03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قسطوں میں خرید و فروخت کا حکم(پنجاب اسکیم کے تحت ملنے والی بائیک خریدنا)
84953خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

کیا پنجاب اسکیم کے تحت ملنے والے بائیک لے سکتے ہیں؟اس کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پنجاب حکومت نے طلبہ کی سہولت کے لیے ایک اسکیم جاری کی ہے،جس کے تحت طلبہ کوآسان قسطوں پر بائیک دی جاتی ہے۔قسطوں پر خرید وفروخت  کرنا شرعا  جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے ،لہذا  اس ادھار فروخت میں درج ذیل شرائط کا لحاظ رکھا جائے:

  1. مجموعی رقم اور قسط متعین ہو۔
  2. ادائیگی کی مدت متعین ہو۔
  3. یہ طے نہ ہوکہ کسی قسط کی  جلدی ادائیگی سے قیمت میں کمی اور   تاخیر سے قیمت میں اضافہ ہوگا۔

       پس اگر مذکورہ شرائط  موجود ہوں تو معاملہ جائزہےاور اگر ان میں سے کسی ایک شرط پر بھی عمل نہ کیا گیاتو معاملہ نا جائز ہوگا۔

حوالہ جات

قال العلامۃ السرخسي رحمہ اللہ تعالی:وإذا عقد  العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا ،أو قال:إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا، فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ...وهذا إذا افترقا على هذا، فإن كان يتراضيان بينهما ،ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه ،فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد.(المبسوط للسرخسي: 13/ 8)

وقال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ تعالی :وكذا إذا قال: ‌بعتك ‌هذا ‌العبد بألف درهم إلى سنة ،أو بألف وخمسمائة إلى سنتين؛ لأن الثمن مجهول... وجهالة الثمن تمنع صحة البيع ،فإذا علم ورضي به جاز البيع؛ لأن المانع من الجواز هو الجهالة عند العقد ،وقد زالت في المجلس، وله حكم حالة العقد، فصار كأنه كان معلوما عند العقد. وإن لم يعلم به حتى إذا افترقا تقرر الفساد.(بدائع الصنائع:5/ 158)

 وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی: (وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع.( رد المحتار: 4/ 531)

وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی: الثمن ما تراضى عليه، سواء زاد على القيمة أو نقص.

(رد المحتار:4/ 575)

وقال أصحاب مجلۃ الأحکام العدلیۃ: المادة 245: البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح.

 المادة 246 :يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط.

المادة 247: إذا عقد البيع على تأجيل الثمن إلى كذا يوما أو شهرا أو سنة، أو إلى وقت معلوم عند العاقدين كيوم قاسم أو النيروز :صح البيع.(مجلة الأحكام العدلية،ص:50)

 جنید صلاح الدین            

دارالافتاء،جامعۃ الرشید،کراچی

05/ربیع الثانی 1446ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جنید صلاح الدین ولد صلاح الدین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب