03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نقل منیع کی ذمہ داری
85190خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

اگرمبیع گاڑی کے ذریعے پہنچائی جائے تو کرایہ کس کے ذمہ ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اصل قاعدہ تو یہ ہے کہ  مبیع  خریدار کے گھر تک پہنچانا بائع کے ذمہ نہیں ہے،لہذا گاڑی کا کرایہ بھی بائع کے ذمہ نہیں ہوگا،بلکہ خریدار کے ذمہ ہوگا۔لیکن جہاں اس چیز کی عادت ہوجائے کہ بائع خریدار کے گھر تک  مبیع پہنچاتا ہے اور کرایہ بھی بائع ادا کرتا ہے تو پھراس رواج کی وجہ سےکرایہ بائع کے ذمہ ہوگا۔

حوالہ جات

وفيما إذا شرط عليه الحمل إلى منزله، فإن البيع يفسد اشتراه في المصر أو خارج المصر اشتراه بجنسه وبخلاف جنسه؛ لأنه شرط في البيع ما لا يقتضيه البيع؛ لأن حمل البائع المبيع إلى منزل المشتري ليس من قضايا البيع.ألا ترى أن بدون الشرط لا يوجب لى البائع الحمل إلى منزل المشتري؟ وإنما يجب عليه التسليم في مكان العقد إذا كان المبيع فيه.( المحيط البرهاني:6/402)

والأحكام تبتنى على العرف، فيعتبر في كل إقليم وفي كل عصر عرف أهله.( البحر الرائق:5/188)

فقال: اتفق مشايخنا في هذا الزمان فجعلوه بيعا جائزا مفيدا، بعض أحكامه وهو الانتفاع به دون البعض وهو البيع لحاجة الناس إليه ولتعاملهم فيه، والقواعد قد تترك بالتعامل وجوز الاستصناع لذلك وقال صاحب النهاية وعليه الفتوى.(تبيين الحقائق:5/184)

(امداد الفتاویٰ :3/23)

محمد علی

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

16/ربیع الثانی1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد علی ولد محمد عبداللہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب