03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض کی واپسی کے وقت زیادہ ادا کرنے کا حکم
84802خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

ایک شخص نے مجھے پانچ ماہ قبل بیس لاکھ روپے قرض دیا تھا، اور اب ان پیسوں کی ادائیگی کا وقت قریب ہے، میں چاہتا ہوں کہ اس آدمی کو اپنی خوشی سے پچاس ہزار روپے اضافی دے دوں، کیونکہ ان کا مجھ پر بہت بڑا احسان ہے، تو کیا ان کو بیس لاکھ کے علاوہ اضافی رقم دینا جائز ہے یا نہیں؟ اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اگر کسی پیشگی معاہدے یا شرط کے بغیر قرض کی واپسی کے وقت قرض خواہ کے احسان کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ خود سے کچھ اضافی رقم ادا کریں اور اضافے کے ساتھ ادائیگی کا عرف نہ ہو، تو یہ آپ کی طرف سے تبرع اور احسان سمجھا جائے گا، اور اس پر آپ کو اجر و ثواب بھی ملے گا۔ کیونکہ حدیث میں بھی اس بات کی ترغیب دی گئی ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا:تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرض کی ادائیگی زیادہ اچھے طریقے سے کرنے والا ہو۔ لہٰذا جس طرح وقت پر قرضہ ادا کرنا اچھے طریقے سے ادا کرنے میں شامل ہے، اسی طرح بلا شرط بطور تبرع کچھ بڑھا کر ادا کرنا بھی اچھے طریقے سے ادا کرنے میں شامل ہے۔

حوالہ جات

عن عطاء بن يسار، عن أبي رافع، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم استسلف من رجل بكراً، فقدمت عليه إبل من إبل الصدقة، فأمر أبا رافع أن يقضي الرجل بكره، فرجع إليه أبو رافع، فقال: لم أجد فيها إلا خياراً رباعياً، فقال: أعطه إياه، إن خيار الناس أحسنهم قضاءً.(الصحيح المسلم :3/ 1224)

(قوله ‌كل ‌قرض ‌جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه.(ردالمحتار: 166/5)

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

28 ٖصفر1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب