03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دولہے اور دلہن کے علاوہ  دو افراد کی موجودگی میں  نکاح  کا حکم
84847نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

میرا ایک دوست چائنہ میں رہتا ہے، اس نےایک  چائنی  لڑکی کو مسلمان کیا اور اس سے شادی کی ، نکاح کے وقت  ایک گواہ اُدھر چائنہ سے  موجود تھااوردوسرا گواہ اِدھر پاکستان سے آن لائن تھا ،کیا یہ نکاح درست ہوا  ہے؟ابھی اس  دوست کا تقریبا چھ مہینے کا ایک بچہ بھی ہے، اگر یہ نکاح درست  نہیں ہواتو اس کا شرعی حل کیا ہے؟

وضاحت:استفسار پر سائل نے وضاحت کی کہ نکاح چائنہ کے ایک مسلمان عالم نے پڑھایا،جوگواہ چائنہ سے تھاوہ بھی مسلمان تھا،نیز دولہاکے علاوہ خود دلہن بھی مجلسِ نکاح میں موجود تھی۔ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں چونکہ نکاح کے ایجاب وقبول کی مجلس ایک تھی ،جس میں دولہےاور دلہن کےعلاوہ دواور افرادبھی موجود تھے،اورچونکہ معاملات میں الفاظ اور ظاہری صورت کےبجائے معانی ومطالب کا اعتبار ہوتا ہے، اس لیے یہ نکاح خود دولہے اور دلہن کے ایجاب و قبول، اور باقی دو افراد میں نکاح پڑھانے والے کوبھی اس پر  گواہ   شمار کرنے سے درست تسلیم کیاجائےگا،جبکہ آن لائن گواہی کا اعتبار نہیں ہے،لہٰذا یہ نکاح اس مجلس میں موجود عالم اور دوسرے چائنہ سے تعلق رکھنے والے گواہ کی گواہی سے درست ہوا۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص:  16،  المادة  3):

 العبرة في العقود للمقاصد والمعاني لا للألفاظ والمباني، ولذا يجري حكم الرهن في البيع بالوفاء.

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 185،186):

ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين... ومن أمر رجلا بأن يزوج ابنته الصغيرة فزوجها، والأب حاضر بشهادة رجل واحد سواهما جاز النكاح ؛ لأن الأب يجعل مباشرا للعقد لاتحاد المجلس، فيكون الوكيل سفيرا أو معبرا فيبقى المزوج شاهدا ، وإن كان الأب غائبا لم يجز ؛ لأن المجلس مختلف فلا يمكن أن يجعل الأب مباشرا.                                                                                              

  محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

  6/ربیع الاول/1446ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب