| 85017 | طلاق کے احکام | عدت کا بیان |
سوال
ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے ۔ایک لڑکے کی شادی 10 ماہ پہلے ہوئی تھی اس وقت سے اب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان کوئی تعلق قائم نہیں ہوا ،لڑکی کسی صورت تیار نہیں تھی۔ لڑکے نے سمجھایا لیکن بات نہیں بنی ۔لڑکے نے اس کے والدین سے بھی اس بارے میں بات کی لیکن ان کو سمجھ نہیں آیا۔ اس لڑکی نےبیرون ملک پڑھنے کے لیےجانا تھا اور پھر وہ چلی گئی لڑکے کو بتائے بغیر۔ وہ ایک خط دے کر لڑکے کو گئی کہ آپ مجھے طلاق دے دیجئے گا ۔۔۔۔اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ ملک سے باہر جا چکی ہے۔ اور وہ 3 ۔ 4 سال سےپہلے واپس نہیں آئیں گی اور آبھی گئیں تو یہ تعلق نہیں رکھیں گی ۔اب اگر وہ لڑکا طلاق دے دیتا ہے اس کو اور قانونی کاروائی کر کے بھیج دیتا ہے تو لڑکی کی عدت کا سلسلہ کیا ہوگا؟ وہ بیرون ملک میں عدت پوری کریں گی ؟اگر وہ وہاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں تو کیا سلسلہ ہوگا ؟اگر نوکری کر رہی ہیں تو اسکا سلسلہ کیا ہوگا ؟اب واپس پاکستان آکر عدت پوری کر کے جانا تو ناممکن ہے ۔لڑکے کے گھر والوں کا کہنا ہے بہت وقت دے دیا ہے 10 ماہ کم نہیں ہوتے جس لڑکی نے دس ماہ میں ہاتھ نہیں پکڑنے دیا اب وہ جو چاہے کرے اس کو طلاق دو ۔اس معاملہ میں رہنمائی فرما دیں ۔جزاک اللہ۔
سائل سے تنقیح کے بعد واضح ہوا :
کہ رخصتی ہو چکی ہے اور میاں بیوی کو ایسی تنہائی بھی مل چکی ہے کہ اگر وہ ہمبستری کرنا چاہتے تو کوئی رکاوٹ بھی نہیں تھی ۔لڑکی نے یہ کہہ کر خاوند کو قریب نہیں آنے دیا کہ شادی کا یہی مقصد نہیں ہوتا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نکاح اور رخصتی ہوجانے کے باوجود بھی شوہر کے کہنے پر ہمبستری سے انکار کرنا بہت بڑا گناہ ہے ۔پھر شوہر کی اجازت کے بغیر ملک سے باہر چلے جانا ایک اوربڑا گناہ ہے ۔حضور ﷺنے ایسی عورت کے بارے میں سخت وعید یں بیان کی ہیں ۔لڑکی کو چاہیے کہ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوکراپنے شوہر اور اللہ سے معافی مانگے ۔لڑکی اگر راضی نہیں تھی تو اس کی شادی یہاں نہیں کرنی چاہیے تھی ۔اس مسئلہ میں تین سوالات ہیں جن کے جوابات درج ذیل ہیں ۔
1) طلاق دینے کی صورت میں عدت واجب ہوگی ۔اس لیے کہ اگرچہ ہمبستری نہیں ہوئی، لیکن ایسی تنہائی ان دونوں کو مل چکی ہے کہ اگر ہمبستری کرنا چاہتے تو کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔
2) عدت شوہر کے گھر میں گزارنا ضروری ہے ، اس لیے طلاق کے بعدیا طلاق سے پہلے کسی طرح پاکستان واپس آجائےاور شوہر کے گھر میں عدت پوری کرکے واپس چلی جائے۔لیکن اگر پاکستان آنا ممکن نہیں اور وہاں رہائش کا بند و بست بھی ہے تو وہیں اپنی رہائش گاہ میں عدت پوری کرے ۔
3) عدت کے دوران گھر سے باہر جانے کی شرعاً بالکل بھی اجازت نہیں ہوتی ، البتہ کسی شدید ضرورت کی وجہ سےصرف دن کے وقت باہر جا سکتی ہے اور رات کو اپنے گھر واپس آنا ضروری ہے ۔ مثلاً گھر والے اگر خرچہ نہیں دے رہے تو کمانے کے لیے صرف دن کے وقت باہر جا سکتی ہے ۔ باقی تعلیم وغیرہ عدت کے بعد شروع کرے ۔ اگر طلاق ہوجاتی ہے اور لڑکی احکام عدت کی پابندی نہیں کرتی تو بھی عدت گزر جائے گی۔
نوٹ:لڑکی نےچونکہ شوہر کی بات نہیں مانی اور اس کی اجازت کے بغیر ملک سے باہر چلی گئی ،اس لیے لڑکی کے اخراجات شوہر کے ذمہ نہیں ہیں ۔
حوالہ جات
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح» . متفق عليه. وفي رواية لهما قال: «والذي نفسي بيده ما من رجل يدعو امرأته إلى فراشه فتأبى عليه إلا كان الذي في السماء ساخطا عليها حتى يرضى عنها»
( مشکاۃ المصابیح :2/ 968)
قال في الفتاوى الهندية: رجل تزوج امرأة نكاحا جائزا ،فطلقها بعد الدخول أو بعد الخلوة الصحيحة كان عليها العدة .كذا في فتاوى قاضي خان. ( الفتاوى الهندية :1/ 516)
قال العلامة الكاساني رحمه الله:فإن كانت معتدة من نكاح صحيح وهي حرة مطلقة بالغة عاقلة مسلمة والحال حال الاختيار فإنها لا تخرج ليلا ولا نهارا سواء كان الطلاق ثلاثا أو بائنا أو رجعيا أما في الطلاق الرجعي فلقوله تعالى {لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} [الطلاق: 1] ...... نهى الله تعالى الأزواج عن الإخراج والمعتدات عن الخروج وقوله تعالى {أسكنوهن من حيث سكنتم} [الطلاق: 6] والأمر بالإسكان نهي عن الإخراج والخروج ولأنها زوجته بعد الطلاق الرجعي لقيام ملك النكاح من كل وجه فلا يباح لها الخروج كما قبل الطلاق إلا أن بعد الطلاق لا يباح لها الخروج وإن أذن لها بالخروج بخلاف ما قبل الطلاق.لأن حرمة الخروج بعد الطلاق لمكان العدة وفي العدة حق الله تعالى فلا يملك إبطاله بخلاف ما قبل الطلاق؛ لأن الحرمة ثمة لحق الزوج خاصة فيملك إبطال حق نفسه بالإذن بالخروج، ولأن الزوج يحتاج إلى تحصين مائه والمنع من الخروج طريق التحصين للماء؛ لأن الخروج يريب الزوج أنه وطئها غيره فيشتبه النسب إذا حبلت. (بدائع الصنائع :3/ 305)
قال العلامة الكاساني رحمه الله:ولهذا قال أصحابنا إنها إذا زارت أهلها فطلقها زوجها كان عليها أن تعود إلى منزلها الذي كانت تسكن فيه فتعتد ثمة.(بدائع الصنائع :3/ 305)
قال في الفتاوى الهندية: وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله، والناشزة :هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه ،بخلاف ما لو امتنعت عن التمكن في بيت الزوج ؛لأن الاحتباس قائم حتى، ولو كان المنزل ملكها فمنعته من الدخول عليها لا نفقة لها، إلا أن تكون سألته أن يحولها إلى منزله أو يكتري لها منزلا، وإذا تركت النشوز فلها النفقة . ( الفتاوى الهندية :1/ 545)
حماد الرحمن بن سیف الرحمن
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
۱۶ ربیع الثانی ۱۴۴۶ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الرحمن بن سیف الرحمن | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


