| 84817 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :
میرا نام .......... ہے اور میں آسٹریلیا میں رہتا ہوں،درج ذیل معاملہ طلاق کا ہے جس میں میں اور میری بیوی اپنا اپنا نقطۂ نظر، یعنی جو انہیں یاد ہے اور جو مجھے یاد ہے، بیان کریں گے اور اس میں آپ کی مدد چاہتے ہیں۔تھوڑا سا ہمارا تعارف یہ ہے کہ ہماری شادی کو 9 سال ہو چکے ہیں، شادی کے فوراً بعد سے ہم آسٹریلیا میں رہ رہے ہیں اور ہماری ایک 2 سال کی بیٹی بھی ہے۔
بیوی کا موقف:
جیسا کہ میرے شوہر نے بتایا کہ ہماری 9 سال کی شادی ہے، اور میرے شوہر کو بہت غصہ آتا ہے،غصہ آنے کی صورت میں انہوں نے کچھ چیزیں ایسی کی ہیں جیسے چیزیں پھینکنا، اپنا سر دیوار میں مارنا، گھر چھوڑ کر باہر چلے جانا، چلانا، بدزبانی کرنا اور چند دفعہ ہاتھ اٹھانا یا دھکا مار دینا۔ ایسی کئی لڑائیوں میں میرے شوہر نے یہ اسٹیٹمنٹ بولے ہیں "میں دوں گا تمہیں ابھی"، "ابھی کے ابھی تین لفظ بول کے ختم کروں گا؟"ہر بار میں اگر دور کھڑی ہوں تو بھاگ کرجا کر ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیتی تھی یا معافی مانگ کر غصہ ٹھنڈا کرنے کو کہتی تھی، کیونکہ میں خود اس پینک سچوئیشن میں ہوتی تھی اور پریشان ہوتی تھی، اس سچوئیشن میں مجھے یاد ہی نہیں کہ کیا میرے شوہر نے طلاق کا لفظ استعمال کیا ہے؟ اگر کیا ہے تو کتنی بار کیا ہے؟ کتنی بار میں نے بولنے سے پہلے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ہے، کچھ بھی بالکل صاف صاف یاد نہیں۔مجھے اتنا یاد ہے کہ ایک بار انہوں نے 8 سال پہلے بولا تھا "میں حُمَیر" آگے یاد نہیں کہ پورا آگے وہ لفظ بھی بولا تھا کہ نہیں۔ پھر لگتا ہے شاید دو بار بولا تھا "میں حُمَیر" لیکن وہ لفظ مجھے یاد نہیں پڑتاکہ ایک بار بھی بولا تھا کہ نہیں، لیکن پھر یہ یاد آتا ہے کہ میں نے کچھ دن بعد جب سب صحیح ہو گیا تھا تو یہ بولا تھا کہ آپ مجھے ایک بار بول چکے ہو،کیونکہ ان کو دین کی یہ نالج نہیں تھی، ان کو لگتا تھا کہ جب تک تین بار ایک ساتھ نہیں بولے طلاق نہیں ہوتی اور اس کے علاوہ بھلے بولو بس تین بار ایک ساتھ نہیں بولنا،ان کو بھی یہ پتا ہے کہ انہوں نے کئی بار ایسا بولا ہے "میں ابھی دیتا ہوں"، "آج ہی قصہ ختم کرتا ہوں"، لیکن ان کو یاد نہیں کہ ایکزیکٹ ورڈ بولا ہے کہ نہیں اور اگر بولا ہے تو کتنی بار بولا ہے۔دو ہفتے پہلے انہوں نے مجھے طلاق کا لفظ بولا تھا اور یہ واقعہ ہم دونوں کو یاد ہے کہ انہوں نے بولا ہے۔
کسی بھی سچوئیشن میں، کبھی کوئی گواہ نہیں تھے،اگر میں ایسے ہی بس سوچوں بغیر غور کیے مجھے لگتا ہے شاید کتنی بار انہوں نے بول دیا ہوگا۔ کیونکہ اتنی بار لڑائی ہوئی ہے اور اس میں انہوں نے دھمکایا ہے اور میں نے ان کو روکا ہے ،کیونکہ میں ٹینشن میں اور پینک سچوئیشن میں ان کو روکتی تھی،مجھے خود یاد نہیں، لیکن اگر فوکس کر کے سوچوں تو ذہن میں کوئی ایکزیکٹ واقعہ نہیں آتا کہ جس میں مجھے کلیئرلی یاد ہو کہ انہوں نے پراپر وہ لفظ بولا ہے، بس اتنی ہی اپنی بات یاد ہے کہ میں نے 8 سال پہلے ان کو بولا تھا آپ ایک بار بول چکے ہو، یہ بات مجھے اپنی یاد ہے پر وہ ایک بار انہوں نے ایکزیکٹلی کب بولا تھا ؟ یاد نہیں،سوری میں اگر اپنی بات سمجھا نہیں پا رہی ہوں، میں خود اتنی کنفیوز ہوں اور مشکل میں ہوں، بس ڈر اس بات کا ہے کہ آج یاد نہیں، کل یاد آ گیا تو ہم کسی گناہ میں شامل نہ ہوں اور ایک دوسرے کے لیے حلال ہوں۔
شوہر کا موقف:
