03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا بیٹی کا حصہ نواسوں اور داماد کو دیا جا سکتا ہے؟
85121میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میں نے اپنی بیٹی سے کہا تھا کہ میں اپنی وراثت میں سے شرعاً جو بھی حصہ آپ کا بنتا ہے، وہ دوں گا۔ تاہم، میری بیٹی کا مورخہ ۲۱/۸/۲۶ کو انتقال ہو گیا۔ وہ شادی شدہ تھی اور تین بچوں کی ماں تھی۔ تو کیا شریعت کے مطابق میری بیٹی کا حصہ اس کے شوہر اور بچوں کو مل سکتا ہے؟   

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زندگی میں اولاد کو کچھ دینا شرعاً "وراثت" میں شمار نہیں ہوتا، بلکہ اسے "ہبہ" یا تحفہ کہا جاتا ہے۔ لہذا، جو وعدہ آپ نے اپنی بیٹی سے کیا تھا، وہ ہبہ کا وعدہ تھا، نہ کہ میراث کا۔ چونکہ آپ نے وعدے کے مطابق اس کی زندگی میں اسےعملاہبہ دیکراس پر قبضہ نہیں کرایا تھا اور وہ انتقال کر گئی، تو اب اس کے شوہر اور بیٹے شرعاً اس ہبہ کے مستحق نہیں ہیں۔ تاہم، اگر آپ اپنی زندگی میں اپنی بیٹی کے بچوں یا داماد کو کچھ دینا چاہتے ہیں تو آپ ہبہ (تحفہ) کے طور پر دے سکتے ہیں۔ شرعاً یہ ممنوع نہیں، بلکہ اچھی بات ہے۔ لیکن اسے وراثت کا حصہ شمار نہیں کیا جائے گا، کیونکہ وراثت شریعت میں والدین کی وفات کے بعد تقسیم ہوتی ہے اور اس کے مستحق زندہ ورثاء ہوتے ہیں۔

حوالہ جات

وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (5 / 690):

(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (قوله: بالقبض) فيشترط القبض قبل الموت.

وفی شرح المجلة لسليم رستم باز( المادة 837،ص:462):

تنعقدالهبة بالإيجاب والقبول،وتتم بالقبض الكامل ؛لأنهامن التبرعات ،والتبرع لا يتم إلا بالقبض.

بحوث قضایا فقهیه معاصرة:78و79/1

حق الوراثة فی حیاة المورث لایجوز التنازل عنه بمال ،لان حق الوراثة فی حیاة المورث لیس حقاً ثابتا ،بل هو حق متوقع یحتمل الثبوت وعدمه،وانما یتقرر بموت المورث.

المبسوط للسرخسي - (11 / 43)

لِأَنَّ بَقَاءَ الْوَارِثِ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ شَرْطٌ لِوِرَاثَتِهِ عَنْهُ فَإِنَّ الْوِرَاثَةَ خِلَافَةٌ، وَالْحَيُّ يَخْلُفُ الْمَيِّتَ، فَأَمَّا الْمَيِّتُ فَلَا يَخْلُفُ الْمَيِّتَ

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (6 / 687)

(قَوْلُهُ إنَّمَا يَكُونُ بَعْدَ الْمَوْتِ) لِأَنَّ كَوْنَهُمْ وَرَثَةً لَا يَتَحَقَّقُ إلَّا بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ

البحر الرائق، دارالكتاب الاسلامي - (8 / 577)

 وَشَرْطُهُ وَهُوَ حَيَاةُ الْوَارِثِ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرَّثِ وَلَمْ يَثْبُتْ ذَلِكَ فَلَا يَرِثُ بِالشَّكّ…………………

قال الله تعالیٰ فی قرآن المجید:

{وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا } [النساء : 8]

تفسير القرطبي - (5 / 48)

بين الله تعالى أن من لم يستحق شيئا إرثا وحضر القسمة وكان من الأقارب أو اليتامى والفقراء الذين لا يرثون أن يكرموا ولا يحرموا إن كان المال كثيرا والاعتذار إليهم إن كان عقارا أو قليلا لا يقبل الرضخ.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

22/4/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب