03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جس چیز کو خریدار نے دیکھا نہ ہو اس کی خریداری کا حکم
85145خرید و فروخت کے احکامبغیر دیکھے خریدنے بیچنے کے مسائل

سوال

اگرآن لائن خریدی گئی چیز خریدار کی توقعات کے مطابق نہ ہو تو کیا خریدار کے لیے اسے واپس کرنا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ سوال کااصولی جواب یہ ہے کہ  اگر کوئی شخص ایسی چیز خریدے جسے اس نے خارجی طور پردیکھانہ ہو تواس چیز کو دیکھتے وقت خیار رؤیت حاصل ہوتا ہے،یعنی جس مجلس میں خریدار نے اس چیز کو دیکھا اسی مجلس میں اگر چاہے تو مبیع نہ رکھنے کا اور بائع کو واپس کرنے کا فیصلہ کرکےوہ چیز فروخت کنندہ کو واپس کرسکتا ہے،اگر چہ وہ چیز ان اوصاف کے مطابق ہو جو فروخت کنندہ نے بیان کیے تھے،لہٰذا اگر خریدار کی توقعات کے مطابق نہ ہو تو بطریق اولی واپس کرسکتا ہے،البتہ مذکورہ حکم  ان اشیاء سے متعلق ہے جن کی واپسی میں بائع کا نقصان نہ ہو،اس لیے کہ بعض اشیاء ایسی ہوتی ہیں کہ اگر ان کی پیکنگ کھل جائے تو ان کی قیمت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوجاتی ہے،جیسے موبائل وغیرہ،لہٰذا ایسی اشیاء جن کو خارجی طور پر دیکھنے سے  ان کی قیمت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوجاتی ہے وہ  اگر ان مواصفات کے مطابق ہوں جو فروخت کنندہ نے بیان  کیے تھے توان میں خیار رویت حاصل نہیں ہوگا، نیزیہ حکم اس وقت ہے جبکہ فروخت کنندہ مبیع کی واپسی پر رضامند نہ ہو اور اگر وہ راضی ہو تو  مذکورہ دوسری قسم کی اشیاء واپس کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

حوالہ جات

(فقہ البیوع،ج:۱،ص:۳۷۳)

فإن وجد المبيع مخالفاً للصفات المذكورة في البرنامج، فللمشترى الخيار بالإجماع، ويُسمى "خيار الخلف". أما إذا وجد المبيع موافقاً للصفات المذكورة فلا خيار للمشترى، ولزمه البيع عند مالك والجمهور وقياس قول الإمام أبي حنيفةفي بيع الغائب أن يكون له خيار الرؤية.

١٦٤- بيع العلب المعبأة

وعلى هذا يُخرج بيع الغلب المعبأة في عصرنا، فإن المبيع المقصود من البيع غيرمشاهد فيها، وإنما يشتريها المشترى اعتماداً على ما كتب عليه، أو على ما بينه المشترى شفاهاً. وكذلك البضائع المعبأة في الكراتين لا تشاهد عند البيع، ولكن يُعرف نوعها ووصفها، إما بالإفصاح عنها بالكتابة على الكرتون، وإما بكون اسمها أو علامتها التجارية تنبئ عن هذه الأوصاف. فالظاهر أن حكمه مثل البيع على البرنامج. فإن وجد المشترى ما في الغلبة أو الكرتون مخالفاً للصفات مخالفة جوهرية، فله الخيار بالإجماع. أما إذا وجده موافقاً للصفات، فالبيع لازم عليه عند المالكية والحنابلة والشافعية في وجه، وهو قول محمد بن سيرين، وأيوب، والعنبري، وإسحاق، وأبي ثور، وقياس أصل الإمام أبي حنيفة رحمه الله تعالى أن يثبت له خيار الرؤية، وهو وجه عند الشافعية أيضاً.

ولكن إثبات خيار الرؤية في بيع الغلب المعبأة، بالرغم من كون المبيع موافقاً للصفات التي اتفق عليها المتبايعان فيه ضرر شديد للبائع، لأنه لا يمكنه بيع ذلك الشيئ إلى آخر بعد فتح الغلبة، وتعبئته مرة أخرى من الصعوبة والتكلفة بمكان ومثل هذا الخرج مرفوع في الشريعة الغراء. وفي مثل هذا أفتى علماء مجلة الأحكام العدلية بإلغاء خيار الرؤية في الاستصناع إن أتى الصانع بالمصنوع موافقاً للصفات المتفق عليها. " فالظاهر أن التعليل الذى ألجأ فقهاء المجلة إلى نفي خيار الرؤية في الاستصناع ينطبق تماماً على مثل هذا البيع، والله سبحانه أعلم.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

۲۲.ربیع الثانی۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب