03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نواسوں کوہبہ کردہ سونےپرزکوۃ اور قربانی کاحکم
84161زکوة کابیانان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی

سوال

میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور وہ چار تولے سونا اپنے نواسوں کو دے کر گئی ہیں، دو بیٹے میرے اور دومیری بہن کے بیٹے۔

  مسئلہ یہ ہے کہ میرا بیٹا اب 18 سال کا ہوا ہے اور باقی تینوں چھوٹے ہیں ، اس کی زکوۃ کس پرواجب ہے؟اور قربانی کس کے نام سے واجب ہوگی؟اب تک میں زکوۃ اور قربانی اپنی والدہ کے نام سے کرتی تھی، کیا یہ صحیح ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یہ سونا نانی کی طرف سے جن بچوں کو دیا گیا ہے،اگرنانی نے اپنی زندگی میں خود ان کے درمیان تقسیم کیا ہو یا کسی کو اس سونے کی تقسیم کا و کیل مقرر کیا ہو تو یہ ہبہ تام ہوگیا ہے ،ورنہ یہ ہبہ تام نہیں ہوا ،لہذا ایسی صورت میں نانی کے انتقال کے بعد یہ سونا اس کے ورثہ میں بطور میراث شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔

ہبہ تام ہونے کی صورت میں ہر بچہ اپنے حصہ کا مالک ہوگااوربالغ ہونے کے بعد سے (نصاب مکمل ہونے کی صورت میں) اس کی زکوۃ اور قربانی اسی بچے پر لازم ہوگی،  والدہ کی طرف سے اب تک جو زکوۃ یا قربانی آپ ادا کرتی رہی ہیں،اگر آپ نے اپنی ملکیت سے کی ہے توآپ کی طرف سےنفل قربانی اور نفل صدقہ کے طور پران کو اس کا ایصال ثواب ہوچکا ہے۔لہذاآپ اس کی مالیت یا رقم  کوہبہ تام ہونے کی صورت میں  بچوں کے سونے یا ملکیت سے اور ہبہ تام نہ ہونے کی صورت میں  ورثہ کی مشترکہ ملکیت سے وصول کرنےکی مجازنہیں ہیں۔

حوالہ جات

رد المحتار - (ج 24 / ص 24):

 ( فإن قسمه وسلمه صح ) لزوال المانع

 ( قوله : فإن قسمه ) أي الواهب بنفسه ، أو نائبه ، أو أمر الموهوب له بأن يقسم مع شريكه كل ذلك تتم به الهبة كما هو ظاهر لمن عنده أدنى فقه تأمل ، رملي والتخلية : في الهبة الصحيحة قبض لا في الفاسدة جامع الفصولين .

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 ۲محرم۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب