| 84931 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
مفتی صاحب! میں ہندوستان سے ہوں،تقریباً ایک سال پہلے میں ایک بار اپنی بیوی سے ویڈیو کال پر بات کررہا تھا تو میں نے اس سے سینے پر سے دو پٹہ اتارنے کو کہا،مگر اس نے کسی وجہ منع کر دیا،جس پر میں نے ناراض ہوکر فون کاٹ دیا،پھر تھوڑی دیر بعد فون پر بات ہوئی تو میں نے اسے غصہ میں کہا کہ تو آزاد ہے،تو آج سے میری بات ماننا،یا مت ماننا،تیری مرضی ہےاور مجھے یہ نہیں معلوم کہ "آج سے "یہ لفظ کہا تھا یا نہیں،اگر کہا بھی ہوگا تو "آزاد" کے ساتھ نہیں کہا تھا،"آج سے میری بات ماننا یا مت ماننا"ایسے کہا ہوگا،یہ بات میں نے اسی دوپٹہ والی بات کو لیکر کہا کہ تونے میری بات نہیں مانی۔
اب خدا کی قسم مجھے پتا بھی نہیں تھا کہ اس سے طلاق ہوجاتی ہے اور نہ میرے وہم وگمان میں تھا اور نا میری طلاق دینے کی نیت تھی،پھر مجھے یہ بھی لگنے لگا کہ تونے فلاں فلاں وقت بھی کہا تھا،اب میں نے ایک مفتی صاحب سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے پوچھا کہ تم نے کتنی بار یہ جملہ کہا ہے؟ تو میں نے کہا مجھے نہیں یاد تو مفتی صاحب نے کہا تم اپنی بیوی سے پوچھو،میں نے بیوی سے پوچھا تو میری بیوی نے بتایا کہ تم نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا ہے نہ میں نے سنا ہے وہ کہہ رہی ہے تم نے پہلے بھی نہیں کہا۔
مفتی صاحب! میری بیوی بہت نیک ہے وہ قسم اٹھا کر کہہ رہی ہے کہ میں نے نہیں سنا، اب مجھے شک ہے کہ میں نے یہ جملہ کہا ہے یا نہیں۔
مفتی صاحب! زندگی اجیرن بن گئی ہے،گھٹ گھٹ کے زندگی گزار رہا ہوں،روتا رہتا ہوں، خیال آتا ہے کہ خود کشی کر لوں،کیا کروں؟مجھے لگتا ہے اللہ میری بیوی کو کیوں حرام کرے گا؟ جبکہ میری دور دور تک طلاق کی نیت ہی نہیں تھی اور نہ طلاق کی کوئی بات چل رہی تھی،ہم میاں بیوی میں محبت بھی بہت ہے،اب مجھے یہی لگا رہتا ہے کہ میں نے یہ جملہ کہہ دیاہے،مگر بیوی کہہ رہی ہے کہ تم نے نہیں کہا۔
اب شک کی سی کیفیت ہے،آپ سے یہ معلوم کرنا تھا کہ اگربالفرض میں نے یہ جملہ کہہ بھی دیا ہو تو کیا اس سے طلاق ہو جائے گی؟خدا کی قسم! نہ تو میرے وہم وگمان میں تھا اور نہ طلاق کی بات ہو رہی تھی،پھر یہ بھی نہیں معلوم کہ کتنی بار کہا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
لفظ آزاد کے ذریعے طلاق کے وقوع اور عدم وقوع کی تفصیل یہ ہے کہ یہ لفظ اپنی اصل وضع کے لحاظ سے طلاق کے کنایہ الفاظ میں سے ہے،جس سے عام نارمل حالت میں طلاق واقع ہونے کا مدار نیت پر ہوتا ہے،یعنی طلاق کی نیت ہونے کی صورت میں طلاق واقع ہوتی ہے،جبکہ بغیر نیت کے طلاق واقع نہیں ہوتی،البتہ ٕغصے اور مذاکرہ طلاق کی حالت میں اس سے بغیر نیت کے بھی ایک بائن طلاق واقع ہوجاتی ہے،جس کا حکم یہ ہے کہ اگر میاں بیوی دوبارہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا پڑتا ہے۔
تاہم غصے اور مذاکرہ طلاق کی حالت میں بھی اگر شوہر طلاق کی نیت نہ ہونے کا دعوی کررہا ہو اور کسی ظاہری قرینے سے اس کے دعوی کی تائید ہورہی ہو تو پھر ان دونوں حالتوں میں بھی اس کی نیت کی تصدیق کی جائے گی۔
چونکہ مذکورہ صورت میں آپ کی طلاق کی نیت نہیں تھی اور اس جملے"تو آزاد ہے"کے متصل بعد والے جملے "تو آج سے میری بات ماننا،یا مت ماننا،تیری مرضی ہے" سے آپ کی طلاق کی نیت نہ ہونے کے دعوی کی تائید بھی ہورہی ہے،اس لئے اس موقع پر اگر آپ نے یہ جملہ بولا بھی ہو تو اس کے ذریعے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
جبکہ اس موقع کے علاوہ اگر آپ کو یقینی طور پر کوئی صورتِ حال اور اس میں بولے گئے الفاظ یاد ہوں تو وہ لکھ کر دوبارہ پوچھیں،محض شک یا خیال سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
حوالہ جات
"الأشباه والنظائر لابن نجيم "(ص: 50):
"قاعدة من شك هل فعل شيئا أم لا؟ فالأصل أنه لم يفعل.
وتدخل فيها قاعدة أخرى: من تيقن الفعل وشك في القليل، والكثير حمل على القليل؛ لأنه المتيقن إلا أن تشتغل الذمة بالأصل فلا يبرأ إلا باليقين وهذا الاستثناء راجع إلى قاعدة ثالثة هي: ما ثبت بيقين لا يرتفع إلا بيقين"والمراد به غالب الظن.....
ومنها: شك هل طلق أم لا؟ لم يقع.
شك أنه طلق واحدة، أو أكثر، بنى على الأقل كما ذكره الإسبيجابي إلا أن يستيقن بالأكثر، أو يكون أكبر ظنه على خلافه".
"الدر المختار " (3/ 300):
"ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما. مجتبى.
(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو؛ لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية ؛لأنها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة".
"الدر المختار " (3/ 250):
"ولو نوى به الطلاق عن وثاق دين إن لم يقرنه بعدد؛ ولو مكرها صدق قضاء أيضا كما لو صرح بالوثاق أو القيد".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ ﷲ:" (قوله صدق قضاء أيضا) أي كما يصدق ديانة لوجود القرينة الدالة على عدم إرادة الإيقاع، وهي الإكراه ط".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
09/ربیع الثانی1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


