| 84557 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دو بھائی گوہر اور شیرین ہیں۔
شیرین کی ایک بیٹی ہے جس کا نام سرورجانہ ہے۔
گوہر کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔بیٹوں کے نام: فردوس،عطاء خان اور برکئی خان ہے،جبکہ بیٹیوں کے نام:سکندرو، پشمینہ، مہر نساء۔
شیرین کی بیٹی(سرورجانہ) کی شادی گوہر خان کے بیٹے( برکئی خان) سے ہوئی اور اس سے دو بیٹے(۱۔یار محمد اور۲۔ دوست محمد) پیدا ہوئے۔
شیرین اب فوت ہوگیا ہے،اس کی وفات کے وقت ورثا میں :
اس کا بھائی گوہر خان اور بیٹی موجود تھی۔تو اب شیرین کا ترکہ کس طرح ورثا میں تقسیم ہوگا؟
واضح رہے کہ اب شیرین کی بیٹی بھی فوت ہوگئی ہے اور اس کی وفات کے وقت اس کا شوہر زندہ تھا جو کہ اب فوت ہوچکا ہے جبکہ اس کے دو بیٹے اب بھی زندہ ہیں۔
یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ گوہر خان بھی فوت ہوگئے ہیں،تو اب سرور جانہ کو ملنے والا ترکہ اس کے ورثا میں کیسے تقسیم ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں چونکہ شیرین کی وفات کےبعدسےاب تک (سرورجانہ اوربرکی خان کی وفات تک)کسی کی بھی میراث تقسیم نہیں کی گئی ،لہذاصورت مسئولہ میں سب سےپہلےشیرین مرحوم کی میراث تقسیم کی جائےگی۔
شیرین مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز وتکفین کامعتدل خرچہ (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو (اداکیاجائےگا،پھر مرحوم کاقرضہ اداکیاجائےگا،پھر اگرمرحوم نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائزوصیت کی ہےتوترکہ کےایک تہائی تک اس کواداکیاجائے،اس کےبعدجوکچھ بچ جائے،اس کومرحوم کےانتقال کےوقت موجودورثہ (ایک بیٹی ، اورایک بھائی)میں تقسیم کیاجائےگا۔
۱۔تقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ مرحوم شیرین کی میراث میں سےنصف یعنی آدھاحصہ بیٹی کا ہوگا،اورباقی آدھا شیرین مرحوم کےبھائی (گوہر)کوملےگا۔
فیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتوکل میراث میں سے50%فیصدبیٹی(سرورجانہ ) کوملےگا،اور50%فیصدبھائی (گوہر)کوملےگا۔
۲۔شرین مرحوم کےبعدچونکہ اس کےبھائی (گوہر)کاانتقال ہواتھاتوان کی میراث اس وقت موجود ورثہ میں تقسیم کی جائےگی۔تینوں بیٹوں میں سےہرایک کو بیٹیوں کےمقابلےمیں دوگنا حصہ ملےگا۔
یعنی کل میراث کو 9حصوں میں تقسیم کیاجائےگا،ہربیٹےکو دو دوحصےاورہربیٹی کو ایک ایک حصہ ملےگا۔
فیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتوموجودبیٹوں میں سےہرایک بیٹےکومرحوم شیرین کی طرف سےملنےوالے50فیصدمیں سے 11.111%فیصدحصہ دیاجائےگااورہربیٹی کو 5.555%فیصدحصہ دیاجائےگا۔
۳۔شیرین مرحوم کی میراث کی تقسیم کےبعدشیرین کی بیٹی (سرورجانہ مرحومہ ) کی میراث تقسیم کی جائےگی،جس میں مرحومہ کی اپنی جائیداداوروالدسےملنےوالاحصہ تقسیم کیاجائےگا۔مرحومہ کےشوہرکوکل میراث کا چوتھائی(ربع)ملےگا،اورباقی میراث دونوں بیٹوں میں آدھی آدھی تقسیم کی جائےگی۔
فیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتومرحوم شیرین کی کل میراث میں سے12.5%فیصدشوہر(برکئی خان )کودیاجائےگا۔باقی 37.5%فیصدمیں سے (دونوں بیٹوں میں سے)ہرایک بیٹےکو18.75%ملےگا۔
۴۔سرورجانہ مرحومہ کی میراث کی تقسیم کےبعدان کےشوہر(برکئی خان)مرحوم کی میراث تقسیم کی جائےگی،جس میں ان کواپنےوالد(گوہر)سےملنےوالا11.111%اوربیوی(سرورجانہ)کی میراث سےملنےوالاحصہ12.5% اوران کی اپنی جائیدادان کےدوبیٹوں میں برابرتقسیم کی جائےگی۔
فیصدی اعتبارسےدونوں بیٹوں میں ہرایک بیٹےکومورث اعلی شیرین کی میراث میں سے 11.805%فیصدحصہ ملےگا۔
۱۔۔۔مرحوم شیرین کی میراث :
|
فیصدی حصہ |
عددی حصہ |
ورثہ |
نمبرشمار |
|
50% |
72/144 |
بیٹی سرورجانہ (نصف) |
|
|
50% |
72/144 |
بھائی گوہرخان (عصبہ) |
|
|
100% |
144 |
مجموعہ |
|
۲۔اس کےبعد گوہرکاانتقال ہواتھاتواس کی میراث )عددی حصے72اورفیصدی حصہ 50%)درج ذیل طریقے سےتقسیم ہوگی :
|
فیصدی حصہ |
عددی حصہ |
ورثہ |
نمبرشمار |
|
11.111% |
16/144 |
بیٹا فردوس(عصبہ) |
|
|
11.111% |
16/144 |
بیٹاعطاءخان (عصبہ) |
|
|
11.111% |
16/144 |
بیٹابرکئی خان (عصبہ) |
|
|
5.555% |
8/144 |
بیٹی سکندرہ(عصبہ) |
|
|
5.555% |
8/144 |
بیٹی پشمینہ (عصبہ) |
|
|
5.555% |
8/144 |
بیٹی میرنساء(عصبہ) |
|
|
50% |
72/144 |
مجموعہ |
|
۳۔اس کےبعدشیرین کی بیٹی (سرورجانہ مرحومہ ) کی میراث :50فیصد یعنی عددی حصہ 72جوشیرین مرحوم سےملاتھا وہ درج ذیل طریقےسےتقسیم ہوگا۔
|
فیصدی حصہ |
عددی حصہ |
ورثہ |
نمبرشمار |
|
12.5% |
18/144 |
شوہربرکئ خان(ربع) |
|
|
18.75% |
27/144 |
بیٹایارمحمد(عصبہ) |
|
|
18.75% |
27/144 |
بیٹا دوست محمد(عصبہ) |
|
|
50% |
72/144 |
مجموعہ |
|
۴۔اس کےبعدمرحوم برکئی خان کی میراث)جوان کواپنےوالداوربیوی سےملی ہے) درج ذیل طریقے سےان کی وفات کےوقت موجود ورثہ(دوبیٹوں )میں تقسیم کی جائےگی:عددی اعتبار سے34حصے،اورفیصدی اعتبارسے23.611%
|
فیصدی حصہ23.611% |
عددی حصہ16+18=34 |
ورثہ |
نمبرشمار |
|
11.805% |
17/144 |
بیٹایارمحمد(عصبہ) |
|
|
11.805% |
17/144 |
بیٹا دوست محمد(عصبہ) |
|
|
23.611 |
34/144 |
مجموعہ |
|
المبلغ:144
الأحیاء۔۔۔۔۔ مرحوم شیرین کی میراث میں زندہ ورثہ کےحصے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
مجموعہ |
دوست محمد |
یارمحمد |
میرنساء |
پشمینہ |
سکندرہ |
عطاء |
فردوس |
ورثہ |
|
144 |
27+17=44 |
27+17=44 |
8 |
8 |
8 |
16 |
16 |
عددی حصہ |
|
100% |
18.75%+11.805%=30.555% |
18.75%+11.805%=30.555% |
5.555% |
5.555% |
5.555% |
11.111% |
11.111% |
فیصدی حصہ |
حوالہ جات
"السراجی فی المیراث "5،6 : الحقوق المتعلقہ بترکۃ المیت :قال علماؤنارحمہم اللہ تعالی تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ الاول یبدأبتکفینہ وتجہیزہ من غیرتبذیرولاتقتیر،ثم تقصی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذوصایاہ من ثلث مابقی بعدالدین ،ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ ۔
قال اللہ تعالی فی سورۃ النساء:یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکرمثل حظ الانثیین۔
"سورۃ النساء" آیت 12:وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
12/صفر 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


