| 84903 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک آدمی کے دو بھائی تھے۔ اس آدمی نے اپنی زندگی میں ان بھائیوں کو تمام حقوق دے دیے تھے اور اپنے حصے کو اجارہ پر دے دیا تھا۔ اب یہ آدمی فوت ہو چکا ہے، اور اس کی ایک بیٹی ہے، کوئی بیٹا نہیں ہے۔ اس کی بیوی بھی اس سے پہلے فوت ہو چکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس بیٹی کا اپنے باپ کی میراث میں کتنا حصہ ہوگا؟ نیز، کیا اس لڑکی کے کزن کا اس کی میراث میں یہ دعویٰ کہ "ہمارا بھی اس میں حصہ ہے" درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس بیٹی کا حصہ والد کی میراث میں نصف ہے، اور باقی میراث اس کے دو بھائیوں کا حق تھا اگر وہ مرحوم کی وفات کے وقت زندہ تھے، ورنہ ان کی زندہ اولاد کا حق ہے۔ لہٰذا کزنوں کا دعویٰ میراث درست ہے۔
واضح رہے کہ وراثت ایک اضطراری حق ہے، کوئی اپنی طرف سے اس حق کو زائل نہیں کر سکتا۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں دو بھائیوں کو زندگی میں کچھ دے کر موت کے بعد ملنے والی میراث سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا ان کایاان کی اولاد کا مرحوم کی آدھی میراث میں حصہ ہے۔
تمام ورثاء کا حصہ معلوم کرنے کے لیے مرحوم کے ورثاء کی فہرست، بمع ان کے ناموں کے، فراہم کرنا ضروری ہوگی ۔
حوالہ جات
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ } [النساء: 11]
صحيح البخاري لعبدالله البخاري - (ج 2 / ص 135)
عن عائشة رضي الله عنها أنها أرادت أن تشتري بريرة للعتق وأراد مواليها أن يشترطوا ولاءها فذكرت عائشة للنبي صلى الله عليه وسلم فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم اشتريها فإنما الولاء لمن أعتق.
المحيط البرهاني لمحمود النجاري - (ج 6 / ص 668)
والإرث إنما يجري فيما يبقى بعد الموت.
تكملة حاشية رد المحتار - (ج 2 / ص 116)
الارث جبري لا يسقط بالاسقاط.
تكملة حاشية رد المحتار - (ج 2 / ص 336)
كإرث لا يسقط بالاسقاط ا ه.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
6/4/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


