے کا دعوی کیا جاتا ہے،لیکن  تحقیق یہ ہے کہ وہ بھی یا توسندا صحیح و ثابت نہیں یا وہ صریح نہیں ،بلکہ محتمل ہونے کی بناء پر مؤول ہیں،اورقابل التفات نہیں، چنانچہ ان میں صرف محمد بن اسحاق  اور ان جیسے بعض دیگرکےاختلافی اثر کانقل درست ہے، لیکن ان کا اختلاف چونکہ بعداز تحقق اجماع ہے، اس لیے معتبر نہیں۔(فتح الباری)نیز اس قسم کے آثار کی تحقیق اور ان کے جوابات کے لیے اعلاء السنن:ج۱۱،ص۱۶۱،تا ص۱۶۳ملاحظہ ہو۔

تهذيب سنن أبي داود وإيضاح مشكلاته - (ج 1 / ص 360)

وقال أبو بكر بن العربي المعافري في كتابه الناسخ والمنسوخ . ( غائلة ) قال تعالى { الطلاق مرتان } : زل قوم في آخر الزمان , فقالوا : إن الطلاق الثلاث في كلمة لا يلزم وجعلوه واحدة , ونسبوه إلى السلف الأول , فحكوه عن علي والزبير وعبدالرحمن بن عوف وابن مسعود وابن عباس , وعزوه إلى الحجاج بن أرطاة الضعيف المنزلة , المغموز المرتبة , ورووا في ذلك حديثا ليس له أصل , وغوى قوم من أهل المسائل . فتتبعوا الأهواء المبتدعة فيه , وقالوا إن قوله : أنت طالق ثلاثا كذب , لأنه لم يطلق ثلاثا , كما لو قال , طلقت ثلاثا , ولم يطلق إلا واحدة , وكما لو قال : أحلف ثلاثا , كانت يمينا واحدة .۔۔۔۔۔۔وما نسبوه إلى الصحابة كذب بحت لا أصل له في كتاب , ولا رواية له عن أحد . وقد أدخل مالك في موطئه عن علي " أن الحرام ثلاث لازمة في كلمة " فهذا في معناها . فكيف إذا صرح بها ؟ وأما حديث الحجاج بن أرطاة فغير مقبول في الملة , ولا عند أحد من الأئمة . فإن قيل : ففي صحيح مسلم عن ابن عباس - وذكر حديث أبي الصهباء هذا . قلنا : هذا لا متعلق فيه من خمسة أوجه : الأول : أنه حديث مختلف في صحته , فكيف يقدم على إجماع الأمة ؟ ولم يعرف لها في هذه المسألة خلاف , إلا عن قوم انحطوا عن رتبة التابعين , وقد سبق العصران الكريمان والاتفاق على لزوم الثلاث , فإن رووا ذلك عن أحد منهم فلا تقبلوا منهم إلا ما يقبلون منكم , نقل العدل عن العدل , ولا تجد هذه المسألة منسوبة إلى أحد من السلف أبدا . الثاني : إن هذا الحديث لم يرو إلا عن ابن عباس , ولم يرو عنه إلا من طريق طاوس . فكيف يقبل ما لم يروه من الصحابة إلا واحد , وما لم يروه عن ذلك الصحابي إلا واحد ؟ وكيف خفي على جميع الصحابة وسكتوا عنه إلا ابن عباس وكيف خفي على أصحاب ابن عباس إلا طاوس ؟

 پانچویں وضاحت یہ ہے  کہ کسی مسئلہ میں صرف اختلاف اقوال منقول ہونا عدم اجماع کو مستلزم نہیں، ورنہ(شاذاقوال کے پیش نظر) حقیقی معنی کے اعتبار سے کوئی بھی اجماع متحقق نہ ہوسکے گا،یہی وجہ ہے کہ علامہ عینی وغیرہ نے عمدۃ القاری  وغیرہ میں اس مقام پر اختلاف اقوال ومذاہب نقل فرمانے کے بعد جمہور کے قول  کو مجمع علیہ اور اس کےخلاف کسی بھی قول کو شاذو ناقابل التفات قراردیاہے،لہذامذہب اربعہ کے بعض اصحاب کااپنے مذہب کےخلاف اس قول شاذ پر فتوی دینے سے اجماع کی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

عمدة القاري شرح صحيح البخاري - (ج 30 / ص 65):

وضع البخاري هذه الترجمة إشارة إلى أن من السلف من لم يجوز وقوع الطلاق الثلاث وفيه خلاف فذهب طاووس ومحمد بن إسحاق والحجاج بن أرطأة والنخعي وابن مقاتل والظاهرية إلى أن الرجل إذا طلق امرأته ثلاثا معا فقد وقعت عليها واحدة واحتجوا في ذلك بما رواه مسلم من حديث طاووس أن أبا الصهباء قال لابن عباس العلم إنما كانت الثلاث تجعل واحدة على عهد النبي وأبي بكر وثلاثا من إمارة عمر فقال ابن عباس نعم وأخرجه الطحاوي أيضا وأبو داود والنسائي وقيل لا يقع شيءومذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم منهم الأوزاعي والنخعي والثوري وأبو حنيفة وأصحابه ومالك وأصحابه ومالك وأصحابه والشافعي وأصحابه وأحمد وأصحابه وإسحاق وأبو ثور وأبو عبيد وآخرون كثيرون عل أن من طلق امرأته ثلاثا وقعن ولكنه يأثم وقالوا من خالف فيه فهو شاذ مخالف لأهل السنة وإنما تعلق به أهل البدع ومن لا يلتفت إليه لشذوذه عن الجماعة التي لا يجوز عليهم التواطؤ على تحريف الكتاب والسنة۔

شرح الزرقانى على موطأ مالك - (ج 9 / ص 39)

والجمهور على وقوع الثلاث بل حكى ابن عبد البر الإجماع قائلاً: إن خلافه شاذ لا يلتفت إليه.

لہذابعض حضرات کی طرف سے اس مقام پر جویہ کہا جاتا ہے کہ

" ایک کلمہ سے تین طلاق کے بارے میں چار اقوال ہیں:۱۔مطلقا تینوں واقع ہوجاتی ہیں۔۲۔مطلقاصرف ایک واقع ہوتی ہے،۳۔مدخول بہا کے حق میں تین اور غیر مدخول بہا کے حق میں ایک واقع ہوتی ہے۔۴۔ مطلقا کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ ان چار میں سے آخری دو قول شاذ ہیں جبکہ پہلے دو قول کی بنیاد پر مسئلہ اختلافی ہے، پہلا قول جمہور کا مبنی بر احتیاط ہے جبکہ دوسرا قول دلائل کی رو سےقوی ہے"۔

یہ نرا مغالطہ ہے،اس لیےکہ جمہور  اس بارے میں پہلے قول پر اجماع کےقائل ہیں،لہذا اس کے علاوہ ہر قول خلاف اجماع ہونے کےباعث شاذ(ناقابل عمل)قول ہوگا،نیزخود ان حضرات کے کلام میں بھی تناقض ہے کہ ایک طرف  تو آخری دو اقوال کو شاذ کہتے ہیں جو اس بارے میں کسی قول پراجماع ہونےکی دلیل ہےاوراس کے بعد پہلے دو اقوال میں محض علمی اختلاف مانتے ہیں جو اجماع کی نفی کرتا ہے،حالانکہ آخری دواختلافی قول بھی دلائل میں دوسرےقول کےقریب ہیں،بلکہ تیسرا قول تو دوسرے کی بنسبت اہون بھی ہے۔

 قیاس صحیح: اگرچہ جمہور کا موقف بنیادی طور پر قرآن وسنت سے ثابت اور اجماع سے مبرھن ہے،لیکن قیاس صحیح سے بھی مؤید ہے، چنانچہ علامہ ابن قدامہ حنبلی وغیرہ رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ  نکاح بھی ایک قسم کی ملکیت ہے اور ملکیت کا ازالہ دفعۃایک ساتھ اور متفرق طور پرہرطرح درست ہے، لہذا نکاح کا ازالہ بھی ہر طرح درست اورمؤثرہوگا۔ (مبسوط سرخسی،المغنی لابن قدامہ)

تین طلاق کے ایک ہونے کےقائلین کے دلائل کا علمی تجزیہ:

پہلی دلیل آیت قرآنی:(الطلاق مرتان"سے استدلال اور اس کا جواب):

استدلال:قرآن مجید میں" الطلاق مرتان" سےتعدد طلاق کےلیے تکرار ایقاع ضروری قرار دیا گیا ہے،جبکہ ایک کلمہ سے دی گئی تین طلاقیں طلاق دینے کا عمل ایک دفعہ ہونے کی وجہ سے کل ایک طلاق شمار ہوگی۔

 جواب:

۱۔مرتان  کی تفسیر میں مرۃ بعدمرۃ کا مفہوم متعین نہیں،بلکہ اثنان بھی لیا گیا ہے، بلکہ بعض نے اس مفہوم میں حقیقت قرار دیا ہے،جیساکہ کےجمہور کے موقف کےدلائل کے ضمن گزرچکا، لہذا تین کے ایک ہونے کے لیے اس مفہوم کے تناظر میں آیت سے استدلال درست نہیں،لان المحتمل لا یکون حجۃ۔

۲۔اگرمرتان کا مفہوم  بالتعیین مرۃ بعد مرۃ مان بھی لیا جائے یا اس مفہوم میں بلا قرینہ صارفہ حقیقت مان لیا جائے تو بھی  اس سے نفس وقوع طلاق کے لیے تفریق کی ضرورت ولزوم ثابت نہیں ہوتا، اس لیے کہ الطلاق پر موجود الف لام یا تو جنس کے لیے ہےیاعہد کے لیے یعنی طلاق مشروع یا طلاق رجعی کے لیے بالترتیب تفریق یا  علی الاکثردو ہونا ضروری ہے، اس سےنفس وقوع طلاق کے لیے تفریق ہونا لازم نہیں آتا۔لہذادعوی اور دلیل میں مطابق نہ ہونے کے باعث استدلال تام نہیں۔

 اسی لیے علامہ آلوسی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:والجواب عن الاحتجاج بالآية أنها كما علمت ليست نصاً في المقصود ، (تفسير الألوسي - (ج 2 / ص 244)

۳۔انت طلاق ثلاثا یا طلقت ثلاثا اگرچہ بظاہر مرۃ ایقاع طلاق ہے ،لیکن اقتضاء تین ایقاعات ہیں۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ طلاق کے باب میں طلاق کالفظ بظاہرصیغہ خبر ہوتا ہےجو انشاء طلاق کےلیےلغۃ موضوع نہیں،لیکن شرعا اس سےاقتضاء النص  کے طور پروقوع طلاق کو معتبر مانا جاتا ہے،لہذا جب ایک طلاق کے اقرار کی صورت میں اس کی طرف سے ایک طلاق کا انشاء اقتضاء شرعا معتبرہوسکتا ہے تو تین طلاق کے اقرار کی صورت میں اقتضاء تین طلاق  کے انشاء شرعا معتبر ہونگے اور انکے معتبر ہونے سے کوئی مانع نہیں، لہذااگرچہ " تجھےتین طلاق" کا لفظ کہنے میں بظاہر طلاق دینے کا قول  وعمل ایک دفعہ ہے،لیکن چونکہ یہ درحقیقت خبر ہے اور اس خبر میں  طلاق کے ساتھ تین دفعہ کا اقرار بھی شامل ہے ،لہذا قائل کے حق میں شرعااقتضاء تین الفاظ طلاق معتبر ہونگےتو گویا دفعۃتین طلاق دینے کی صورت  میں قائل کی طرف سے اقتضاء تین دفعہ" طلاق،  طلاق، طلاق" کہنا شرعا معتبر مانا گیا ہے۔

۴۔ الزامی جواب یہ ہے کہ اگرتعددطلاق کےلیےتعددایقاع ضروری ہے تو اگر کوئی اپنی متعدد بیویوں کو ایک ساتھ طلاق دے توایسی صورت میں متعدد بیویوں کو کیونکر طلاق ہوجاتی ہے؟ معلوم ہوا کہ انشاء میں ایقاع کے تعدد کےلیے فعل کا تعدد ضروری نہیں،بلکہ یاتو مفعول کا تعدد کافی ہے یا اس کی جگہ اسکا قائم مقام اسم عددی بھی دلیل تعدد بن سکتا ہے،جیساکہ وجہ رابع میں بیان ہوچکا۔

المبسوط لشمس الدين السرخسي - (ج 27 / ص 6)

والمعني فيه أن ازالة الملك بطريق الاسقاط فيكون مباحا مطلقا جمع أو فرق كالعتق والدليل عليه انه لو طلق أربع نسوة له جملة كان مباحا بمنزلة ما لو فرق فكذلك في حق الواحدة بل أولى لان هذا يزيل الملك عن امرأة واحدة وهناك الايقاع يزيل الملك عن أربع نسوة۔

۵۔متفرق تین طلاقوں میں دیانۃ تاکید کا احتمال موجود ہے ،لیکن دفعۃ تین طلاق دینے میں تین کے علاوہ کوئی احتمال ہی نہیں،لہذااگر کوئی تین طلاق کا جملہ ایک کی نیت سے کہے تو بھی تین طلاقیں ہی واقع ہونگی، اس لیے کہ تین کا لفظ خاص ہے،اس لیے کہ تین کا عدد تین اکائیوں کے مجموعہ کے لیے وضع ہوا ہے اور مفہوم پر تین کی دلالت قطعی ہےجس میں اس سے کمی،بیشی کا شرع و عقل کے علاوہ لغۃ بھی احتمال نہیں، لہذا تین سے تین ہی مراد ہوگا، ایک مراد لینا درست نہیں، اور نہ ہی  ایک کی نیت سے دفعۃ تین طلاق  کاجملہ کہنےکے بارے میں کوئی ایسی نص قطعی موجود ہے جو تین کو ایک بنانے میں ناسخ کا کرادر ادا کرتی ہو، لہذا  دفعۃ ایک جملہ میں تین طلاق دینے سے تین ہی واقع ہونگی۔ (خیر الفتاوی:ج۵،ص۳۹۵ بحوالہ  مغنی لابن قدامہ)

 دوسری دلیل حدیث ابن عباس بروایت طاووس:(مسلم شریف میں طاؤوس کی حضرت ابن عباس سے نقل کردہ مشہور روایت کہ "نبی کریم صلی اللہ علیہ  وسلم اور ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں اور عہد فارقی کے ابتدائی دور میں تین طلاق ایک تھی ،یہاں تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آکر انہیں تین کرڈالا" سے استدلال ہے۔) جس پر تین کے ایک ہونے کے قائلیں کو بہت ناز ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت جمہورامت کے نزدیک بالاتفاق اصول روایت اور درایت دونوں اعتبار سےمتروک ،مردوداور ناقابل  عمل واستدلال ہے۔

 اور اس بارے میں محدثین کےچندمسالک ہیں:

۱۔امام سعید بن منصور نےامام احمد بن حنبل سے اورامام بیہقی  نےامام بخاری رحمہم اللہ  تعالی  سےشذوذ(مخالفت ثقات) کی بناء پر اس حدیث کامتروک ہونا نقل فرمایا ہے،اس لیے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماکے آٹھ ثقہ شاگردآپ سےکلمہ واحدہ سے دی گئی تین طلاق کا تین واقع ہونا ہی نقل فرماتےہیں،(بیہقی)اسی طرح اس روایت کےمرکزی راوی  طاووس کے بیٹے ابن طاؤؤس نےبھی اپنے والد سے اس روایت کے منگھڑت اور جھوٹ ہونے کی تصریح فرمائی ہے، جو کتب روایت میں سندا منقول ہے۔

 ۲۔ امام شافعی اور امام طحاوی رحمہمااللہ تعالی اس حدیث کے منسوخ ہونے کے قائل ہیں۔

۳۔ اس روایت میں انقطاع ہے کہ طاؤؤس کاابو صہباء سے سننا یقینی نہیں،منقطع قابل استدلال نہیں۔(الاشفاق)

۴۔ اگر ابو صہباء سے مراد ابن عباسرضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہے تو وہ ضعیف ہے جیساکہ امام نسائی نے ذکر فرمایا ہے اور اگر کوئی دوسرا ہے تو مجہول ہے،لہذا بہر حال روایت بوجہ ضعف یا جہالت روای ضعیف ہے۔

۵۔ یہ حدیث سند اورمتن دونوں لحاظ سے مضطرب ہے۔(امام بخاری)

۶۔یہ حدیث مسلمانوں کے معاشرےمیں ایک اجتماعی حالت کو بیان پر مشتمل ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو نقل کرنے والے متعدد لوگ ہوں ،جبکہ اس کے روایت کرنے والے صرف ایک شخص طاؤؤس ہیں ،بالخصوص جبکہ  انکی شہرت بھی منکر روایات نقل کرنے سے ہے۔

۷۔یہ حدیث کئی وجوہ سے معلول بھی ہے، مثلا  اس کا مفہوم قرآن وسنت صریحہ صحیحہ اور اجماع کے بھی خلاف ہے،نیزاس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف  تعزیرا اور سیاسۃ ایک حکم شرعی میں  تغیر کی نسبت لازم آتی ہے جو ایک صحابی بلکہ  ہم نوا تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کی ثقاہت وعدالت کو مجروح کرتی ہے۔

۸۔ اگر بالفرض یہ روایت صحیح اور ثابت مان بھی لی جائے  تو بھی یہ روایت ایک لفظ سے دی گئی تین طلاقوں کے ایک ہونے میں صریح نہیں،لہذااس سےاس بارے میں محتمل ہونے کی بناء پر استدلال درست نہیں،بلکہ دیگر صریح اور صحیح نصوص کی روشنی میں یہ کمزوراورمبہم روایت واجب التاویل ہے۔(الاشفاق،حکم الطلاق الثلاث)

چنانچہ بعض لوگوں نے علامہ باجی مالکی رحمہ اللہ تعالی کےحوالے سے  اس روایت کی تصحیح نقل فرمائی ہے،لیکن بقول امام قرطبی مالکی رحمہ اللہ تعالی تب بھی یہ تین طلاق کے ایک ہونے کے لیے دلیل نہیں بن  سکتی ،بلکہ نصوص صریحہ صحیحہ اور اجماع صحابہ کے مخالف ہونے کے باعث واجب التاویل ہے۔(تفسیر قرطبی)

 لہذااس روایت کی مختلف تاویلات کتب شروح حدیث میں پیش کی گئی ہیں،بعض نے غیر مدخول بہا کو متفرق تین طلاق دینے کےساتھ اس حکم کو خاص کیا ہے،اور بعض نے اس کو حکم تعزیری اور سیاسی کہا ہے،لیکن راجح واصح  تاویل یہ ہے کہ صحابہ کے دور میں صداقت وعدالت کے غلبہ کی وجہ سے ایک مجلس میں تین الفاظ سے دی گئی تین طلاقوں میں تاکید کی نیت کو معتبر ماننےسے تین ایک شمار ہوتی تھی،لیکن جب بعد میں لوگوں  میں دینی امورکےبارے میں  سستی،غفلت ،فسق اور کذب غالب ہوگیااور اس بارے میں بے احتیاطی  اور کثرت طلاق شروع کردی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی نے تکرار لفظ میں تاکید کے اعتبار کو قضاء کالعدم قراردےدیا۔(فتح القدیر،شرح مسلم نووی وتکملۃ فتح الملہم:ج۱،ص۱۵۸)   

لہذا علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کا اس حدیث کو تعزیری اور عارضی حکم پر محمول کرنا درست نہیں ، اس لیے کہ اس سے تو لازم آتا ہے کہ جب تین طلاقیں شرعا ایک ہی تھی تو ایک شخص  پر اس کی بیوی  حرام قرار دیےدینا اور اس کے حق رجوع کا ابطال لازم آتا ہے اور اگر کوئی اس دوران زبان سے رجوع کرچکا ہو تو بھی اس پر اس کی بیوی حرام اور دوسرے کے لے اس کا حلال قرار دینا لازم آتا ہے، جبکہ حاکم کو تحریم وتحلیل کا کلی وعمومی اختیارنہیں،اگرچہ  وقتی جزوی پابندی لگاسکتا ہے۔

تیسری دلیل حدیث رکانہ:(امام ابوداودرحمہ اللہ کی ابن جریج سے حضرت  رکانہ رضی اللہ عنہ کی وہ روایت ہے جس میں تین طلاق دینے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے پر دوبارہ رجوع کرنے کا ذکر ہے۔)

 اس کے جواب جمہور کی طرف سے یہ ہیں کہ:

اولا: امام بخاری رحمہ اللہ تعالی کے بقول یہ روایت  مطلقامعلول و مضطرب ہے،چنانچہ بعض طرق میں طلاق دینے والے کا نام رکانہ ہے کما فی روایۃ احمد اور بعض میں ابو رکانہ ہےکما فی روایۃ ابی داود،نیز بعض طرق میں تین طلاق دینے کا ذکر ہے، جبکہ دیگر بعض میں البتۃ سے طلاق دینے کا ذکر ہے۔جبکہ امام ابو داوو نے البتۃ کی روایت کو ترجیح دی ہے۔

ثانیا:سنن ابو داود میں اس کے راوی بعض بنی ابی رافع مجہول ہیں ،جس کی بنیاد پر امام نووی نے اس حدیث کو شرح مسلم میں ضعیف کہا ہے۔وکذا قال ابن حزم فی المحلی وکذا ابن عبد البر فی التمھید اورعلامہ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ تعالی کےمطابق اگر اس سے مراد محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع ہےتو وہ بھی بالاتفاق ضعیف ہے۔

ثالثا:مسند احمد میں اس روایت کے راوی محمد بن اسحاق اور اس کے شیخ  داود بن حسین ہیں،جوعند المحدثین مختلف فیہ ہیں۔ قال ابو داود: احادیثہ عن عکرمۃ مناکیر

 رابعا:یہ حدیث خود راوی  (ابن عباس رضی اللہ عنہما)کے فتوی کے خلاف ہے۔کما مر نقلا عن ابن عباس رضی اللہ عنہما۔

چوتھی دلیل اجماع:(اجماع صحابہ کا دعوی اور اس سے استدلال ہے،) حدیث ابن اعباس بروایت طاووس کو امام ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد امام ابن قیم رحمہما اللہ تعالی نے  سب سے پہلے تین طلاق کے ایک ہونے پر اجماع صحابہ کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے،اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو ایک سیاسی اور عارضی تعزیری فیصلہ قرار دیا ہے،لیکن یہ دعوی  نہ صرف بلا دلیل بلکہ خلاف دلیل ہےاوریہ استدلال تحفظات سے خالی بھی نہیں۔

۱۔ ایک شرعی حکم پر(بزعم معترض)منعقد اجماع کےخلاف سیاسی اور تعزیری  فیصلے کی کیا حیثیت ہے؟جس سے شرعی حکم متاثر ہو۔یقینا ایسے سیاسی فیصلے شرعا معتبر اورجائز نہیں اور نہ کسی حاکم کو ایسا اختیارحاصل ہے۔

۲۔جب یہ فیصلہ انتظامی اورسیاسی نوعیت کاتھاتو جمہورامت صحابہ تابعین تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین کے اس کوشرعی حیثیت دے کر کیا دین خداوندی میں تحریف  کومستلزم نہیں؟

۳۔اگریہ سیاسی فیصلہ تھاتو جمہور امت(صحابہ تابعین تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین) نے پہلے شوہر کے پاس جانے کےلیے دوسرے نکاح کی شرط کیوں لگائی؟

۴۔ اگر یہ حکم اجماعی تھا یا اب بھی ہے تو عمر رضی اللہ عنہ کے سیاسی فیصلے کے بعد اصل شرعی حکم کے مطابق کسی ایک بھی صحابی یا تابعی سے تین کے شرعا ایک ہونے کا صحیح سند کے ساتھ صریح فتوی یا اثر کیوں نہیں منقول؟

۵۔اس بارے میں ابن قیم رحمہ اللہ کے کلام میں تناقض ہےکہ ایک طرف تو اس مسئلہ کو مختلف مانتے ہیں،بلکہ تین طلاق جمہور ائمہ کا مسلک بتاتے ہیں،جبکہ دوسری طرف اپنے موقف پر دعوی اجماع بھی کیا جاتا ہے، جس سے لازم آتا ہے کہ جمہور امت خلاف اجماع پرعمل پیراہے۔

۶۔ اختلاف لاحق اجماع سابق کےلیےاصولی طور پررافع نہیں،جبکہ اس مسئلہ میں ان دونوں حضرات سے  منقول اختلاف مذاہب فقہیہ کی تحقیق  اس کی نفی کرتی ہے۔

۷۔تین کے ایک ہونے پر اجماع کا دعوی جمہور کے موقف کے شاذ ہونے کواور شرذمہ قلیلہ کےموقف کے مجمع علیہ ہونے کو مستلزم ہے،جو کہ مصادرہ علی المطلوب ہے۔

پانچویں دلیل قیاس:(متعدد منصوص شرعی نظائر پرقیاس کا تقاضا ایک کلمہ سے دی گئی تین طلاق سے ایک طلاق واقع ہونا ہے۔)

 چنانچہ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہین کہ  جس طرح  سبحان اللہ ماتہ مرۃ کہنےسے ایک دفعہ تسبیح کا ثواب ہوگا، نہ کہ سو دفعہ تسبیح کا،اور جس طرح لعان میں چار دفعہ گواہی دینے کے بجائے ایک دفعہ گواہی میں چار کا ہندسہ لگانے سے ایک گواہی ہی شمار ہوگی،اسی طرح رمی جمرات میں ایک دفعہ سات کنکریاں مارنے سے ایک دفعہ  مارنا معتبر ہوگا،تو یہاں بھی ایک طلاق کے لفظ کے ساتھ تین کا ہندسہ لگانے سے  ایک دفعہ ہی  عمل ایقاع طلاق ہواہے،تین دفعہ   طلاق دینا ثابت نہ ہوگا،اس لیے کہ قائل نے ایک دفعہ ہی لفظ طلاق کہا ہے نہ کہ تین دفعہ۔

 اس پوری تقریر کا جواب یہ ہے کہ  درج ذیل  نکات کی بناء پران مذکورہ امور سے  استشہادیاان پرقیاس درست نہیں:

  اولا:یہ  کہ یہ قیاس فی معارضۃ النص ہے، یعنی ایسی چیز کو قیاس کیا جارہا ہے جس کا حکم نص سے ثابت ہے، لہذا تین طلاق کے مجتمعا تین ہی واقع ہونا قرآن مجید اور احادیث کی نصوص صریحہ وصحیحہ ثابت اور اجماع سے مؤید ہے ،لہذا اس کے مقابلہ میں قیاس شرعا غیر معتبر بلکہ فاسد ہے۔ (الاشفاق علی احکام الطلاق)

ثانیا :لعان اوررمی جمرات پر قیاس  قیاس مع الفارق ہونے کی مزید وجہ یہ ہے کہ  لعان میں چار گواہیاں ثبوت زنا کےچار گواہوں کے قائم مقام ہیں، لہذا ایک گواہی  کے ادائیگی  کا کوئی  اعتبار نہیں، جبکہ طلاق میں ایک طلاق کا ایقاع معتبر ہے، یہی حال رمی جمرات کا ہےکہ سات میں سے صرف ایک کنکر مارنے پر اکتفاء شرعا بالکل( جزوی طور پر بھی) معتبر نہیں۔(روح المعانی)

ثالثا:قیاس کے مع الفارق ہونے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ طلاق میں مقصود مفعول ہوتا ہے،جو کہ  مطلقہ کی صفت ہے،لہذا طلقتک ثلاثا کے معنی اوقعت علیک ثلاث تطلیقات ہے، جبکہ لعان  اور رمی میں مقصود فعل شہادت اور رمی ہوتی ہے ،لہذا جہاں مفعول مقصود ہوتا ہے وہاں تعدد مفعول پر دلالت کرنے والے لفظ کا وجود کافی  اور تعدد فعل کے قائم مقام ہوتاہے جبکہ جہاں فعل مقصود ہوتا ہے وہاں  خود فعل کا تکرار ضروری ہے۔(اعلاء السنن)

مسئلہ تین طلاق کےدلائل اوراصول ترجیح :

  تفصیل بالا سے یہ بات اچھی طرح عیاں ہوگئی کہ تین طلاق کے ایک ہونے پر قرآن وسنت وآثار صحابہ اجماع قیاس میں سے کوئی بھی  ایک صحیح صریح دلیل موجود نہیں،لیکن اگر بالفرض اس مسئلہ میں فریق مخالف کے پاس کچھ معتبر دلائل ہوتے بھی سہی یا ان کے مذکورہ دلائل کو معتبر(صحیح اورثابت) مان بھی لیا جائے توبھی ایسی صورت میں جانبین کے دلائل میں تعارض کے پیش نظر اصول ترجیح کی بنیاد پر فیصلہ ہوتا اور اس مقام میں اصول ترجیح سے بھی جمہور کے موقف کو ترجیح حاصل ہے۔

 ۱۔احادیث مرفوعہ میں تعارض کی صورت میں تعامل صحابہ وفتاوی صحابہ کو  ترجیح کے لیے بنیادی معیار کا مقام حاصل ہے اور اس مسئلہ میں آثار صحابہ بلا منازعت  ومزاحمت کے جمہور کےموقف پر دلالت کرنے والی احادیث کی ترجیح کا تقاضا کرتی ہیں۔ یہ اصول ترجیح تو خاص احادیث سے متعلق تھا۔

۲۔ دوسرا اصول ترجیح جملہ دلائل شرعیہ سے متعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ عند التعارض دلائل منع اور حرمت کو دلائل اباحت اور حلت پر ترجیح ہوگی، اس لحاظ سے بھی جمہور کے دلائل قابل ترجیح ہیں۔

۳۔ تیسرا اصول ترجیح یہ ہے کہ تعارض کے وقت قلت وکثرت کے بجائے قوت و ضعف کی بناء پر ترجیح ہوتی ہے،اوراس لحاظ سےبھی دیکھا جائے تو جمہور کے دلائل نہ صرف یہ کہ قوی ہیں ،بلکہ کثیربھی ہے۔کما قیل انما العبرۃ لقوۃ الدلیل لا لکثرتہ۔

۴۔ تعارض کے وقت صریح کومحتمل پرترجیح ہوتی ہے،چنانچہ اصولاعند التعارض مفسر کوظاہر اورنص پرترجیح ہوتی ہے،جبکہ اس مسئلہ میں جمہور کے دلائل صریح بھی ہیں ،جبکہ مخالفین کے دلائل محتمل اورغیرصریح ہیں۔

سعودی حکومت کےتحت نامورعلماء حرمین  پرمشتمل منعقدہ تحقیقاتی  مجلس کامتفقہ فیصلہ:

سعودی حکومت نے اپنے ایک شاہی فرمان کے ذریعہ علماءحرمین اور ملک کے دیگر نامورترین اورماہرومحقق مفتیان عظام وعلماء کرام پرمشتمل،غیرجانبدار اور کسی بھی قسم کی مذہبی اور مکتب فکر کی  متعصبانہ وابستگی یا سیاسی اور سرکاری دباؤ سے آزاد ایک تحقیقاتی مجلس قائم کر رکھی ہے جس کا فیصلہ تمام ملکی عدالتوں میں نافذ ہے،خود بادشاہ بھی اس کا پابند ہوتا ہے، اس تحقیقاتی مجلس میں تین طلاق کا مسئلہ پیش ہوا، مجلس  نے اس مسئلہ سے متعلق قرآن حدیث کی نصوص کے علاوہ تفسیر وحدیث کی  سینتالیس(۴۷) کتابیں کھنگالنے اوردونوں جانب کے دلائل پرسیر حاصل بحث کے بعدچھے بنیادی مضبوط نکات کی بنیاءپربالاتفاق واضح الفاظ میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ ایک لفظ سے دی گئی تین طلاقیں بھی تین ہی ہیں۔ یہ پوری بحث اور متفقہ فیصلہ حکومت سعودیہ نے "حکم الطلاق الثلاث" کے نام سے ایک رسالہ میں شائع کیا ہے،(جو احسن الفتاوی :ج۵ میں مندرج ہے،)لہذا جو لوگ مسائل میں حدیث پر عمل پیرا ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور مختلف فیہ مسائل میں اہل حرمین کےعمل کوبطورحجت پیش کرتے ہیں،یہ فیصلہ بھی ان پرحجت ہے۔

اس بارےمیں مزید تفصیل کےلیےمذکورہ رسالہ کےعلاوہ رسالہ"الانقاذ من الشبھات فی انفاذ المکروہ من  الطلقات "مع تتمۃ الرسالۃ فی آخر المجلد المشتملۃ علی نخبۃ الاشفاق( اعلاء السنن:۱۱)اور  علامہ زاہدکوثری رحمہ اللہ تعالی کارسالہ"الاشفاق علی احکم الطلاق" اوراردودان طبقہ کےحضرات"عمدۃا لاثاث فی حکم الطلقات الثلاث"ازامام اہل سنت حضرت صفدررحمہ اللہ تعالی  اورخیر الفتاوی کی جلد پنجم اورفتاوی رحیمیہ کی جلدسوم میں طلاق کے باب میں"ایک مجلس کی تین طلاقیں"کےعنوان کےتحت اورآپ کےمسائل اورانکا حل ازلدھیانوی جلدنمبر۵، ص ۲۸۷ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۸صفر۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب