| 84871 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
ہم تین بھائی(غلام سرور ،حبیب اللہ اور عبدالستار) ایک بہن (کلثوم)اور ایک بھابھی(کزبانو) ہیں ،ہمارے والد نے وراثت میں ایک ایکڑ زمین چھوڑی تھی جس کو ہم نے 2018 میں سترہ لاکھ(1,700,000) روپے کی بیچی ، اس وقت ہم نے بھابھی(کزبانو) کا جو حصہ بنتا تھا فتویٰ لیکر اس کو ادا کردیا جو کہ تریانوے ہزار (93,000) روپے بنتے تھے ،اب باقی رقم سولہ لاکھ سات ہزار روپے(1,607,000) اور ایک بھائی (حبیب اللہ)کےچھ لاکھ(600,000)،دوسرے بھائی (غلام سرور) کےچھ لاکھ(600,000) اورتیسرے بھائی (عبد الستار)کے مزید ڈیڑھ لاکھ (150,000)روپے لگا کر ہم نے گھر خرید کر بنایا ،اب 2024 میں ہم نے وہ گھر سینتیس لاکھ پچاس ہزار (3,750,000) روپے میں بیچا،جس میں سے پچاس ہزار (50,000) روپے گھر کے اوپر بجلی وگیس کا بل ہے جو کہ قبضہ دیتے وقت اس بل کو کلئیر کر کے دینا ہے،اب ہماری بہن (کلثوم)کاحصہ کتنا بنتا ہے؟ نیز ہماری بہن (کلثوم)کو آج سے 27 سال پہلے طلاق ہوئی تھی اور وہ پاگل سی ہے، مال سنبھالنے کی اہلیت نہیں رکھتی، اب تک ہماری بہن(کلثوم) کا نان نفقہ ،سکنی، ہر چیز ہم کرتے تھے ،اب اس کی اولاد اس کے حصے کا مطالبہ کرتی ہے ،اس کا کیا حکم ہے؟
تنقیح:سائل نے کال پر وضاحت کی کہ ہمارے ایک بھائی(غلام مصطفی ) کا ترکہ کی تقسیم سے پہلے انتقال ہواتھا اور اس کی صرف بیوی(کزبانو) زندہ تھی ،اولاد نہیں تھی،ہمارے علاقہ کے ایک مفتی صاحب نے زبانی اس کی بیوی (کزبانو) کا حصہ بتایا تھا جس کو ہم نے الگ کرکے دیاتھا۔مزید یہ کہ ایک بھائی غلام سرور نے چھ لاکھ ، دوسرے بھائی حبیب اللہ نے چھ لاکھ اورتیسرے بھائی عبدالستار نے ڈیڑھ لاکھ روپے دئیے تھے۔ نیز یہ کہ میت (سائل کے والد )کی بیوی (رحمتہ بی بی )بھی حیات ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والد کی وفات کےبعدسےچونکہ اب تک میراث تقسیم نہیں کی گئی،اس لیےصورت مسئولہ میں سب سےپہلے سائل کےوالد مرحوم کی میراث تقسیم کی جائےگی۔
والد مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز وتکفین کامعتدل خرچہ (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیاہو(اداکیاجائےگا،پھر مرحوم کے ذمہ کسی کاقرضہ اگر ہو تو اداکیاجائےگا،پھراگرمرحوم نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائزوصیت کی ہےتوترکہ کےایک تہائی تک اس کواداکیاجائے،اس کےبعدجوکچھ بچ جائے،اس کومرحوم کےانتقال کےوقت موجودورثہ ( چار بیٹے ،بیوی اورایک بیٹی )میں تقسیم کیاجائےگا۔
تقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ والد مرحوم کےکل ترکہ سترہ لاکھ (1,700,000) کے پہلے کل بہتر (72) حصے بنائے جائیں گے،ان میں سے رحمتہ بی بی کو نو(9) حصے،غلام مصطفی ،غلام سرور ،عبدالستار اور حبیب اللہ کو چودہ،چودہ(14,14) حصے اور بیٹی کلثوم کو سات (7)حصے ملیں گے۔
والد کی میراث کی تقسیم کےبعد غلام مصطفی (فوت شدہ)کی میراث تقسیم کی جائے گی،جس میں غلام مصطفی کو اپنےوالد سےملنےوالا عددی حصہ (14)کوان کی وفات کےوقت موجود ورثہ (بیوی کزبانو ،ماں رحمتہ بی بی،ایک بہن کلثوم اور تین بھائی غلام سرور،حبیب اللہ اور عبد الستار)میں تقسیم کیاجائےگا، بیوی (کزبانو)کو اپنے شوہر غلام مصطفی سے چوتھائی حصہ،ماں (رحمتہ بی بی )کو چھٹا اور بقیہ مال بہن بھائیوں میں دو ایک کے تناسب سے تقسیم ہوگا۔
اب کل ترکہ سترہ لاکھ (1700000)کے چار سو بتیس (432)حصے بنائیں جائیں گے،ان میں سے کزبانو کو اکیس (21) ،کلثوم کو انچاس (49)،رحمتہ بی بی اڑسٹھ(68)،غلام سرور کو اٹھانوے(98)عبدالستار کو اٹھانوے(98)اور حبیب اللہ کو اٹھانوے(98) حصے ملیں گے۔
فیصدی اعتبار کزبانو کاحصہ 4.86111111% ،کلثوم کاحصہ ,11.34259259%رحمتہ بی بی کاحصہ 15.740740%،غلام سرور کاحصہ ,22.6851851%عبدالستارکاحصہ22.6851851%اور حبیب اللہ کاحصہ51851% 22.68حصے ہوگا ۔
لہذا کل ترکہ سترہ لاکھ (1,700,000) میں سےرحمتہ بی بی کو کل دو لاکھ سڑسٹھ ہزار پانچ سو بیانوے (267,592) روپے ، کزبانو کو کل بیاسی ہزار چھ سو اڑتیس (82,638)روپے ،کلثوم کو ایک لاکھ بیانوے ہزار آٹھ سو چوبیس (192,824)،غلام سرور کو کل تین لاکھ پچاسی ہزار چھ سو اڑتالیس (385,648)روپے،عبدالستار کو کل تین لاکھ پچاسی ہزار چھ سو اڑتالیس (385,648)روپےاور حبیب اللہ کو کل تین لاکھ پچاسی ہزار چھ سو اڑتالیس (385,648)روپے ملیں گے۔
اس کے بعد بھابھی(کزبانو) کو حصہ(93,000) دے کر دیگرورثہ نے آگے ان بقایہ (1,607,000)روپوں ،ایک بھائی غلام سرورنے مزید چھ لاکھ (600,000) روپے،دوسرے بھائی حبیب اللہ نے چھ لاکھ (600,000) روپے اور تیسرے بھائی عبد الستارنے ڈیڑھ لاکھ(150,000) روپے سے گھر خرید کر بنایا اور 2024 میں اس مشترکہ گھر کو سینتس لاکھ پچاس ہزار(3,750,000) روپے میں بیچ دیا،اس میں سے پچاس ہزار(50,000) کے بلز ادا کئے،لہذا باقی بچ جانے والے(3,700,000) میں سے ہر وارث کو گھر میں اپنے ملکیتی حصہ کے تناسب سے حصہ ملے گا،لہذا غلام سرور کو 33.2491714576%یعنی کل بارہ لاکھ تیس ہزار دو سو انیس (1,230,219)روپے،دوسرےبھائی حبیب اللہ کو 33.2491714576%یعنی کل بارہ لاکھ تیس ہزار دو سو انیس(1,230,219)روپے،تیسرےبھائی عبدالستارکو18.0310449078%یعنی کل چھ لاکھ سڑسٹھ ہزارایک سو اڑتالیس(667,148)روپے ، بہن کلثوم کو6.47916807575 % یعنی کل دولاکھ انتالیس ہزارسات سو انتیس(239,729)روپے اور ماں رحمتہ بی بی کو 8.99147784917% یعنی کل تین لاکھ بتیس ہزار چھ چوراسی(332,235)روپے ملیں گے۔
باقی اگر بہن کانان نفقہ ،سکنی وغیرہ کا خرچہ اگر آپ لوگوں نے اس کی اجازت سے کئے ہیں تو یہ آپ لوگوں کا اس پر قرض ہے ،مطالبہ کرسکتے ہیں ،لیکن اگر اس کی اجازت کے بغیر یہ خرچے کئے ہیں تو یہ آپ لوگوں کی طرف سے تبرع شمار ہوں گے،لہذا مطالبہ نہیں کرسکتے۔
نوٹ:چونکہ آ پ کی بھابھی کا حصہ بیاسی ہزار چھ سو اڑتیس (82,638)روپے بنتاتھا ،مگر آپ لوگوں (سائل) نے اس کو تریانوے ہزار (93,000) دئیے ہیں،اس لئے ہر ایک بھائی کو بھابھی کزبانو کے حصہ سے 23.844% یعنی دو ہزار چارسو ستر (2,470) روپے،ماں رحمتہ بی بی کو 16.54% یعنی ایک ہزار سات سو چودہ (1,714) اور بہن کلثوم کو 11.922%یعنی ایک ہزار دو سو پینتیس (1,235) روپے واپس ملیں گے۔
والد صاحب کی میراث:
|
نمبر شمار |
نام ورثہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
رقم (1,700,000) |
|
1 |
بیوی رحمتہ بی بی |
9 |
12.5% |
212,500 |
|
2 |
بیٹا غلام مصطفی |
14 |
19.444444% |
330,555 |
|
3 |
بیٹا غلام رسول |
14 |
19.444444% |
330,555 |
|
4 |
بیٹا عبدالستار |
14 |
19.444444% |
330,555 |
|
5 |
بیٹاحبیب اللہ |
14 |
19.444444% |
330,555 |
|
6 |
بیٹی کلثوم |
7 |
9.7222222% |
165,277 |
|
7 |
مجموعہ |
72 |
100% |
1,700,000 |
بھائی غلام مصطفی کی میراث: یعنی عددی حصہ 14(19.4444%)جو والد سےملاتھا وہ درج ذیل طریقےسےتقسیم ہوگا:
|
نمبرشمار |
نام ورثہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
رقم (330,555) |
|
1 |
بیوی کزبانو |
21 |
4.86111111% |
70,833 |
|
2 |
بھائی غلام سرور |
14 |
22.6851851% |
47,222 |
|
3 |
بھائی عبدالستار |
14 |
22.6851851% |
47,222 |
|
4 |
بھائی حبیب اللہ |
14 |
22.6851851% |
47,222 |
|
5 |
بہن کلثوم |
7 |
11.34259259% |
23,611 |
|
6 |
ماں رحمتہ بی بی |
14 |
15.740740% |
47,222 |
|
7 |
مجموعہ |
98 |
100% |
330,555 |
المبلغ: 432
الأحیاء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کل ترکہ 1,700,000
|
نمبر شمار |
زندہ ورثہ |
ٹوٹل عددی حصہ |
فی کس رقم |
|
1 |
بھائی عبدالستار |
98 |
385,648 |
|
2 |
بھائی حبیب اللہ |
98 |
385,648 |
|
3 |
بھائی غلام رسول |
98 |
385,648 |
|
4 |
بھابھی کزبانو |
21 |
82,638 |
|
5 |
بہن کلثوم |
49 |
192,824 |
|
6 |
ماں رحمتہ بی بی |
68 |
267,592 |
|
7 |
مجموعہ |
432 |
1,700,000 |
گھر میں ہر وارث کے ملکیتی حصہ کے تناسب سے تقسیم:ہر وارث کو گھر بیچنے کے بعد اس کے ٹوٹل قیمت سینتیس لاکھ (3,700,00) میں سے اپنے ملکیتی حصہ کے تناسب سے حصہ ملے گا ۔
|
نام |
ملکیتی فیصدی حصہ |
رقم(3,700,000) |
|
حبیب اللہ |
33.2491714576% |
1,230,219 |
|
غلام سرور |
33. 2491714576% |
1,230,219 |
|
عبدالستار |
18.0310449078% |
667,148 |
|
کلثوم |
6.47916807575 % |
239,729 |
|
رحمتہ بی بی |
8.99147784917% |
332,684 |
|
مجموعہ |
100% |
3,700,000 |
نوٹ:آپ کے بھابھی کزبانوکو بیاسی ہزار چھ سو اڑتیس (82638)روپے کی بجائے تریانوے ہزار روپے ملے ہیں یعنی اس کو دس ہزار تین سو باسٹھ روپے(10362) زائد ملے ہیں ،لہذا سب ورثہ کو اپنے اپنے حصہ کے تناسب سے آپ کی بھابھی (اگر زندہ نہیں ہے تو اس کے ترکہ میں سے )کی طرف سے واپس دیاجائےگا۔
|
نام |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
رقم(10362) |
|
حبیب اللہ |
98 |
23.844% |
2470 |
|
غلام سرور |
98 |
23.844% |
2470 |
|
عبدالستار |
98 |
23.844% |
2470 |
|
کلثوم |
49 |
11.922% |
1235 |
|
رحمتہ بی بی |
68 |
16.54% |
1714 |
|
مجموعہ |
411 |
100% |
10362 |
حوالہ جات
القران الکریم (3/ 11):
يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين فإن كن نساء فوق اثنتين فلهن ثلثا ما ترك وإن كانت واحدة فلها النصف ولأبويه لكل واحد منهما السدس مما ترك إن كان له ولد فإن لم يكن له ولد وورثه أبواه فلأمه الثلث فإن كان له إخوة فلأمه السدس من بعد وصية يوصي بها أو دين آباؤكم وأبناؤكم لا تدرون أيهم أقرب لكم نفعا فريضة من الله إن الله كان عليما حكيما (11) ولكم نصف ما ترك أزواجكم إن لم يكن لهن ولد فإن كان لهن ولد فلكم الربع مما تركن من بعد وصية يوصين بها أو دين ولهن الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم من بعد وصية توصون بها أو دين.
السراجی فی المیراث (5،6 🙁
الحقوق المتعلقہ بترکۃ المیت :قال علماؤنارحمہم اللہ تعالی تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ الاول یبدأبتکفینہ وتجہیزہ من غیرتبذیرولاتقتیر،ثم تقصی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذوصایاہ من ثلث مابقی بعدالدین ،ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ.
المبسوط للسرخسي (11/ 151):
(ثم) الشركة نوعان: شركة الملك وشركة العقد. (فشركة الملك) أن يشترك رجلان في ملك مال، وذلك نوعان: ثابت بغير فعلهما كالميراث، وثابت بفعلهما، وذلك بقبول الشراء، أو الصدقة أو الوصية. والحكم واحد، وهو أن ما يتولد من الزيادة يكون مشتركا بينهما بقدر الملك، وكل واحد منهما بمنزلة الأجنبي في التصرف في نصيب صاحبه.
الفتاوى الهندية (2/ 301):
الشركة نوعان شركة ملك وهي أن يتملك رجلان شيئا من غير عقد الشركة بينهما، كذا في التهذيب وشركة عقد وهي أن يقول أحدهما شاركتك في كذا ويقول الآخر قبلت، هكذا في كنز الدقائق وشركة الملك نوعان: شركة جبر، وشركة اختيار فشركة الجبر أن يختلط المالان لرجلين بغير اختيار المالكين خلطا لا يمكن التمييز بينهما حقيقة بأن كان الجنس واحدا أو يمكن التمييز بضرب كلفة ومشقة نحو أن تختلط الحنطة بالشعير أو يرثا مالا وشركة الاختيار أن يوهب لهما مال أو يملكا مالا باستيلاء أو يخلطا مالهما، كذا في الذخيرة أو يملكا مالا بالشراء أو بالصدقة، كذا في فتاوى قاضي خان أو يوصى لهما فيقبلان، كذا في الاختيار شرح المختار، وركنها اجتماع النصيبين، وحكمها وقوع الزيادة على الشركة بقدر الملك، ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه ويجوز بيع أحدهما نصيبه من شريكه في جميع الصور ومن غير شريكه بغير إذنه إلا في صورة الخلط والاختلاط، كذا في الكافي.
عبدالعلی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
03/ ربیع الاول /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


