| 84162 | زکوة کابیان | مستحقین زکوة کا بیان |
سوال
میری بہن مطلقہ ہے اور پاؤں سے معذور بھی ، اس کے دونوں بیٹوں کو بھی میں ہی پال رہی ہوں۔ والدنے ان سے کوئی تعلق نہیں رکھا، ان کے بارے میں کیاحکم ہے؟ کیا یہ صاحب استطاعت ہیں ؟میرے والد(جن کا انتقال ہوگیا ہے) کی پینشن امی سے بہن کو منتقل ہوئی ہے جو کہ 64000 ہے، اس سے ان کا گزر بسر ہوتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگران کا گزربسر اسی رقم پرہوتا ہواوراس کے علاوہ ان کے پاس بقدرنصاب مال زکوۃ یا قربانی کا نصاب نہ ہو تو وہ شرعا زکوۃ کی مستحق ہے۔
حوالہ جات
رد المحتار - (ج 7 / ص 205):
( هو فقير ، وهو من له أدنى شيء ) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة .
( قوله : أي دون نصاب ) أي نام فاضل عن الدين ، فلو مديونا فهو مصرف كما يأتي ( قوله : مستغرق في الحاجة ) كدار السكنى وعبيد الخدمة وثياب البذلة وآلات الحرفة وكتب العلم للمحتاج إليها تدريسا أو حفظا أو تصحيحا كما مر أول الزكاة .
والحاصل أن النصاب قسمان : موجب للزكاة وهو النامي الخالي عن الدين .وغير موجب لها وهو غيره ، فإن كان مستغرقا بالحاجة لمالكه أباح أخذهما وإلا حرمه وأوجب غيرهما من صدقة الفطر والأضحية ونفقة القريب المحرم كما في البحر وغيره .
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲محرم۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


