| 85850 | نکاح کا بیان | حرمت مصاہرت کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میری شادی کے 6 یا 7 مہینے بعد میرے والد صاحب کا میری بیوی کے ساتھ ناجائز تعلق ہوگیاتھا،میری دو بہنوں نے دیکھا کہ والد صاحب اس کے پستان کو نکال کر دبا رہے تھے، اور دونوں آپس میں چمٹا چمٹی اور کسنگ بھی کر رہے تھے، یہ سب میری بہنوں نے دیکھا، میں نے خود بھی دو بار دیکھا وہ دونوں گھبرا کر دور بیٹھ گئے، اس وقت مجھے بہت غصہ آیا، لیکن میں نے صبر کیا۔ پھر میں نے قریب کی مسجد کے لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نکاح ٹوٹ گیا ہے،میں نے اپنے والد کو بتایا تو وہ گھبرا گئے اور کہا کہ میں مانتا ہوں کہ میں نے یہ حرکت کی ہے، لیکن وہ عمل نہیں کیا جس سے نکاح خراب ہو جاتا ہے، مگر مجھے ان کی بات پر بھروسہ نہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حرمتِ مصاہرت کے ثبوت کے لیے جماع کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ شہوت کے ساتھ بلا حائل چھونے سے بھی حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے۔ لہٰذا مسئولہ صورت میں، جب خاوند اور اس کی بہنوں نے یہ واقعہ دیکھاہے اور والد نے بھی اس حرکت کا اعتراف کیا ہے،صرف زناسے منکرہے، تو اس سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہو چکی ہے، اور بیوی اپنے خاوند پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو چکی ہے، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 274)
وكما تثبت هذه الحرمة بالوطء تثبت بالمس والتقبيل والنظر إلى الفرج بشهوة كذا في الذخيرة سواء كان بنكاح أو ملك أو فجور عندنا كذا في الملتقط۔
الفتاوى البزازية، الباب حرمت عليه امرأته (2/ 7)
وحدّ الشهوة أن يشتهي أن يواقعها ويميل قلبه إليها أما تحرك الآلة أو الانتشار ليس بشرط في الصحيح والدوام على المس ليس بشرط وتقبل الشهادة على الإقرار بالقبلة والمس أما على نفسهما بشهوة اختار الإمام البزدوي أنه يقبل واختار الإمام الفضلي عدم القبول .
الفتاوى الهندية (1/ 275)
ثم المس إنما يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت كذا في الذخيرة۔
حاشية ابن عابدين (3/ 33)
قال في الفتح وثبوت الحرمة بلمسها مشروط بأن يصدقها ويقع في أكبر رأيه صدقها وعلى هذا ينبغي أن يقال في مسه إياها لا تحرم على أبيه وابنه إلا أن يصدقاه أو يغلب على ظنهما صدقه ثم رأيت عن أبي يوسف ما يفيد ذلك اه۔
شرح فتح القدير - (3 / 222)
ثم وجود الشهوة من أحدهما كاف ولم يحدوا الحد المحرم منها في حق الحرمة وأقله تحرك القلب على وجه يشوش الخاطر هذا وثبوت الحرمة بمسها مشروط بأن يصدقها أو يقع في أكبر رأيه صدقها وعلى هذا ينبغي أن يقال في مسه إياها لا تحرم على أبيه وابنه إلا أن يصدقاه أو يغلب على ظنهما صدقه ثم رأيت عن أبي يوسف أنه ذكر في الأمالي ما يفيد ذلك قال امرأة قبلت ابن زوجها وقالت كان عن شهوة إن كذبها الزوج لا يفرق بينهما ولو صدقها وقعت الفرقة.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
13/6/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


