03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کاروبارکے لیے رقم لیکر فکس نفع دینا
84924مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میں ٹوتھ پیسٹ کی خالی ٹیوب بنانے کا کاروبار کرتا ہوں اور میرا خام مال دوسرے ملکوں سے درآمد ہوتا ہے۔ خام مال کی درآمد میں دو ماہ کا وقت لگتا ہے، جبکہ اس سے ٹیوب بنانے کا عمل تین سے چار ماہ میں مکمل ہوتا ہے۔

میں نے خام مال کی درآمد کے لیے اپنے ایک رشتہ دار سے کچھ رقم دو یا تین سال کی مدت کے لیے لی، تاکہ کاروبار میں سرمایہ کاری کی جا سکے۔ اس سرمایہ کاری کے بدلے میں نے ایک مقررہ ماہانہ منافع طے کیا، جو میں اُس دن سے ادا کر رہا ہوں جس دن سے رقم لی تھی، حالانکہ خام مال فیکٹری تک پہنچنے میں دو ماہ لگتے ہیں۔

براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ آیا اس سرمایہ کاری کی رقم سے کاروبار کے لیے خام مال خریدنا اور اس کے بدلے سرمایہ کار کو مقررہ منافع دینا اسلامی شریعت کے مطابق جائز ہے؟ اور اگر یہ جائز نہیں ہے، تو اس سرمایہ کو واپس کیے بغیر کون سا طریقہ اختیار کر کے اسے اسلامی شریعت کے مطابق استعمال کیا جا سکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اسلام میں کاروبار میں سرمایہ کاری کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ نفع اور نقصان دونوں میں شریک ہونا ضروری ہے۔ اگر آپ کسی سے سرمایہ لیتے ہیں اور اس کے بدلے میں اسے ایک مقررہ منافع دیتے ہیں (خواہ کاروبار میں نفع ہو یا نقصان)، تو یہ معاملہ سود (ربا) میں آتا ہے، جو کہ شریعت میں حرام ہے۔ کیونکہ سود کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ کار کو اس کی رقم پر مقررہ اور یقینی منافع دیا جائے، جو اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔ لہٰذا مقررہ منافع کا مذکورہ معاہدہ سود کے زمرے میں آتا ہے اور اسلامی شریعت میں یہ جائز نہیں ہے۔ آپ اپنے رشتہ دار کے ساتھ اسلامی سرمایہ کاری کے اصولوں (مضاربہ، مشارکہ یا مرابحہ مؤجلہ) کے تحت شراکت داری کریں تاکہ آپ کا کاروبار شریعت کے مطابق رہے۔

مضاربہ: اس طریقے میں ایک فریق (سرمایہ کار) سرمایہ فراہم کرتا ہے اور دوسرا فریق (کاروباری شخص) کام کرتا ہے۔ نفع میں طے شدہ نسبت کے مطابق دونوں فریقین شریک ہوتے ہیں، جبکہ نقصان کی صورت میں سرمایہ کار اپنا سرمایہ کھو دیتا ہے، بشرطیکہ نقصان کاروباری شخص کی غفلت یا بددیانتی کی وجہ سے نہ ہو۔

مشارکہ: اس طریقے میں دونوں فریقین سرمایہ فراہم کرتے ہیں اور نفع و نقصان دونوں میں شریک ہوتے ہیں۔ مذکورہ بالا دونوں عقود کی ابتداء میں کسی کا نفع متعین طور پر طے نہیں ہوتا، بلکہ صرف فیصدی نفع طے ہوتا ہے اور پھر آخر میں اس کے مطابق نفع ہونے کی صورت میں اسے تقسیم کیا جاتا ہے۔

مرابحہ مؤجلہ: یہ ایک اسلامی مالیاتی معاہدہ ہے جس میں سرمایہ وصول کرنے والا فریق سرمایہ فراہم کنندہ کی طرف سے پہلے وکیل بن کر سامان خریدتا ہے اور پھر اس کے ساتھ الگ سے عقد کر کے نفع پر قسط وار اپنے لیے خریدتا ہے اور پھر اسے آگے نفع کے ساتھ فروخت کرتا ہے۔

مرابحہ مؤجلہ دراصل دو عقود پر مشتمل ہوتا ہے: اس میں پہلا عقد وکالت کا ہوتا ہے، رقم دینے والا مؤکل اور لینے والا خریدنے کے لیے اس کا وکیل ہوتا ہے۔ اور دوسرا عقد اس میں مرابحہ مؤجلہ کا ہوتا ہے کہ جس میں پہلا فریق اپنا سامان دوسرے فریق پر ادھار نفع کے ساتھ فروخت کرتا ہے اور اس دوسرے عقد کے لیے فریقین نے پہلے سے ایک فریم ورک تیار کیا ہوتا ہے جس میں قیمت، نفع کی مقدار، اجل، ادائیگی کی صورت اور ادائیگی میں تاخیر کا علاج تجویز کیا ہوتا ہے۔

اس معاہدہ میں درج ذیل امور کی رعایت ضروری ہوتی ہے:

  1. وکالت کے عقد کو بیع سے الگ رکھنے کا اہتمام کیا جائے۔
  2. جب تک فروخت کا عقد نہ ہو، سامان فریق اول کی ضمان میں رہے۔
  3. وکالت کے تحت خریدنے کے بعد فریق اول کو اطلاع کی جائے۔
  4. وکالت کے تحت خریدنے کے بعد کچھ وقت مثلاً: ممکن ہو تو ایک دن کا فصل رکھا جائے جس میں یہ سامان فریق ثانی کے پاس امانت اور فریق اول کی ضمان میں رہے۔
  5. فریق ثانی کی خریداری کے وقت باقاعدہ الگ سے ایجاب و قبول کیا جائے اور اس میں حتمی ثمن طے کیا جائے اور بہتر ہوگا کہ اسے لکھ لیا جائے تاکہ بیع کا عقد پورے طور پر وکالت کے عقد سے الگ ہو سکے۔
حوالہ جات

فتح القدير للكمال ابن الهمام (8/ 447)

قال (المضاربة عقد على الشركة بمال من أحد الجانبين) ومراده الشركة في الربح وهو يستحق بالمال من أحد الجانبين (والعمل من الجانب الآخر)..... (ومن شرطها أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة) من الربح لأن شرط ذلك يقطع الشركة بينهما.

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 5):

"الشركة جائزة" لأنه صلى الله عليه وسلم بعث والناس يتعاملون بها فقررهم عليه... وهي(العنان) أن يشترك اثنان في نوع بر أو طعام، أو يشتركان في عموم التجارات ولا يذكران الكفالة.... (ولا تجوز الشركة إذا شرط لأحدهما دراهم مسماة من الربح) لأنه شرط يوجب انقطاع الشركة فعساه لا يخرج إلا قدر المسمى لأحدهما، ونظيره في المزارعة.

المبسوط للسرخسي (22/ 26):                                

فأما الوكالة بالشراء فجائزة وما اشتري بها يكون لرب المال.

وفی قرارمجمع الفقہ الإسلامی :

أولًا: أن بيع المرابحة للآمر بالشراء إذا وقع على سلعة بعد دخولها في ملك المأمور، وحصول القبض المطلوب شرعًا، هو بيع جائز طالما كانت تقع على المأمور مسئولية التلف قبل التسليم وتبعة الرد بالعيب الخفي ونحوه من موجبات الرد بعد التسليم، وتوافرت شروط البيع وانتفت موانعه.

ثانيًا: الوعد (وهو الذي يصدر من الآمر أو المأمور على وجه الانفراد) يكون ملزمًا للواعد ديانة إلا لعذر، وهو ملزم قضاء إذا كان معلقًا على سبب ودخل الوعود في كلفة نتيجة الوعد، ويتحدد أثر الإلزام في هذه الحالة إما بتنفيذ الوعد، وإما بالتعويض عن الضرر الواقع فعلًا بسبب عدم الوفاء بالوعد بلا عذر.( مجلة مجمع الفقه الإسلامي (5/ 715، بترقيم الشاملة آليا)

وفی فقہ البیوع( 1/94):

واتفافیة التوریدعبارة عن اتفاق بین الجھة المشتریة والجھة البائعة علی أن الجھة البائعة تورد إلی الجھة المشریة سلعا أو موادا محدودة الأوصاف فی تواریخ مستقبلة معینة لقاء ثمن معلوم متفق علیہ بین الفریقین....اتفاقیة البیع لیس ببیع مضافا أو معلقا ، بل ھو وعد من الجابین لإنجاز بیع فی المستقبل ...2۔یجوزان یکون الاتفاقیة مواعدة لإنجاز البیع فی المستقبل ،3۔ إن کا مواعدة فلابد من أن  یعقد البیع فی المستقبل بإیجاب وقبول من جدید أو مایقوم مقامھما من التعاطی ولاینعقد البیع تلقائیافی التاریخ المحددفی الاتفاقیة 3۔لایجوز أن یحمل المتخلف عن الوعد تعویضا إلابمقدار الخسائرة الفعلیة.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

08/04/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب