| 84850 | نان نفقہ کے مسائل | والدین،اوراولاد کے نفقہ اور سکنی کے احکام |
سوال
میرا شادی شدہ بیٹا میرے ساتھ رہائش پذیر ہے،2018 سے برسر روزگار ہے،لیکن اپنے اخراجات کے لئے بھی مجھے پیسے نہیں دیتا،بلکہ اپنی شادی کے لئے رقم جمع کرتا رہا،آٹھ ماہ پہلے فروری 2024 کو اس کی شادی ہوگئی،شادی کے بعد دو مہینے دس ہزار روپے دیئے،لیکن اس کے بعد دینا بند کردیئے۔
شادی سے پہلے اس کا کہنا تھا کہ اولاد کا خرچہ والد کے ذمے ہوتا ہے،اسی وجہ سے سات سال تک کوئی روپیہ نہیں دیا،اب شادی کے بعد بھی وہی صورت حال ہے،اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تندرست بچے کا نان نفقہ بلوغت تک باپ کے ذمے لازم ہے،بلوغت کے بعدجب وہ خود کمانے کے قابل ہوجائے تو اپنے نان نفقے کا انتظام خود اسی کے ذمے لازم ہے،اس کے بعد بھی اگر باپ برداشت کرتا ہے تو اس کی طرف سے تبرع اور احسان ہوگا،لہذا مذکورہ صورت میں بیٹے کے نان نفقہ کا انتظام آپ کے ذمے لازم نہیں،بلکہ خود اس کے ذمے لازم ہے۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (3/ 612):
"(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر، فإن نفقة المملوك على مالكه والغني في ماله الحاضر".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اﷲ:"(قوله بأنواعها) من الطعام والكسوة والسكنى، ولم أر من ذكر هنا أجرة الطبيب وثمن الأدوية، وإنما ذكروا عدم الوجوب للزوجة، نعم صرحوا بأن الأب إذا كان مريضا أو به زمانة يحتاج إلى الخدمة فعلى ابنه خادمه وكذلك الابن (قوله لطفله) هو الولد حين يسقط من بطن أمه إلى أن يحتلم، ويقال جارية، طفل، وطفلة، كذا في المغرب. وقيل أول ما يولد صبي ثم طفل ح عن النهر .....
(قوله: الفقير) أي إن لم يبلغ حد الكسب، فإن بلغه كان للأب أن يؤجره أو يدفعه في حرفة ليكتسب وينفق عليه من كسبه لو كان ذكرا ".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
06/ربیع الاول1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


