| 85091 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
TVپر جوویڈیو یا شبیہ آتی ہےوہ تصویر کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ سوال کے جواب سے پہلے تصویر کے حوالے سےچند بنیادی باتیں سمجھ لیں کہ کپڑے اور کاغذ پر بنی ہوئی تصویر یعنی ایسی تصویر جو سایہ دار نہ ہووہ بھی قطعی یا اجماعی طور پر حرام نہیں،اگرچہ جمہور فقہاء کا مذہب اس کے عدم جواز ہی کا ہے،لیکن بعض معتبر فقہاء اور محدثین بلکہ تابعین رحمہم اللہ اس کے جواز کے قائل ہیں،جن میں مدینہ منورہ کے مشہور فقہاء سبعہ میں سے قاسم بن محمد رحمہ اللہ بھی شامل ہیں۔
اس کے بعد ہاتھ کی تصویر کے علاوہ کیمرہ سے بنائی گئی تصویر(ڈیجیٹل تصویر) میں ایک دوسرا علمی اختلاف موجود ہے کہ یہ شکل کی ایجاد ہےیا پہلے سے موجود شعاعوں کو مرتکز کرکے یکجا جمع کرنے کی صورت ہے؟پھر اس کے بعد ڈیجیٹل تصویر میں ایک اور جہت سے بھی علمی اختلاف ہے کہ چونکہ اس کو کسی مادی چیز پر استقراریعنی ٹک جانے کی کیفیت حاصل نہیں تو یہ ہاتھ سے بنی ہوئی تصویر کے حکم میں ہوگی یا شیشے کے عکس کے حکم میں؟ لہٰذا جب ڈیجیٹل تصویر کے حوالے سے مختلف درجات میں علمی و فقہی اختلاف موجود ہےتواس کے بعد اس کوقطعی حرام تصویر میں شامل کرنا کسی بھی طرح سےدرست معلوم نہیں ہوتا،نیز ڈیجیٹل تصویر کو جائز قرار دینے میں اگرچہ کچھ مفاسد نے جنم لیا ہے،لیکن موجودہ دور میں اس کے استعمال کو ترک کرنے میں بھی دینی اور دنیوی حرج لازم آتا ہے،کیونکہ ایک ایسے وقت میں جب نہ صرف عالمی،بلکہ ملکی ذرائع ابلاغ بھی دین اسلام کے مختلف احکامات، مساجدومدارس،مذہبی اداروں،مذہبی جماعتوں اوراہل دین کے خلاف پروپیگنڈے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے،یورپ کی الحاد و تحریف سے بھرپور منڈیوں سے درآمد شدہ تجدد پسند اسکالرز اور ان کے ہمنوا، ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر جس طرح اپنے زہریلے افکار و نظریات کا پرچارکرتےہیں اور دینی شعائر کا مذاق اڑاتے ہیں،ایسے حالات میں ان باطل پرستوں کے پروپیگنڈوں اور ان کی ریشہ دوانیوں کی بیخ کنی کے لیے وہی ہتھیار اور وسائل زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں،جنہیں اہل باطل اور ان کے ہمنواؤں کی جانب سےبھرپور طریقےسےاستعمال کیا جارہا ہے۔
اس تمہید کے بعدآپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ ڈیجیٹل تصویر کے بارے میں علمائے کرام کی تین آراء ہیں:
- ڈیجیٹل تصویر ناجائز تصویر کے حکم میں داخل نہیں ،بلکہ پانی یا آئینہ میں دکھائی دینے والے عکس کی مانند ہے،لہٰذا جس چیز کا عکس دیکھنا جائز ہے اس کی ویڈیو یا تصویر بنانا اور دیکھنا بھی جائز ہےاور جس چیز کا عکس دیکھنا جائز نہیں اس کی ویڈیو یا تصویر بنانا اور دیکھنا بھی جائز نہیں۔
- ڈیجیٹل تصویر کا بھی وہی حکم ہے جو عام پرنٹ شدہ تصویر کا ہے ،لہذا صرف ضرورت کے وقت گنجائش ہے ۔
- ڈیجیٹل تصویر بھی اگرچہ اپنی حقیقت کے لحاظ سے تصویر ہی ہے،البتہ اس کے تصویر ہونے یا نہ ہونے میں چونکہ ایک سے زیادہ فقہی آراء موجود ہیں،اس لیے صرف شرعی ضرورت جیساکہ دین اسلام کے خلاف پروپیگنڈوں سے دفاع اور صحیح دینی معلومات کی فراہمی کی خاطر یا اس کے علاوہ کسی واقعی اورمعتبردینی یادنیوی مصلحت کی خاطر ایسی چیزوں اور مناظر کی تصویر اور ویڈیو بنانے کی گنجائش ہے،جن میں تصویر ہونے کے علاوہ کوئی اور حرام پہلو مثلا عریانیت،موسیقی یا غیرمحرم کی تصاویر وغیرہ نہ ہوں۔
ایسی صورت حال میں عوام کے لئے یہ حکم ہےکہ عام مسائل میں جن مفتیان کرام کے علم وتقوی پر اعتما د کرتے ہیں،اس مسئلے میں بھی انہی کی رائے پر عمل کریں اور اس طرح کے مختلف فیہ مسائل کو آپس میں اختلاف و انتشار کی بنیاد بنانے سے گریز کریں،بہرحال احتیاط دوسری رائے پر عمل کرنے میں ہے،جبکہ ہمارے نزدیک تیسری رائے راجح ہے۔(ماخوذ از تبویب)
حوالہ جات
"المدونة "(1/ 182)
"قال ابن القاسم: وسألت مالكا عن التماثيل وتكون في الأسرة والقباب والمنار وما أشبهها؟ قال: هذا مكروه وقال لأن هذه خلقت خلقا، قال: وما كان من الثياب والبسط والوسائد فإن هذا يمتهن، قال: وقد كان أبو سلمة بن عبد الرحمن يقول ما كان يمتهن فلا بأس به وأرجو أن يكون خفيفا ومن تركه غير محرم له فهو أحب إلي".
"حاشية الصاوي على الشرح الصغير " (2/ 501)
"والحاصل أن تصاوير الحيوانات تحرم إجماعا إن كانت كاملة لها ظل مما يطول استمراره، بخلاف ناقص عضو لا يعيش به لو كان حيوانا، وبخلاف ما لا ظل له كنقش في ورق أو جدار. وفيما لا يطول استمراره خلاف". "الذخيرة للقرافي "(13/ 285): "والمحرم من ذلك بإجماع ماله ظل قائم على صفة ما يحيى من الحيوان وما سوى ذلك من الرسوم في الحيطان والرقوم في الستور التي تنشر أو البسط التي تفرش أو الوسائد التي يرتفق بها مكروهة وليس بحرام في صحيح الأقوال لتعارض الآثار والتعارض شبهة".
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۱۷.ربیع الثانی۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


