03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زمین پر زکوۃ کا حکم
84801زکوة کابیانان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی

سوال

میں نے قدوری میں پڑھا کہ جس زمین پر حکومت ٹیکس لیتی ہو، اس پر زکوٰۃ نہیں ہوتی ، جب کہ ہماری زمین پر حکومت ٹیکس بھی لیتی ہے ، عشر اور آبیانہ بھی لیتی ہے ، تو کیا اس پر زکوٰۃ واجب ہوگا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زکوة کے وجوب کے بارے میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ زکوة صرف چار چیزوں پر واجب ہوتی ہے، سونا، چاندی، نقدی اور مالِ تجارت (جو آگے بیچنے کے ارادے سے خریدا گیا  ہو) ان چار چیزوں میں سے کسی ایک دو چیزوں جن کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو جائے تو سال گزرنے کے بعد اس پر زکوة واجب ہو جاتی ہے۔ ان چار اقسام کے علاوہ کسی بھی قسم کے اموال پر زکوة واجب نہیں۔لہذا سوال میں ذکر کی گئی زمین کواگر آگے بیچنے کی نیت سے نہیں خریدا یا اس نیت سے خریداتھا لیکن اب یہ نیت برقرار نہیں رہی تو اس  پر زکوة واجب نہیں،البتہ اس کی پیداوار پر عشر واجب ہے، جو زمین کی نوعیت کے حساب سے دسواں یا بیسواں حصہ واجب ہو گا، چاہے حکومت ٹیکس لے یا نہ لے ۔

حوالہ جات

(ولا في ثياب البدن) المحتاج إليها لدفع الحر والبرد ابن ملك (وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها) وكذا الكتب وإن لم تكن لأهلها إذا لم تنو للتجارة.قال ابن عابدين: (قوله وأثاث المنزل إلخ) محترز قوله نام ولو تقديرا، وقوله ونحوها: أي كثياب البدن الغير المحتاج إليها وكالحوانيت والعقارات. (الدر مع الرد  264/2:)

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

30  ٖصفر1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب