03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بندوق سے شکار کرنے کا حکم
84925ذبح اور ذبیحہ کے احکام شکار سے متعلق مسائل

سوال

محترم مفتی صاحب ہمارے علاقے میں  12 بور والی بندوق سے پرندوں کا شکار کیا جاتا ہے،جس کی گولی نوک دار تو نہیں ہوتی ،البتہ وہ اتنی تیزی سے پرندے کو لگتی ہے  کہ  پرندے کا خون نکل جاتا ہے اور گولی پرندے کو چیر کر نکل جاتی ہے۔،اسی طرح لوگ شکار کرکے ان پرندوں کو کھاتے ہیں اور صدیوں سے یہ سلسلہ آرہا ہے۔ اس کے متعلق میرے کچھ سوالات ہیں :

(1) کیا اسطرح کے شکار کا گوشت حلال ہے ؟ اگر حلال نہیں تو اب تک جتنے  لوگوں نے کھایا ہے ان کا کیا بنے گا بعض حضرات جیسے  مولانا مودودی صاحب ؒ اسطرح  شکار کے گوشت کو جائز سمجھتے ہیں اور عرف سے احکام بھی بدل جاتے ہیں۔ اسی طرح اس طرح کے شکار کے گوشت کو حرام قرار دینے سے بڑا حرج بھی لازم آتا ہے ۔ اس کا کیا حکم ہوگا؟

(2) بندوق چلانے کے بعد وہ پرندہ تو مر جاتا ہے لیکن اسکا جسم گرم ہوتا ہے اور  بعض اوقات اس کو ذبح کرنے سے خون بہہ تو نہیں جاتا مگر  اس کے  گردن پر  انگلی رکھنے سے  خون لگ جاتا ہے ایسی صورت میں کیا حکم ہوگا۔ نیزیہ بھی بتائیں کہ پرندے کی جان مکمل نکل جانے کی کیا صورت ہوگی کیسے پتہ چلےگا کہ اسکی جان موجود تھی یا نہیں۔

 (3) حکومت کی طرف سے اسی طرح شکار کرنے کے لیے لائسنس بنانا ضروری ہوتا ہے اس کے بغیر شکار کرنے پر چالان کیا جاتا ہے۔ بعض لوگ غریب ہوتے ہیں، وہ لائسنس کے  پیسے  ادا نہیں کر سکتے، اس لیے وہ کہتے ہیں کہ یہ حکومت کی طرف سے ظالمانہ قانون ہے، لہذا  اس کی خلاف ورزی کرنے  سے ہم گناہگار نہیں ہو نگے، اسکا کیا حکم ہوگا؟کیا یہ چلان ہی کافی ہوگا اگر چہ وہ قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بندوق کی گولی سے کیا ہوا شکار  اگر ذبح سے پہلے مرجائے تو اس کا کھانا جائز نہیں ہوگا، اور اگر گولی سے شکار کرنے کے بعد شکار  کو زندہ زخمی حالت میں پالیا اور پھر اس کو  اللہ کا نام لے کر  ذبح کردیا جائے تو اس کو  کھانا جائز ہوگا.
یہ حکم عام گولیوں کا ہے، البتہ اگر بندوق کی گولی محدد، نوک دار اور دھاری دار ہو یا نوک دار چھرہ والا کارتوس ہو تو ایسی نوک دار گولی کا شکار حلال ہوگا، لہذا اس پر اگر  اللہ کانام لے کر جانور پر فائر کیا جائے اور گولی لگنے کے بعد  اس شکار پر قابو پانے سے پہلے ہی وہ مرجائے تو اس شکار کا کھانا درست ہوگا۔

اب آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب ذکر کئے جارہے ہیں۔

1۔ شکار کو تیز دھاری دار آلہ سے ذبح کرنا حدیث سے ثابت ہےاور عام گولی چونکہ دھاری دار نہیں ہوتی اس لئے اس کا شکار حلال نہیں ۔چونکہ یہ حکم منصوص ہے اس لئے یہ حکم عرف کی وجہ سے تبدیل نہیں ہوگا،مزید یہ کہ اس طرح شکار کرنے کے بعد شکار کو ذبح کرنا  کوئی مشکل کام نہیں ہے،بلکہ آسانی کے ساتھ جاکر ذبح کیاجاسکتاہے ،کبھی کبھار ایساہوتاہے کہ شکار کو ذبح نہیں کیا جاسکتا،اس لئے اس سے حرج شدید بھی لازم نہیں آتا۔

2۔گولی لگنے کے بعد اگر شکارکا کوئی عضو ہل رہاہو یا کوئی آواز نکال رہاہویا اس کے علاوہ کوئی ایسی علامت پائی گئی جس سے معلوم ہوجائے کہ زندہ ہے تو اس کو ذبح کرنےسے وہ حلال ہوگا، اسی طرح ایک ماہر شکاری سے معلوم کیا تو انہوں نے بتایا کہ ذبح کرنے کے بعد اگر شکار اپنی ہیئت تبدیل کرے یعنی اپنے پروں ،بازوؤں  یا پاؤں  کو سمیٹے یا پھیلائے ،تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شکار زندہ تھا ،لیکن اگر وہ مرجائے تو اس  کے بعد  ذبح کرنے سے وہ حلال نہیں ہوگا اگرچہ اس کا جسم گرم ہو۔

3۔حکومت کا  عوام پرکسی بھی شعبے میں  ظالمانہ ٹیکس لگاناجائز نہیں ہے،تاہم اگر حکومت  بوقت  ضرورت  بقدر ضرورت انصاف کے ساتھ عوام کی طاقت کے مطابق ٹیکس لگائے تو عوام پر  اس کی ادائیگی لازم ہوجاتی ہے۔لہذا حکومت کی طرف سے اگر شکار کے لئے لائسنس بنوانا ضروری ہے تو آپ پر اس کی پابندی لازمی ہے ،باقی بغیر لائسنس کے شکار کرنے سے شکا ر کے حلال  ہونے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا،البتہ حکومت کے جائز امور میں اطاعت نہ کرنے کی وجہ سے گناہ ضرور ہوگا۔ہماری معلومات کے مطابق ایک مرتبہ لائسنس بنوانے  پر تقریباً دس ہزار روپے تک خرچہ آتاہے،اس کے بعد ہرسال اس کو  ری نیو کیا جاتاہے جس پر زیادہ سے زیادہ ایک ہزار روپے خرچ آتاہے جوکہ  ایک عام آدمی کے لئے زیادہ نہیں ہے۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (7/ 91):

5498 - حدثني موسى بن إسماعيل، حدثنا أبو عوانة، عن سعيد بن مسروق، عن عباية بن رفاعة بن رافع، عن جده رافع بن خديج، قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم بذي الحليفة، فأصاب الناس جوع، فأصبنا إبلا وغنما، وكان النبي صلى الله عليه وسلم في أخريات الناس، فعجلوا فنصبوا القدور، فدفع إليهم النبي صلى الله عليه وسلم فأمر بالقدور فأكفئت، ثم قسم فعدل عشرة من الغنم ببعير، فند منها بعير، وكان في القوم خيل يسيرة، فطلبوه فأعياهم، فأهوى إليه رجل بسهم فحبسه الله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «إن لهذه البهائم أوابد كأوابد الوحش، فما ند عليكم منها فاصنعوا به هكذا» قال: وقال جدي: إنا لنرجو، أو نخاف، أن نلقى العدو غدا، وليس معنا مدى، أفنذبح بالقصب؟ فقال: " ما أنهر الدم وذكر اسم الله عليه فكل، ليس السن والظفر، وسأخبركم عنه: أما السن فعظم، وأما الظفر فمدى الحبشة ".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 471):

 (أو بندقة ثقيلة ذات حدة) لقتلها بالثقل لا بالحد، ولو كانت خفيفة بها حدة حل؛ لقتلها بالجرح، ولو لم يجرحه لا يؤكل مطلقا. وشرط في الجرح الإدماء، وقيل لا. ملتقى، وتمامه فيما علقته عليه.

قوله أو بندقة) بضم الباء والدال: طينة مدورة يرمى بها (قوله ولو كانت خفيفة) يشير إلى أن الثقيلة لا تحل وإن جرحت. قال قاضي خان: لا يحل صيد البندقة والحجر والمعراض والعصا وما أشبه ذلك وإن جرح؛ لأنه لا يخرق إلا أن يكون شيء من ذلك قد حدده وطوله كالسهم وأمكن أن يرمي به؛ فإن كان كذلك وخرقه بحده حل أكله، فأما الجرح الذي يدق في الباطن ولا يخرق في الظاهر لا يحل لأنه لا يحصل به إنهار الدم؛ ومثقل الحديد وغير الحديد سواء، إن خزق حل وإلا فلا اهـ...وفي التبيين: والأصل أن الموت إذا حصل بالجرح بيقين حل؛ وإن بالثقل أوشك فيه فلا يحل حتما أو احتياطا اهـ. ولا يخفى أن الجرح بالرصاص إنما هو بالإحراق  والثقل بواسطة اندفاعه العنيف إذا ليس له حد فلا يحل.

 الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 408) :

قال: "ولا يؤكل ما أصابته البندقة فمات بها"؛ لأنها تدق وتكسر ولا تجرح فصار كالمعراض إذا لم يخزق، وكذلك إن رماه بحجر، وكذا إن جرحه قالوا: تأويله إذا كان ثقيلا وبه حدة لاحتمال أنه قتله بثقله، وإن كان الحجر خفيفا وبه حدة يحل لتعين الموت بالجرح، ولو كان الحجر خفيفا، وجعله طويلا كالسهم وبه حدة فإنه يحل؛ لأنه يقتله بجرحه، ولو رماه بمروة حديدة ولم تبضع بضعا لا يحل؛ لأنه قتله دقا، وكذا إذا رماه بها فأبان رأسه أو قطع أوداجه؛ لأن العروق تنقطع بثقل الحجر كما تنقطع بالقطع فوق الشك أو لعله مات قبل قطع الأوداج، ولو رماه بعصا أو بعود حتى قتله لا يحل؛ لأنه يقتله ثقلا لا جرحا، اللهم إلا إذا كان له حدة يبضع بضعا فحينئذ لا بأس به؛ لأنه بمنزلة السيف .

والأصل في هذه المسائل أن الموت إذا كان مضافا إلى الجرح بيقين كان الصيد حلالا، وإذا كان مضافا إلى الثقل بيقين كان حراما، وإن وقع الشك ولا يدري مات بالجرح أو بالثقل كان حراما احتياطا.

عبدالعلی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

08/ ربیع الثانی /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبدالعلی بن عبدالمتین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب