03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹے کو میراث سےحصہ نہ لینے کی شرط پر ہبہ کرنا
85107ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

اگرکوئی باپ اپنے بیٹے کو زمین، نقدی، سازوسامان وغیرہ مع قبضہ دے۔ مگر شرط رکھے کہ والد کی وفات کے بعد یہ بیٹا اپنے دیگر بہن بھائی سے وراثت کا تقاضہ نہیں کرے گا۔ ایسے میں کیا وراثت ادا ہوئی یا باقی ہے؟

یہی شخص اپنی باقی اولاد میں سے چند کو زمین، مال و اسباب وغیرہ بمعہ  قبضہ دے  مگر وراثت سے محرومی / دستبرداری جیسی کوئی شرط نہ ہو۔ تو اس اولاد کے مال کی کیا حیثیت ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب کوئی شخص اپنے بیٹے کو زندگی میں ہی زمین وغیرہ مع قبضہ دے تو یہ ہبہ   ہونے کی وجہ سےاس کی ملکیت   ہوگی اور جو شرط لگائی    تھی  کہ بیٹا میراث سے حصہ نہیں لےگاوہ کالعدم ہے اور اس کا وراثت میں حصہ باقی ہے،لیکن جب بیٹےکو پتہ ہے کہ اس وقت اس کا لینا اس لیے تھا کہ وہ میراث کا حق چھوڑ نے کے لیے تیار ہوا تھا تو اس کا اخلاقی فر يضہ ہے کہ وہ وراثت سے حصہ نہ لے،تاکہ دیگر ورثہ کی  بھی رعایت ہو  ،تا ہم والد کی وفات کے بعد اگریہ بیٹا میراث سےحصہ مانگتاہےتو اس  کو شرعاًمیراث سے حصہ مل سکتا ہے۔

 اسی طرح دوسری اولاد کو جو زمین وغیرہ مع قبضہ دی ہےتو  وہ ان ہی کی ملکیت ہےاور بعد میں یہ سب بھی میراث میں شریک ہوں گے۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن نجيم رحمه الله :هي تمليك العين بلا عوض...وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم حتى يصح الرجوع والفسخ. (البحر الرائق 7/ 284)

قال العلامة الحصكفي رحمه الله : و في الخانیة: لا بأس بتفضیل بعض الأولاد في المحبة؛ لأنها عمل القلب وکذا في العطایا إن لم یقصد به الإضرار، و إن قصده فسوی بینهم یعطی البنت کالابن عند الثاني، و علیه الفتوی.ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز و أثم.(الدر المختار: 5/ 696)

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله:  وفي جامع الفصولين: ويصح تعليق الهبة بشرط ولو مخالفا تصح الهبة لا الشرط اهـ. وفي حاشيته للخير الرملي: أقول: يؤخذ منه جواب واقعة الفتوى: وهب لزوجته بقرة على أنه إن جاءه أولاد منها تهب البقرة لهم وهو صحة الهبة وبطلان الشرط اهـ. (رد المحتار: 5/ 249)

قال العلامة الحصكفي رحمه الله:  (وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) فله الرجوع والفسخ (و) حكمها (أنها لا تبطل بالشروط الفاسدة) فهبة عبد على أن يعتقه تصح ويبطل الشرط. (رد المحتار:5/ 688)

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله:  الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط. (العقود الدرية: 2/ 26)

محمد مجاہد

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

17ربیع الثانی1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد مجاہد بن شیر حسن

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب