03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح کےوقت لڑکی سے کنوراہ پن کے بارےمیں سوال کرنے کاحکم
84916نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

غیر اسلامی ممالک میں جو مسلمان رہتے ہیں، ان مسلمانوں کی دینی حالت بہت خراب ہوتی ہے۔ فحاشی اور عریانی اکثر پائی جاتی ہے۔ تو لڑکی سے شادی کرنے سے پہلے اس کے کنوارے پن کے بارے میں اشاروں کنایوں یا پھر سیدھے طریقے سے سوال کرنا کیسا ہے؟ کیونکہ باہر بالکل مخلوط ماحول ہوتا ہے اور اسی وجہ سے زنا عام ہے، تو اس کے ساتھ پھر زنا سے پھیلنے والی بیماریوں کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو معلوم ہوتا ہے کہ حتیٰ کہ مسلمان لڑکی کا شادی کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ شادی سے قبل زنا میں مبتلا تھی اور اکثر اوقات اسقاط حمل بھی لڑکیاں کروا چکی ہوتی ہیں، جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ دوبارہ حمل ٹھہرنے میں بہت مشکلات پیش آتی ہیں۔ اور اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ شادی کے بعد لڑکی کی نازیبا حرکتوں والی ویڈیوز یا تصاویر بھی سامنے آ جاتی ہیں۔ تو اس پورے تناظر میں لڑکی سے اس کے کنوارے پن کے بارے میں سوال کرنا کیسا ہے؟ اور کیا لڑکی مکمل طور پر جھوٹ بول سکتی ہے؟ کیا اس کا اپنی گزشتہ ماضی کو چھپانا درست ہے؟ اور چونکہ نکاح ایک عقد ہوتا ہے، تو عقد میں ایک فریق کے جھوٹ بولنے سے دوسرے فریق کا نقصان ہوتا ہے، تو یہ جھوٹ بولنا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعی طور پر کسی شخص کی عزتِ نفس کا احترام ضروری ہے، نیز مسلمان کے بارے میں اچھا گمان اور ستر کا حکم ہے۔ اس بناء پر نکاح کے وقت شرعاً دیگر مطلوبہ اوصاف، جس کا فقہاء نے کفؤ (ہم پلہ ہونے) کے باب میں تذکرہ کیا ہے، کی تحقیق تو اپنے طورپرکرنی چاہیے، لیکن لڑکی سے اس کے کنوارے پن کے بارے میں سوال کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اگر اعتماد نہ تو شادی نہ کی جائے، مگر اس طرح کا سوال نہ کیاجائے، اس سے لڑکی اور اس کے خاندان کی عزت نفس مجروح ہونے کا خطرہ ہے، جیسے کہ مرد سے اس کے سابقہ کسی غیر شرعی فعل کے بارے میں نکاح کے وقت سوال نہیں کیا جاتا۔

اگر غیر مسلم ممالک کے مخصوص ماحول کی وجہ سے یہ تحقیق ضروری ہو تاکہ بعد میں طلاق کی نوبت نہ آئے تو لڑکی کی سہیلیوں، پڑوسیوں اور اس طرح کے دیگر تعلق داروں سے خفیہ طریقے سے اُس لڑکی کے تعلقات وغیرہ کے حوالے سے تحقیق کی جاسکتی ہے، تاکہ اس بارے میں اطمینان ہو سکے۔

تاہم اگر اس طرح کا سوال لڑکے والوں نےپوچھ ہی لیا ہو تو پھر لڑکی کے لیے غلط بیانی اور جھوٹ بولنا جائز نہیں ہوگا۔ اگر وہ نہیں بتانا چاہتی تو شادی سے انکار کر دے، شرعاً وہ شادی پر مجبور نہیں ہے۔

واضح رہے کہ پردہ بکارت زائل ہونے کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں، مثلاً شادی میں تاخیر، کوئی بیماری، کھیل کود، کسی جگہ سے چھلانگ لگانا یا کسی وجہ سے جھٹکا لگنا وغیرہ۔ اور مرد و زن والے تعلق کے علاوہ ان دیگر اسباب کی وجہ سے پردہ بکارت زائل ہونے کے باوجود عورت شرعاً باکرہ (کنواری) ہی شمار ہوگی؛ لہذا کسی خاتون کے پردہ بکارت زائل ہونے کو بدکاری کے ساتھ مخصوص کرنا قطعاً درست نہیں۔

حوالہ جات

قال رسول الله ﷺ:"كل المسلم على المسلم حرام، دمه وماله وعرضه." (صحيح مسلم: 2564)

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا...")سورہ الحجرات، 49:12(

" قال رسول الله ﷺ:"إياكم والظن، فإن الظن أكذب الحديث.")صحیح البخاری: 6064، صحیح مسلم: 2563(

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن سترَ مسلمًا سترَه اللهُ يومَ القيامةِ." )صحيح البخاري: 2442، صحيح مسلم: 2580(

"تنكح المرأة لأربع: لمالها، ولحسبها، ولجمالها، ولدينها، فاظفر بذات الدين تربت يداك.")صحیح البخاری: 5090، صحیح مسلم: 1466(

قال رسول الله ﷺ:

"إياكم والكذب، فإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، ولا يزال الرجل يكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابًا.")صحيح مسلم: 2607(

النهر الفائق شرح كنز الدقائق (2/ 473(

"إذ ليس من ضرورة ثبوت الثيابة الوصول إليها لجواز زوالها بغيره."

العناية شرح الهداية (3/ 270(:

")وإذا زالت بكارتها بوثبة أو حيضة أو جراحة أو تعنيس فهي في حكم الأبكار)؛ لأنها بكر حقيقة لأن مصيبها أول مصيب لها، ومنه الباكورة والبكرة ولأنها تستحيي لعدم الممارسة."

 سیدحکیم شاہ عفی عنہ

 دارالافتاء جامعۃ الرشید

  5/4/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب