| 85060 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
السلام علیکم !سالوں پہلے میرے شوہر نے( ایس ایم ایس) میں صرف یہ الفاظ لکھے تھے: "طلاق طلاق طلاق" یو پاس آئی فیل، ( زبان سے ادا نہیں کیے)بعدمیں کہا کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی۔ میں نے کہا کہ اب پہلے پتہ کراؤ کہ کیا حکم ہے؟اس وقت میں دوسرے شہر میں تھی،انہوں نے جا کر مفتی سے معلوم کیا، مفتی صاحب نے بتایا کہ طلاق نہیں ہوئی ہے۔اس کےبعد میں نے خود ایک دیوبند کے مفتی سے رابطہ کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر نیت طلاق کی تکرار کی نہیں تھی تو طلاق نہیں ہوئی اور اگر نیت تھی تو پھر طلاق رجعی ہوگئی ہے۔
اب میرے دل میں وسوسے آتے ہیں کہ یہ رشتہ صحیح نہیں ہے، جبکہ شوہر کا یہی کہنا ہے کہ میری کوئی نیت نہیں تھی۔ میرے پاس ان مفتی صاحب کا جواب موجود ہے، لیکن میں وسوسے سے پریشان ہو ں۔براہ کرم میری اس پریشانی کو دور کر دیں، میں ذہنی طور پر بہت پریشان ہوں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طلاق جس طرح زبان سے ادا کرنے سے واقع ہو تی ہے ایسے ہی خط یا ایس ایم ایس بھیجنے سے بھی واقع ہوجاتی ہے۔صورت مسئولہ میں چونکہ شوہر نے ایس ایم ایس میں تین دفعہ طلاق لکھ کرآپ ہی کو بھیجا ہے، اس لیے تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔لہذا اب دونوں کا میاں بیوی کی طرح رہنا جائز نہیں اور نہ ہی رجوع یا تجدید نکاح کا حق ہے۔البتہ اگربیوی کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد طلاق ہوجائےیا شوہر فوت ہوجائےتو عدت گزارنے کے بعدپہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔
باقی شوہر کا یہ کہنا کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی،اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے کیونکہ لفظ طلاق صریح ہے اس سےبغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
حوالہ جات
قال العلامة علاؤ الدين الكاساني رحمه اللہ تعالى:وإن كتب كتابة مرسومة على طريق الخطاب والرسالة مثل: أن يكتب أما بعد يا فلانة !فأنت طالق، أو إذا وصل كتابي إليك فأنت طالق يقع به الطلاق، ولو قال: ما أردت به الطلاق أصلا، لا يصدق إلا أن يقول: نويت طلاقا من وثاق، فيصدق فيما بينه وبين الله عز وجل؛ لأن الكتابة المرسومة جارية مجرى الخطاب.(بدائع الصنائع: 3/ 109)
وقال أصحاب الفتاوى الهندية:وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو، ثم المرسومة لا تخلو إما إن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي هذا فأنت طالق، فما لم يجئ إليها الكتاب لا يقع،كذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاوى الهندية:1/ 378)
وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی: (قوله :كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب…وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو، ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق، فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق، كذا في الخلاصة.(رد المحتار:3/ 246)
جنید صلاح الدین
دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
16 /ربیع الثانی 6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جنید صلاح الدین ولد صلاح الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