آج سے دو ہفتے پہلے میں نے اپنی بیوی کو "میں آپ کو طلاق دیتا ہوں" ایک دفعہ بولاتھا اور دوسری بار بولنے سے پہلے میری بیوی نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ کے مجھے خاموش کروا دیاتھا، یہ الفاظ بہت ہی غصے میں بولے گئے تھے اور مجھے غصے کی بیماری بھی ہے جس کی میں دو سال سے دوائیں بھی لے رہا ہوں،اس قصے سے پہلے اور اس قصے کے بعد ہم میں کوئی انٹرکورس نہیں ہوا ہے۔یہ جو دو ہفتے پہلے قصہ ہوا ہے اس پر میں اور میری بیوی 100فیصد متفق ہیں اور ہر چیز اچھے سے یاد ہے، اس کے پہلے کے جو قصے ہیں وہ نہ مجھے 100فیصد یاد ہیں اور نہ ہی میری بیوی کو اور ہم پورے یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ دھندلی سی یاد ہے اور ان کو سوچ کے یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا ہماری شادی برقرار ہے اورہم ایک دوسرے کےلیے حلال ہیں؟اس دو ہفتے پہلے قصے کے ہونے کے بعد میری وائف نے مجھے بولا کہ آپ مجھے پہلے بھی ایک بار دے چکے ہیں، مجھے یہ بالکل یاد نہیں کہ جس قصے کا میری وائف بول رہی ہے اس میں میں نے کیا الفاظ استعمال کیے تھے، یہ قصہ کب پیش آیا اور کن حالات میں پیش آیا، لیکن بہت سوچنے پر ایسا یاد آتا ہے کہ میں نے اپنی وائف سے یہ پہلے بھی سن چکا ہوں کہ "آپ ایک دے چکے ہو"۔مجھے یہ بھی یاد ہے کہ میرے منہ سے "میں حُمَیر" نکلا ہے لیکن یہ بالکل بھی یاد نہیں کہ اس کے آگے میں نے کچھ اور بولا ہے یا میری وائف نے مجھے یہیں پہ چپ کرا دیا تھا،آپ ہماری رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مسئولہ صورت میں شوہر اور بیوی دو ہفتے پہلے ایک دفعہ طلاق کے لفظ بولنے پر متفق ہیں اور باقی تمام الفاظ کے بارے میں انہیں یقین نہیں، شک ہے، لہذا دو ہفتے پہلےوالے لفظ سے ایک طلاق رجعی واقع ہوئی اور دیگر الفاظ میں چونکہ شک ہے، میاں کو اچھی طرح یاد نہیں کہ طلاق کے الفاظ بولے تھے یا نہیں اور اگر بولے تو کیا بولےتھے، اور شک سےچونکہ شرعاً کوئی چیز ثابت نہیں ہوتی، اس لیے مذکورہ ایک طلاق کے علاوہ کوئی اورطلاق نہیں ہوئی۔ لہذا میاں بیوی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، عدت میں رجوع کر کے وہ میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں، البتہ آئندہ شوہر اپنے اوپر کنٹرول رکھے اور اس قسم کے الفاظ بولنے سے مکمل گریز کرے۔
حوالہ جات
وفی الدرالمختارعلی ھامش ردالمحتار:
علم انہ حلف ولم یدر بطلاق او غیرہ لغا کما لوشک اطلق ام لا. (۲؍۴۹۲، باب طلاق غیر مدخول بھا)
قال العلامۃ ابن عابدینؒ:
سئل فی الرجل اذا شک انہ طلق امرأتہ ام لا فھل لایقع علیہ الطلاق الجواب نعم لایقع الطلاق۔ (تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃ:ج؍۱،ص؍۳۷، کتاب الطلاق)
بدائع الصنائع ، دارالكتب العلمية - (3 / 126)
عدم الشك من الزوج في الطلاق وهو شرط الحكم بوقوع الطلاق حتى لو شك فيه، لا يحكم بوقوعه حتى لا يجب عليه أن يعتزل امرأته؛ لأن النكاح كان ثابتا بيقين ووقع الشك في زواله بالطلاق فلا يحكم بزواله بالشك ...والأصل في نفي اتباع الشك قوله تعالى {ولا تقف ما ليس لك به علم} [الإسراء: 36] ، وقوله - عليه الصلاة والسلام - لما سئل عن الرجل يخيل إليه أنه يجد الشيء في الصلاة - «لا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا» اعتبر اليقين وألغى الشك ثم شك الزوج لا يخلو: إما أن وقع في أصل التطليق أطلقها أم لا؟ وإما أن وقع في عدد الطلاق وقدره؛ أنه طلقها واحدة أو اثنتين أو ثلاثا، أو صفة الطلاق أنه طلقها رجعية أو بائنة فإن وقع في أصل الطلاق لا يحكم بوقوعه لما قلنا، وإن وقع في القدر يحكم بالأقل؛ لأنه متيقن به وفي الزيادة شك، وإن وقع في وصفه يحكم بالرجعية؛ لأنها أضعف الطلاقين فكانت متيقنا بها.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
05/03/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


