03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میں طللاق دیتا ہوں تین مرتبہ کہنے کاحکم
88808طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا میں طلاق دیتا ہوں، میں طلاق دیتا ہوں، میں طلاق دیتا ہوں، اور پھر کہا یہ مجھ پر حرام ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور کے "میں اپنی زوجہ کو طلاق دیتا ہوں" کے الفاظ تین مرتبہ کہنے سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، لہذا اب اسی حالت میں  رجوع اور فریقین کے درمیان  دوبارہ نکاح بھی شرعاً نہیں ہو سکتا، البتہ اگر عورت عدت گزارنے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ اس کے ساتھ ہمبستری بھی کرے،  پھر وہ شخص اپنی مرضی سے طلاق دیدے یا وہ فوت ہو جائے تو اس صورت میں اس شخص کی عدت گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ کسی صورت میں ان کا اکٹھا رہنا جائز نہیں، اس پر کئی احادیث دلالت کرتی ہیں، اسی لیے اس مسئلہ پر فقہائے حنفیہ ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ سب کا اتفاق ہے۔     

حوالہ جات

صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:

حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»

صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5264) دار طوق النجاة:

وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.

سنن أبي داود (2/ 259) المكتبة العصرية، صيدا – بيروت:

حدثنا أحمد بن محمد المروزي، حدثني علي بن حسين بن واقد، عن أبيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس قال: {والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء، ولا يحل لهن

أن يكتمن ما خلق الله في أرحامهن} [البقرة: 228] الآية، " وذلك أن الرجل كان إذا طلق امرأته، فهو أحق برجعتها، وإن طلقها ثلاثا، فنسخ ذلك، وقال: {الطلاق مرتان} [البقرة: 229]

الفتاوى الهندية (1 / 473) دار الفكر، بیروت:

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

29/ربیع الثانی1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب