| 85206 | سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان) | متفرّق مسائل |
سوال
ہماری مسجد میں اذان سے پہلے الصلاۃ والسلام پڑھا جاتا ہے۔ ایک دن امام صاحب نے صلوٰۃ نہیں پڑھی، جس پر ایک شخص نے امام صاحب کو برا بھلا کہا اور یہ اعتراض کیا کہ آپ نے صلوٰۃ کیوں نہیں پڑھی۔ امام صاحب نے اس پر کہا کہ اگر ہمیں اس عمل کے بدلے گالیاں ہی سننی ہیں تو ایسی صلوٰۃ کا کیا فائدہ۔ اس کے بعد امام صاحب نے صلوٰۃ کو ترک کر دیا ہے، جس کی وجہ سے بعض نمازی بھی نماز میں نہیں آتے اور ناراض ہیں۔ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ امام صاحب کو کیا کرنا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ فی نفسہ صلوٰۃ و سلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت ہی بہترین عمل اور بہترین عبادت ہے، خوب کثرت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ و پڑھنا چاہیے، مگر اذان سے پہلےمائک پر صلوٰۃ و سلام پڑھنا نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، نہ صحابہٴ کرام اور تابعین سے، نہ ہی ائمہ اربعہ سے اور نہ ہی بزرگان دین سے ثابت ہے، موجودہ رواج جو اذان سے پہلے درود شریف پڑھنے کا ہے، وہ بھی بلند آواز سے اور مائک میں پڑھنا، اور اس كو لازم سمجھنا بدعت ہے ، اس سے کوئی ا جر وثواب نہیں ملے گا، اس کا ترک کرنا لازم ہے۔امام صاحب نے جوکیا صحیح کیا ہے ، ناسمجھ مقتدیوں کو سمجھانے کی کوشش کریں ، نہ سمجھیں تو ان کی وجہ سے دوبارہ بدعت والا عمل شروع نہ کریں ۔
حوالہ جات
حدثنا يعقوب: حدثنا إبراهيم بن سعد، عن أبيه، عن القاسم بن محمد، عن عائشة رضي الله عنها قالت:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه فهو رد).
( صحيح البخاري :كتاب الصلح، باب: إذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود،959/2)
قوله :صلى الله عليه وسلم (من أحدث في أمرنا هذا ماليس منه فهو رد) وفي الرواية الثانية من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد قال أهل العربية الرد هنا بمعنى المردود ومعناه فهو باطل غير معتد به وهذا الحديث قاعدة عظيمة من قواعد الإسلام وهو من جوامع كلمه صلى الله عليه وسلم فإنه صريح في رد كل البدع والمخترعات وفي الرواية الثانية زيادة وهي أنه قد يعاند بعض الفاعلين في بدعة سبق إليها فإذا احتج عليه بالرواية الأولى يقول أنا ما أحدثت شيئا فيحتج عليه بالثانية التي فيها التصريح برد كل المحدثات سواء أحدثها الفاعل أو سبق بإحداثها وفي هذا الحديث دليل لمن يقول من الأصوليين إن النهي يقتضي الفساد ومن قال لا يقتضي الفساد يقول هذا خبر واحد ولا يكفي في إثبات هذه القاعدة المهمة وهذا جواب فاسد وهذا الحديث مما ينبغي حفظه واستعماله في ابطال المنكرات واشاعة الاستدلال به.
(شرح النووي على مسلم :باب نقص الأحكام الباطلة ورد محدثات الأمور،16/12)
حكاه النووي في شرح المهذب لما روي أن عليا رأى مؤذنا يثوب في العشاء فقال أخرجوا هذا المبتدع من المسجد وعن ابن عمر مثله ولحديث الصحيحين من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد.
(البحر الرائق:275/1)
محمد ادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
26 ٖربیع الثانی1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


