| 85008 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام! اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے محلہ میں ایک میت کمیٹی قائم ہے، جو اہل میت اور ان کےمہمانوں کے لیے تین دن تک کھانے کا انتظام کرتی ہے، جس کا طریقہ کار کچھ ایسا ہے کہ تین دن کےتمام اخراجات ایک فردکرتا ہے، پھران اخراجات کی قیمت کمیٹی کے تمام شرکاء غریب امیر پر برابر تقسیم کر کےاُسےواپس کی جاتی ہے۔
اس میں ایک بات یہ بھی ہےکہ جس گھر میں کھانا تیار کیاجاتا ہے اس گھر کےافراد اور خدمت کرنےوالےدیگرمرد وخواتین بھی تین دن اسی کمیٹی کے کھانے سے کھاتے ہیں، حالانکہ اس میں دوسرے شرکاء کی طیب نفس نہیں ہوتی۔
اس کے علاوہ اکثر شرکاء بلکہ کم آمدنی والے شرکاء کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اس کمیٹی سسٹم کو تین دن کے بجائے تین اوقات کے کھانے تک محدود کیا جائے، لیکن کمیٹی کے بعض لوگوں کو تین دن کے کھانے پر اصرار ہے، ان کا کہنا ہے کہ تین دن تک میت کے گھر چولہا جلانا نا جائز ہے۔
1. کیا اہل محلہ کی طرف سے تین دن اہل میت اور ان کے مہمانوں کو کھانا کھلانا ضروری ہے؟ تین اوقات کے کھانا کھلانے پر اکتفا نہیں کیا جا سکتا ؟ کیا واقعتًا میت کے گھرتین دن چولہا جلانا نا جائز ہے ؟
2. کیامیت کمیٹی کا مذکورہ طریقہ کار درست اور شریعت کی تعلیمات کے مطابق ہے؟
3. کیامشترکہ میت کمیٹی کے کھانے سے جس گھر میں کھانا تیار کیا جاتا ہے اس گھر کے افراد کے لیے،کھانا بنانے والوں اور کھلانے والوں کے لیے خود اس کھانے سے کھانا جائز ہے؟ جبکہ دیگر شرکاء کی طرف سے صراحتاً اس کی اجازت نہ ہو ؟
بینوا توجروا۔ جزاکم اللہ خیرا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کےساتھ تعاون کرنا، تکلیف کے وقت اس کاساتھ دینا اور اس کا غم ہلکا کرنا مکارم اخلاق میں سے ہے، شریعت میں اس کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے، البتہ غیر شرعی کاموں میں مسلمانوں کا آپس میں باہمی تعاون وتناصر جائز نہیں۔ سوال میں ذکرکردہ کمیٹیوں کےطریق کار میں رسوم وبدعات اور دیگرغیرشرعی امور پائےجارہےہیں، جس کی وجہ سےیہ جائز نہیں، البتہ اس قسم کی کمیٹیوں میں درج ذیل بنیادی امور کالحاظ ہوتو وہ جائز ہوسکتی ہیں:
- کھانا صرف میت کے گھر والوں یا زیادہ سے زیادہ دور سے آنے والوں اور خدمت کرنے والوں کے لیے ہو۔ پورے محلے اور کمیٹی والوں کا کھانا درست نہیں۔
- کھانے کا انتظام دعوت کی شکل میں نہ ہو، اس میں تکلفات، بے جا اسراف اور فضول خرچی سے احترازاہو۔
- رقم بطور صدقہ جمع کرائی جائے۔
- مقدار طے نہ کی جائے، جو جتنا دے سکےلے لیا جائے۔
- انتقال کے دن کے لیے ہو، تاہم اگر صدمہ زیادہ ہو تو صرف میت کے اہل وعیال کے لیے ایک آدھا دن اور بھی کرسکتے ہیں۔
شرائط کی پابندی ہو تو میت کمیٹیوں کااس طرح باہمی تعاون و تناصر پر مبنی خدمات سرانجام دینا جائز ہے۔
جہاں تک میت کے اہل خانہ کو کھلانےکا تعلق ہے تو اس میں شریعت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ میت کے اہلِ خانہ چونکہ اس وقت صدمے سے نڈھال ہونے اور تجہیز وتکفین میں مصروف ہونے کی وجہ سے کھانا پکانے کا انتظام نہیں کرپاتے، اس لیےمیت کے رشتہ داروں اور پڑوسیوں پرمیت کے اہلِ خانہ کےلیےایک دن اور ایک رات کےکھانے کا انتظام کرناشرعًامستحب ہےاورحسبِ ضرورت اس سےزیادہ تین اوقات یادوتین دن تک کا انتظام کرنابھی جائز ہے، البتہ اتنےدور سےآئے ہوئےمہمانوں کوکھانا کھلانےکی گنجائش ہے، جواسی دن دوبارہ اپنےگھروں تک نہ پہنچ پاتے ہوں، اس کے علاوہ آس پاس کے باقی لوگوں کو کھلاناسنت سے ثابت نہیں، بلکہ اس میں بہت خرابیاں ہیں، لہذا اس سے احتراز لازم ہے۔
تین دن تک دینا لازم نہیں اور نہ ہی اہل میت کا اپنے گھر خود کھانے کا انتظام کرنا مکروہ یا ناجائز ہے، اگر چاہیں تو اہل میت خود بھی کھانا بنا سکتے ہیں۔
مشترکہ میت کمیٹی کے کھانے سے میت کے اہل خانہ اور دور سے آنے والے مہمانوں کے علاوہ کھانا پکانے والوں اورخدمت کرنے والوں کوعمومًاشرکاءکی طرف سےاجازت ہوتی ہے، لہذا ان کےلیے اس سے کھانا جائز ہے، جبکہ جس گھر میں کھانا تیار کیا جاتا ہے، اس گھر کےدیگرافراد کے لیے کھاناجائز نہیں۔
حوالہ جات
قال الله تعالى: ((وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ)) [المائدة: 2]
وأخرج الإمام البخاري رحمه الله تعالى: عن أبي موسى رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «المؤمن للمؤمن كالبنيان، يشد بعضه بعضا وشبك بين أصابعه». (صحيح البخاري (3/129)
وأخرج الإمام أبو داود من حديث ابن عباس رضي الله عنهما يقول: «إن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن طعام المتبارئين أن يؤكل». (سنن أبي داود: 3/ 344 : 3754)
وأخرج الإمام الترمذي رحمه الله تعالى: من حديث عبد الله بن جعفر قال: لما جاء نعي جعفر قال النبي صلى الله عليه وسلم: «اصنعوا لأهل جعفر طعاما، فإنه قد جاءهم ما يشغلهم». وقال: هذا حديث حسن. (جامع الترمذي: 2/312: 998)
وقال العلامة ملا علي القاري رحمه الله تعالى: قال الطيبي: دل على أنه يستحب للأقارب والجيران تهيئة طعام لأهل الميت. اهـ. والمراد طعام يشبعهم يومهم وليلتهم، فإن الغالب أن الحزن الشاغل عن تناول الطعام لا يستمر أكثر من يوم، وقيل: يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية.
(مرقاة المفاتيح: 3/ 1241)
وقال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى: قوله : (وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح: ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم» حسنه الترمذي وصححه الحاكم. ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل؛ لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون. اهـ. (رد المحتار : 2/ 240)
وقال العلامة الحصكفي رحمه الله تعالى: وفيها عن أبي جعفر: أوصى باتخاذ الطعام بعد موته، ويطعم الذين يحضرون التعزية جاز من الثلث، ويحل لمن طال مقامه ومسافته، لا لمن لم يطل. (الدر المختار : 6/ 665)
وقال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى: وتفسير طول المسافةأن لا يبيتوا في منازلهم. ظهيرية. والمراد أن لا يمكنهم المبيت فيها لو أرادوا الرجوع إليها في ذلك اليوم. ( رد المحتار : 6/ 665)
وقال العلامة ابن الهمام رحمه الله تعالى: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة. (فتح القدير: 2/ 142)
وأخرج الإمام أحمد رحمه الله تعالى: عن أبي حرة الرقاشي عن عمه رضي الله عنه قال: کنت آخذاً بزمام ناقة رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه و سلم في أوسط أیام التشریق أذود عنه الناس، فقال: «یا أیها الناس! ألا لاتظلموا ، ألا لاتظلموا، ألا لاتظلموا، إنه لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه». (مسند أحمد :34/ 299: 20695)
وقال العلامة خواجه أمين رحمه الله تعالى: كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء، أي أنه يتصرف كما يريد باختياره، أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد، هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير.(درر الحكام: 3/201)
راز محمد
دار الافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
13 ربیع الثانی 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رازمحمدولداخترمحمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


