| 85061 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
السلام علیکم !میں ڈرائنگ، سکیچنگ اور آرٹ میں بہت اچھا ہوں ،لیکن اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی جاندار کی تصویر بنائی جائے، تو کیا ہم کسی بےجان چیز کی تصویر بناسکتے ہیں ؟ایسے ہی ڈوڈل بھی آرٹ کی ایک قسم ہے تو کیا ڈوڈل آرٹ اور بے جان چیزوں کی آرٹ بناکر ویڈیو یو ٹیوب پر اپلوڈ کرسکتے ہیں؟یا کس حد تک اسلام ڈرائنگ کی اجازت دیتا ہے؟برائے مہربانی رہنمائی فرمادیجیے۔
تنقیح:سائل سے فون پر معلوم ہوا کہ اصل مقصد سوال کا یہ ہے کہ ہاتھ سے کاغذ پر بے جان چیزوں کی آرٹ بناکر اس کی ویڈیو یوٹیوب پر اپلوڈ کرکےپیسے کمانا جائز ہےیانہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اسلام میں کسی بھی ذی روح کی تصویرکاغذ یا اس جیسی دوسری چیزوں پر بنانا حرام اور نا جائز ہے۔حدیث شریف میں اس بارے میں سخت وعید بیان کی گئی ہے۔البتہ بے جان اور غیر ذی روح کی تصویر بنانے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔
ڈوڈل آرٹ میں بھی اسی بات کا خیال رکھا جائے کہ جاندار کی تصویر نہ ہو تو پھر کوئی گناہ نہیں ہےاور اس کی ویڈیو بنا کر بغیر کسی بیک گراؤنڈ میوزک کےیوٹیوب پر اپلوڈ بھی کرسکتے ہیں۔
یوٹیوب چینل سے ملنے والے پیسے دراصل چینل پر اشتہارات چلانے کے ملتے ہیں۔ گوگل چینل مالک سے اس کے چینل پر جگہ اجارے پر لیتا ہے اور اس کی اجرت اسے ادا کرتا ہے۔
اس میں تین طرح کے اشتہارات ہوتے ہیں: تحریری، تصویری اور ویڈیو۔ ان کی کمائی کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
- جس کاروبار کا اشتہار ہے وہ کاروبار بنیادی طور پر جائز ہو۔ لہذا ان کیٹگریز کو فلٹر کر دیا جائے جو شرعاً جائز نہیں ہیں۔
- جس جائز کاروبار کا اشتہار غیر شرعی مواد پر مشتمل ہو،مثلاً نا محرم کی تصاویر وغیرہ ہو تو اس کو بھی بلاک کردیا جائے۔
- گوگل ایڈسینس، یوٹیوب اور چینل کے مالک کے درمیان طے شدہ شرائط پر مکمل عمل کیا جائے اور ایسا کوئی فعل نہ کیا جائے جو معاہدے کے خلاف ہو۔
اس کے با وجودکسی جائز پراڈکٹ کے اشتہار میں اگر گوگل کی طرف سے کوئی ناجائز مواد مثلاً فحش تصویر وغیرہ شامل کر دی جائے اور اس میں چینل کے مالک کی اجازت یا رضامندی شامل نہ ہو تو مالک اس کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ لہذا اگر کیٹگریز فلٹر کرنے کے باوجود کوئی ایسا اشتہار لگ جائے جو کسی ناجائز کاروبار کی جانب لے جا رہا ہو یا ناجائز مواد (مثلاً نامحرم کی تصاویر) پر مشتمل ہو تو اس کا گناہ چینل مالک کو نہیں ہوگا۔ البتہ ایڈ ریویو سینٹر میں اشتہارات کا جائزہ لے کر ناجائز اشتہارات کی آمدن صدقہ کر دی جائے۔
بیک گراؤنڈ میوزک تکنیکی لحاظ سے ویڈیو سے الگ چیز ہے جسے ویڈیو میں خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے ساتھ لگایا جاتا ہے۔ چینل کا مالک گوگل ایڈسینس کو ویڈیو لگانے کے لیے اجارے کے طور پر جگہ دیتا ہے ، بیک گراؤنڈ میوزک لگانے کے لیےنہیں دیتا۔ لہذا اگر اشتہار کا مواد اور بنیادی کاروبار جائز ہو لیکن اس کے بیک گراؤنڈ میں میوزک ہو تو مالک پر لازم ہے کہ اولاً بذریعہ ای میل یا کسی اور طریقے سے صراحتاً گوگل کو میوزک نہ لگانے کا کہے۔ اگر گوگل میوزک نہیں ہٹاتا تو مالک اپنے چینل اور ویڈیوز میں یہ تحریر کر دے کہ اشتہار کی آواز بند کر دی جائے۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص آواز بند نہیں کرتا تو اس کا گناہ مالک کو نہیں ہوگا اور اس کی آمدن جائز ہوگی۔
حوالہ جات
أخرج الامام مسلم النيسابوري رحمه الله تعالى عن ابن عباس رضي الله تعالى عنه قال:جاء رجل إلى ابن عباس فقال:إني رجل أصور هذه الصور، فأفتني فيها،فقال له: ادن مني فدنا منه،ثم قال: ادن مني فدنا، حتى وضع يده على رأسه، قال: أنبئك بما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم،سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول :كل مصور في النار، يجعل له بكل صورة صورها نفسا ،فتعذبه في جهنم.وقال: إن كنت لابد فاعلا، فاصنع الشجر وما لا نفس له.)صحيح مسلم:3/ 1670: (2110
قال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی: قال في البحر: وفي الخلاصة :وتكره التصاوير على الثوب صلى فيه أو لا انتهى، وهذه الكراهة تحريمية. وظاهر كلام النووي في شرح مسلم :الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها ،فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع، أو قطعية الدليل بتواتره.(رد المحتار:1/ 647)
وقال العلامۃ السرخسي رحمہ اللہ تعالی:إنما المكروه تمثال ذي الروح، هكذا روي عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهماأنه نهى مصورا عن التصوير فقال: كيف أصنع وهو كسبي؟ قال: إن لم يكن بد فعليك بتمثال الأشجار، وإن عليارضي الله تعالى عنه قال :من صور تمثال ذي الروح كلف يوم القيامة أن ينفخ فيه الروح،وليس بنافخ .(المبسوط:1/ 210)
وقال العلامۃ الکاسانی رحمہ اللہ تعالی :فأما صورة ما لا حياة له كالشجر ونحو ذلك فلا يوجب الكراهة؛ لأن عبدة الصور لا يعبدون تمثال ما ليس بذي روح، فلا يحصل التشبه بهم، وكذا النهي إنما جاء عن تصوير ذي الروح لما روي عن علي رضي الله عنه أنه قال: من صور تمثال ذي الروح كلف يوم القيامة أن ينفخ فيه الروح، وليس بنافخ. فأما لا نهي عن تصوير ما لا روح له؛ لما روي عن ابن عباس رضي الله عنهما أنه نهى مصورا عن التصوير، فقال: كيف أصنع وهو كسبي؟ فقال: إن لم يكن بد فعليك بتمثال الأشجار.(بدائع الصنائع:1/ 116)
وقال أصحاب الفتاوی الھندیۃ:وإذا استأجر الذمي من المسلم دارا يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم في ذلك بأس؛ لأن المسلم لا يؤاجرها لذلك، إنما آجرها للسكنى. كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية:4/ 450)
وقال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى(و) جاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) أي قراها (لا بغيرها على الأصح).
وقال العلامۃ ابن العابدین رحمہ اللہ تعالی: (قوله وجاز إجارة بيت إلخ) هذا عنده أيضا؛ لأن الإجارة على منفعة البيت، ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار، فينقطع نسبيته عنه.( رد المحتار: 6/ 392)
وقال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى: (لا تصح الإجارة ...)(و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي) .( ردالمحتار: 6/ 55)
وقال أصحاب الفتاوی الھندیۃ:ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل وشيء من اللهو.( الفتاوى الهندية:4/ 449)
(ماخذہ،التبویب:فتوی نمبر:81520)
جنید صلاح الدین
دار الافتاءجامعۃ الرشید،کراچی
/16ربیع الثانی 6144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | جنید صلاح الدین ولد صلاح الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


