| 84944 | طلاق کے احکام | وہ اسباب جن کی وجہ سے نکاح فسخ کروانا جائز ہے |
سوال
میری شادی آج سے تقریبا چھ سال قبل ہوئی تھی،چار سال بعد مجھے گھر سے نکال دیا گیا،اب مجھے اپنے والد کے گھر میں بھی تقریبا دو سال ہوچکے ہیں،میرا سامان مکمل طور پر ہٹ دھرمی کے ساتھ بھجوادیا گیا ہے،میرا شوہر کہتا ہے کہ میں خود دوسری شادی کروں گا اور تجھے طلاق نہیں دوں گا،ان دو سالوں کے دوران مجھے کوئی لینے نہیں آیا،میرے دوسرے بچے نے اپنے والد کی شکل تک نہیں دیکھی،نہ ان دو سالوں کا نان نفقہ دیا ہے،اب وہ نہ مجھ سے تعلق رکھتا ہے اور نہ اس کا مجھ سے ہونے والی اولاد سے کوئی تعلق ہے،میرا مہر دس ہزار روپے طے ہوا تھا،جس میں سے صرف پانچ ہزار روپے مجھے دیئے گئے ہیں،علاقے کی چند معتبر شخصیات اور رشتہ داروں نے اس سے معاملے کو سلجھانے کا کہا تو وہ بولا کہ نہ میں اسے طلاق دوں گا اور نہ ہی اپنے گھر میں بساؤں گا،ان ہٹ دھرمیوں کی وجہ سے میری زندگی کا سکون برباد ہوگیا ہے۔
آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ اس صورت میں طلاق ہوگئی یا نہیں؟ اگر نہیں ہوئی تو کوئی ایسا طریقہ بتادیں جو کورٹ میں معاون ہو۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ شوہر نے ابھی تک آپ کو طلاق نہیں دی،اس لئے طلاق واقع نہیں ہوئی۔
مذکورہ صورت میں نکاح کو ختم کرنے کا سب سے بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ کسی مناسب طریقے سے کوشش کرکے شوہر کو طلاق دینے پر آمادہ کیا جائے،اگر وہ بغیر عوض کے طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو تو پھر کسی عوض مثلا مہر وغیرہ کے بدلے اس سے خلع لینے کی کوشش کرلی جائے،اگرچہ شوہر کے قصوروار ہونے کی صورت میں اس کے لئے طلاق کے بدلے کوئی عوض لینا جائز نہیں،پھر اگر کوشش کے باوجود شوہر نہ طلاق دینے پر آمادہ ہو اور نہ خلع پراور نہ ہی آپ کے حقوق کی رعایت رکھتے ہوئے ساتھ رکھنے کے لئے تیار ہو جیسا کہ سوال میں مذکور ہے اورآپ کے لئے شوہر سے خلاصی حاصل کئے بغیر کوئی چارہ نہ ہو ،یعنی نہ آپ اپنی عزت محفوظ رکھ کر کسبِ معاش کی کوئی صورت اختیار کرسکتی ہو اور نہ مستقل طور پر کوئی آپ کے مصارف برداشت کرنے پر آمادہ ہو یا آپ کے معصیت میں ابتلاء کا اندیشہ ہو تو پھر آپ عدالت سے رجوع کریں اور اپنا دعوی شرعی گواہوں(یعنی دو دیانت دار مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں)کے ذریعے جج کے سامنے ثابت کریں،اگر یہ خدشہ ہو کہ جج گواہی نہیں لیں گے تو گواہوں کی گواہیاں اسٹامپ پیپر پر درج کرواکر ان کے دستخط کروائے جائیں اور گواہوں کو بھی عدالت میں حاضر کیا جائے اور جج سے درخواست کی جائے کہ ان کے دعوی پر گواہوں کی گواہی بھی ملاحظہ کریں۔
جب دو گواہوں کی گواہی کے ساتھ آپ کا دعوی صحیح ثابت ہوجائے تو پھر عدالت شوہر کو سمن بھجواکر عدالت میں حاضر ہونے کا حکم نامہ جاری کرے،جب شوہر عدالت آجائے تو اسے کہے کہ یا تو بیوی کے حقوق ادا کرو یا پھر طلاق دے دو،اگر وہ ان میں سے کسی بات پر آمادہ نہ ہو یا عدالت آئے ہی نہیں تو مذکورہ صورت میں قاضی کو بغیر کسی مہلت کے فوری طور پر نکاح فسخ کرنے کا حق حاصل ہوگا،کیونکہ شوہر کے تعنت کو دو سال کا طویل عرصہ گزرچکا ہے، اس کے بعد آپ عدت گزاریں گی،عدت گزرنے کے بعدآپ کو کسی اور سے نکاح کا حق حاصل ہوگا۔
حوالہ جات
"الفتاوى الهندية" (4/ 3):
"(وأما حكمها) فاستحقاق الجواب على الخصم بنعم أو لا ،فإن أقر ثبت المدعى به وإن أنكر يقول القاضي للمدعي: ألك بينة ؟فإن قال: لا، يقول :لك يمينه ولو سكت المدعى عليه ولم يجبه بلا أو نعم فالقاضي يجعله منكرا حتى لو أقام المدعي البينة تسمع ،كذا في محيط السرخسي".
"رد المحتار"(ج 12 / ص 122):
"( قوله : وكره تحريما أخذ الشيء ) أي قليلا كان أو كثيرا .
والحق أن الأخذ إذا كان النشوز منه حرام قطعا { فلا تأخذوا منه شيئا} إلا أنه إن أخذ ملكه بسبب خبيث ، وتمامه في الفتح ، لكن نقل في البحر عن الدر المنثور للسيوطي : أخرج ابن أبي جرير عن ابن زيد في الآية قال : ثم رخص بعد ، فقال : { فإن خفتم ألا يقيما حدود ﷲ فلا جناح عليهما فيما افتدت به } ، قال :فنسخت هذه تلك ا هـ وهو يقتضي حل الأخذ مطلقا إذا رضيت ا هـ أي سواء كان النشوز منه أو منها ، أو منهما .
لكن فيه أنه ذكر في البحر أولا عن الفتح أن الآية الأولى فيما إذا كان النشوز منه فقط ، والثانية فيما إذا لم يكن منه فلا تعارض بينهما ، وأنهما لو تعارضتا فحرمة الأخذ بلا حق ثابتة بالإجماع ، وبقوله تعالى{ ولا تمسكوهن ضرارا لتعتدوا } وإمساكها لا لرغبة بل إضرارا لأخذ مالها في مقابلة خلاصها منه مخالف للدليل القطعي فافهم" .
"رد المحتار" (5/ 414):
"وقال في جامع الفصولين: قد اضطربت آراؤهم وبيانهم في مسائل الحكم للغائب، وعليه ولم يصف ولم ينقل عنهم أصل قوي ظاهر يبنى عليه الفروع بلا اضطراب ولا إشكال فالظاهر عندي أن يتأمل في الوقائع، ويحتاط ويلاحظ الحرج والضرورات فيفتي بحسبها جوازا أو فسادا، مثلا لو طلق امرأته عند العدل فغاب عن البلد، ولا يعرف مكانه أو يعرف، ولكن يعجز عن إحضاره أو عن أن تسافر إليه هي أو وكيلها لبعده أو لمانع آخر، وكذا المديون لو غاب وله نقد في البلد أو نحو ذلك، ففي مثل هذا لو برهن على الغائب، وغلب على ظن القاضي أنه حق لا تزوير، ولا حيلة فيه فينبغي أن يحكم عليه وله، وكذا للمفتي أن يفتي بجوازه دفعا للحرج والضرورات وصيانة للحقوق عن الضياع مع أنه مجتهد فيه، ذهب إليه الأئمة الثلاثة وفيه روايتان عن أصحابنا، وينبغي أن ينصب عن الغائب وكيل ،يعرف أنه يراعي جانب الغائب ولا يفرط في حقه اهـ وأقره في نور العين.
قلت: ويؤيده ما يأتي قريبا في المسخر، وكذا ما في الفتح من باب المفقود لا يجوز القضاء على الغائب إلا إذا رأى القاضي مصلحة في الحكم له وعليه فحكم فإنه ينفذ؛ لأنه مجتهد فيه اهـ.
قلت: وظاهره ولو كان القاضي حنفيا ولو في زماننا ولا ينافي ما مر؛ لأن تجويز هذاللمصلحة والضرورة".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
10/ربیع الثانی1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


